آدھا سٹیڈیم چھوڑ کر جلسہ۔۔ کیا فوادچوہدری کی بات سچ نکلی؟

آدھا سٹیڈیم چھوڑ کر جلسہ۔۔ کیا فوادچوہدری کی بات سچ نکلی؟

آدھا سٹیڈیم چھوڑ کر جلسہ۔۔ کیا فوادچوہدری کی بات سچ نکلی؟

گزشتہ روز فوادچوہدری نے دعویٰ کیا کہ اپوزیشن نے آدھا سٹیڈیم چھوڑ کر سٹیج لگایا جس پر فوادچوہدری کا اپوزیشن رہنماؤں اور حکومت مخالف صحافیوں نے مذاق اڑایا لیکن کیا فوادچوہدری کی بات سچ ہے؟

اپنے ٹوئٹر پیغام میں فوادچوہدری نے کہا کہ اپوزیشن نےگوجرانوالہ اسٹیڈیم بھرنا تھا آدھا اسٹیڈیم چھوڑ کر اسٹیج لگایا، پہلے ہی گنجائش 30 ہزار تھی جو اب 20 ہزار رہ گئی ہے یہ عمران خان ہی تھا جس نے مینارپاکستان کا گراؤنڈ بھی بھر دیا تھا۔ اتنی جماعتیں مل کر بھی ناکامی کے خوف کا شکار ہیں،ان سے مل کربھی اسٹیڈیم کا آدھا بھی نہیں بھرا جانا۔

فوادچوہدری کے اس بیان کے بعد شام کے وقت جلسہ کے فضائی مناظر سامنے آئے جس میں دیکھا جاسکتا ہے کہ بہت بڑی جگہ سٹیج کیلئے چھوڑی گئی ہے۔ نہ صرف سٹیج کا آگے سے کئی فٹ تک فاصلہ چھوڑا بلکہ دائیں ، بائیں اور آگے پیچھے سے بھی چھوڑا گیا۔۔

سٹیج کے ایک طرف دیکھاجاسکتا ہے کہ بڑی تعداد میں گاڑیاں کھڑی ہیں جو ن لیگ، پیپلزپارٹی ، جے یو آئی ف اور دیگر رہنماؤں کی گاڑیاں ہیں جنہیں سیکیورٹی کے پیش نظر اندر آنے کی اجازت دی گئی اور گاڑیوں کی آمدورفت کیلئے ایک سڑک نما حصہ بھی چھوڑا گیا تاکہ گاڑیاں سٹیڈیم کے اندر اور باہر آجاسکیں۔

سٹیج کا ایک حصہ میڈیا کے سازوسامان، ڈی ایس این جیز کیلئے بھی مختص کیا گیا جبکہ سامنے سے جگہ چھوڑی گئی ہے۔ اگر غور کیا جائے تو ایسا لگتا ہے کہ چھوڑی گئی جگہ سٹیڈیم کا آدھا حصہ نہیں ہے بلکہ 25 فیصد حصہ ہے لیکن گاڑیوں کی آمدورفت کیلئے چھوڑا گیا راستہ فوادچوہدری کی اس بات کو کسی حد تک صحیح ثابت کرتا ہے کہ آدھا سٹیڈیم چھوڑ کر جگہ بنائی گئی ہے۔

دوسری جانب فواد چوہدری نے رات 8 بجے جلسہ کے مناظر شئیر کئے اور طنز کیا کہ چنانچہ #کرپشن_بچاو_اپوزیشن_جلسہ بری طرح ناکام ہو چکا ہے، اسٹیڈیم کے انھی حالات کی وجہ سے بلاول، مریم اور فضل الرحمان نے گاڑیوں کو گھوڑا گاڑی بنا لیا ہے اور اسٹیڈیم پہنچنے سے انکار کر دیا ہے۔

اگرچہ اپوزیشن جماعتیں کسی حد تک جلسہ گاہ بھرنے میں کامیاب رہیں لیکن اسکے باوجود کچھ حصے خالی دکھائی دئیے جبکہ سٹیڈیم کی کرسیوں پر کم لوگ بیٹھے دکھائی دئیے۔ اکثریت نے سٹیڈیم کے گراؤنڈ پر ہی آکر کرسیوں پر بیٹھ کر یا کھڑے ہوکر جلسہ دیکھا۔

اس جلسہ سے متعلق مختلف دعوے کئے جارہے ہیں۔ حامد میر کے مطابق جلسہ گاہ میں 60 ہزار کے قریب لوگ تھے، ارشاد بھٹی کے مطابق 10 ہزار، فوادچوہدری کے مطابق 15 سے 18 ہزار، پنجاب حکومت کے ترجمان فیاض الحسن چوہان کے مطابق 8 ہزار تھے جبکہ ن لیگ کا لاکھوں افراد کی موجودگی کا دعویٰ ہے۔

مبصرین نے اس جلسے کو مختلف لحاظ سے کامیاب قرار نہیں دیا ، مبصرین کے مطابق یہ جلسہ 11 جماعتوں کے اتحاد کا جلسہ تھا، ہر جماعت کے لوگوں کو جلسے میں آنا چاہئے تھا۔ دوسرا مبصرین کا کہنا ہے کہ گوجرانوالہ اور اسکے اطراف کے شہر ن لیگ کے گڑھ ہیں، گوجرانوالہ سے ن لیگ قومی اسمبلی کی 7 اور پنجاب اسمبلی کی 14 سیٹیں جیتی ہے جبکہ لاہور، قصور، حافظ آباد، شیخوپورہ، سیالکوٹ، ناروال، وزیرآباد، گجرات سے بھی اچھی خاصی سیٹیں جیتی ہے ، ان ووٹوں کی تعداد کو ملالیا جائے تو 10 لاکھ سے اوپر ووٹ بنتے ہیں۔ ن لیگ ووٹوں کا 10 فیصد تو کیا 5 فیصد بھی نہیں جلسہ میں لاسکی۔

جلسہ کی کامیابی اور ناکامی ایک طرف لیکن یہ جلسہ حکومت کے لئے ویک اپ کال ہے ۔ اس وقت عوام کیلئے سب سے بڑا ایشو مہنگائی ہے ۔ جلسہ کے شرکاء کے خیال میں بھی مہنگائی سب سے بڑا ایشو ہے۔ حکومت کی بقاء مہنگائی کو کنٹرول کرنے میں ہی ہے ورنہ یہ جن آنیوالے دنوں میں حکومت کو نگل سکتا ہے۔

The post آدھا سٹیڈیم چھوڑ کر جلسہ۔۔ کیا فوادچوہدری کی بات سچ نکلی؟ appeared first on Siasat.pk Urdu News – Latest Pakistani News around the clock.

%d bloggers like this: