آپ کے پیاروں میں سے کوئی خود کشی کا تو نہیں سوچ رہا؟ : بات نہیں کہی گئی، بات نہیں سنی گئی

ڈاکٹر نارمن ونسنٹ پیل ایک مجمع سے مخاطب تھے اور انہوں نے حاضرین سے پوچھا کہ آپ میں سےکتنے لوگ مسائل کا شکار ہیں؟ سب نے ہاتھ کھڑے کر دیے۔ انہوں نے دوسرا سوال کیا کہ آپ میں سے کتنے لوگ مسائل سے چھٹکارا پانا چاہتے ہیں؟ سب نے ایک بار پھر ہاتھ کھڑے کر دیے۔ پھر نارمن ونسنٹ پیل نے کہا کہ ابھی آتے ہوئے میں نے راستے میں ایک جگہ دیکھی جہاں سب لوگ آرام کر رہے تھے اور کسی کو کوئی مسئلہ در پیش نہیں تھا اور نہ ہی وہ کوئی شکوہ یا شکایت کر رہے تھے۔ آپ جاننا چاہیں گے کہ اس جگہ کا کیا نام ہے؟ سب کا جواب ہاں تھا۔ تو اس نے بتایا کہ اس جگہ کا نام قبرستان ہے۔ اس نے پھر پوچھا کہ آپ میں سے کون مسائل سے چھٹکارا چاہتا ہے اور پھر کسی نے ہاتھ کھڑے نہ کیے۔ تو ڈاکٹر نارمن پھر گویا ہوئے کہ مسائل زندگی کی علامت ہیں۔

ہمیں زندگی کے ہر موڑ پہ چھوٹے بڑے مسائل کا سامنا رہے گا۔ بعض مسائل حل کرنے کی ہم میں طاقت ہوتی ہے اور بعض کی نہیں۔ اگر مسئلہ قابل حل ہے تو بھی پریشان ہونے کی ضرورت نہیں اور قابل حل نہیں ہے تو بھی پریشان ہونے کا کیا فائدہ۔ مسائل جیسا کہ امتحان میں ناکامی، بیماری، بے روزگاری، کاروباری نقصان، محبوب کا مان جانا یا نا ماننا یہ سب مسائل زندگی کا حصہ بھی ہیں اور علامت بھی۔ جس دن کوئی مسئلہ نہیں ہو گا اس دن قبرستان میں آرام فرما ہوں گے۔

ان سے گھبرانا نہیں چاہئے اور ان کا جوانمردی سے سامنا کرنا چاہیئے۔ کبھی بھی حالات سے گھبرا کر انتہائی قدم نہیں اٹھانا چاہیے۔ میری اس تحریر کا مقصد ان لوگوں کے حوالے سے لکھنا ہے جو کسی بھی وجہ سے خود کشی جیسا انتہائی قدم اٹھانے پہ مجبور ہو جاتے ہیں یا ایسا گھناونا کام کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں ۔جیسا کہ ماضی میں رفیع خاور (ننھا)، منور ظریف، حال میں سشانت سنگھ راجپوت، اور ان کے علاوہ کئی مشاہیر اور بیوروکریٹس (بشمول میرے ایک کورس میٹ) نے بھی یہ انتہائی قدم اٹھایا۔

وکٹر فرینکل بیسویں صدی کے عظیم ماہر نفسیات میں سے ایک ہیں۔ وہ اپنی مشہور کتاب “Man’s search for meaning ” کے حوالے سے خاصے مقبول ہیں۔ وہ لکھتے ہیں کہ ایک دفعہ آدھی رات کو کسی عورت نے اسے فون کیا یہ بتانے کیلئے کہ وہ خود کشی کرنے والی ہے۔ فرینکل نے اسے باتوں میں لگایا اور اسے ایک کے بعد دوسری بات کرتا رہا، زندگی کی نعمتیں گنواتا رہا، اور خود کشی کا ارادہ ترک کرنے پہ مائل کرتا رہا اور آخرکار وہ عورت اپنے ارادے سے باز آئی اور اس نے وعدہ کیا کہ وہ خود کشی نہیں کرے گی۔

کچھ عرصہ بعد فرینکل کی اس عورت سے ملاقات ہوئی اور اس نے پوچھا کہ میری کس بات نے اس رات تمہیں قائل کیا اور خود کشی سے باز رکھا تو اس نے بلا تامل جواب دیا، کوئی بھی نہیں!!!! تو اس نے حیرانی سے پوچھا کہ پھر کس بات نے تمہیں جینے کی طرف مائل کیا؟ اس کا جواب بے حد سادہ تھا۔ اس نے کہا کہ آدھی رات کو تم نے جو میرے غم کی کہانی سنی میں اس جذبے سے بے حد متاثر ھوئی اور اس نتیجے پر پہنچی کہ جس دنیا میں تم جیسے لوگ رہتے ہیں، اس دنیا میں جینا بنتا ہے۔

ایک ہی حادثہ تو ہے اور وہ یہ کہ آج تک
بات نہیں کہی گئی، بات نہیں سنی گئی
میں جو بات اپنے اس مضمون میں شاید ڈھنگ سے نہ کہہ پاؤں لیکن کیا خوبصورتی سے جون ایلیاء صاحب نے ایک شعر میں دریا کو کوزے میں بند کر دیا ہے۔ جب کوئی آپ کو دکھڑے سنا رہا ہو تو سن لیا کریں۔ اگر اس کا مداوا کر سکتے ہیں تو کریں نہیں تو اس شخص کا غم تو ہلکا ۰و جائے گا۔ وہ کہتے ہیں نا کہ خوشیاں بانٹنے سے بڑھتی ہیں اور غم بانٹنے سے کم ہوتے ہیں۔

مجھے ایک روز میرے ایک قریبی دوست کا رات گئے فون آیا اور میں اس وقت اس سے چودہ سو کلومیٹر دور بیٹھا تھا۔ میرا دوست ایک سرکاری افسر ہے، ایک آسودہ زندگی گزار رہا ہے، ایک خدمت کرنے والی وفا شعار بیوی بھی ہے ، بہن بھائی بھی ہیں اور اس کی والدہ بھی حیات ہیں ، مطلب یہ کہ وہ کسی اور کی نظر سے دیکھے تو اس کی زندگی مثالی ھے لیکن وہ شاکی تھا کی اس کی زندگی خالی ہے ۔ لیکن اس نے مجھے یہ بتا کر میری نیند اڑا دی کہ وہ زندگی سے تنگ آ گیا ہے اور خود کشی کرنا چاہتا ہے۔ میں نے اس وقت تک فرینکل وکٹر والا واقعہ نہیں پڑھا تھا۔

خیر میں نے وہی کیا جو کہ ایک دوست کو ایسے موقع پہ کرنا چاہئے تھا۔ میں نے اس سے وجہ پوچھی اس نے ایک کے بعد ایک، وجوہات بیان کرنی شروع کر دیں جو مجھے سننے میں بچگانہ لگیں لیکن یہ بات میں نے اس کے منہ پہ نہیں بولی اور ہاں میں ہاں ملاتا رہا۔ میں نے اسے زندگی کی نعمتوں کے بارے قائل کرنا شروع کیا اور ایک گھنٹہ اس سے بات کی اور صبح 3 بجے کے وقت اس سے وعدہ لیا کہ وہ ایسا کوئی کام نہیں کرے گا۔

وہ تو وعدہ کر کے شاید سو گیا ھو لیکن مجھے صبح تک نیند نہ آئی۔ صبح 6 بجے میں نے اپنے ایک اور مشترکہ دوست کو فون کر کے یہ سب ماجرا سنایا اور اس سے درخواست کی کہ وہ ابھی اس کے گھر جائے اور مجھے اس کی صورتحال سے آگاہ کرے۔ خیر پتا چلا کہ اس سرکاری افسر نے ایسا کچھ نہیں کیا اور وہ ابھی تک زندگی کی نعمتوں سے لطف اندوز ہو رہا ہے۔ شاید اس رات وہ بھی میرے دلائل سے قائل نہیں ہوا ھو گا، شاید اسے بھی میرا رات کے اس پہر اس کی بات سننا اچھا لگا ہو اور وہ ایسا قبیح فعل سر انجام دینے سے باز رہا۔

اشفاق احمد صاحب نے ایک محفل میں سوال کیا کہ آپ سب سے قیمتی تحفہ کسی کو کیا دیتے ہیں۔ کسی نے کچھ جواب دیا اور کسی نے کچھ ۔ تو آخر میں وہ بتاتے ہیں کہ سب سے قیمتی تحفہ آپ کا وقت ہوتا ہے جو آپ کسی کو دیتے ہیں۔ وقت وہ چیز ہے جو پیسے سے نہیں خریدی جا سکتی ۔ وقت انمول ہوتا ہے۔ جو وقت آپ نے کسی کی بات سننے میں یا کوئی بات کہنے میں گزارا وہ دوبارہ نہیں آئے گا۔ آپ نے اپنے وقت کی جائیداد میں اس شخص کو حصہ دار بنایا جو آپ سے ملنے آیا ، یا آپ کسی سے ملنے گئے یا تیمارداری کرنے گئے یا کسی نے اپنے غموں کی پوٹلی آپ کے سامنے کھول دی اور آپ نے اپنا کندھا اور وقت اس کو فراہم کیا۔

تو حاصل مضمون یہ ہے کہ اپنے اعزہ و اقارب کے ساتھ غم اور خوشیاں بانٹیں، ان کے مسائل کو توجہ سے سنیں ۔ اپنے دوستوں کو وقت دیں۔ ان کی تقریریں سنیں، اپنے دکھڑے بھی سنائیں۔ غم ہلکا کریں۔ کسی کی مدد کر سکتے ہیں تو ضرور کریں، نہیں کر سکتے تو اس کی بات ضرور سنیں۔ اپنے پمسفر، بچوں، بہن، بھائیوں، والدین اور دوستوں کو اہمیت دیں اور ان کو اکلاپے اور ذہنی دباو کا شکار نہ ہونے دیں ۔ اس طرح سے ہم مسائل کا مل کر مقابلہ کر سکتے ہیں۔

%d bloggers like this: