آڈیٹر جنرل اف پاکستان نے چئیرمین واپڈا  لیفٹنٹ جنرل (ر) مزمل حسین کی تعیناتی کو غیر قانونی قرار دیا

آڈیٹر جنرل اف پاکستان نے چئیرمین واپڈا لیفٹنٹ جنرل (ریٹائرڈ) مزمل حسین کی تعیناتی کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے  واضح کیا ہے کہ چئیرمین کی تعیناتی میں قوانین کو پامال کیا گیا ہے۔
نیا دور میڈیا کے میڈیا دستاویزات  جو آئندہ ہفتے آڈٹ کمیٹی میں پیش کی جائے گی میں حکام نے واضح کیا ہے کہ اسٹیبلیشمنٹ ڈویژن کے قوانین کے مطابق چئیرمین واپڈا کی تعیناتی کے لئے تین نام سلیکشن بورڈ کو بھیجی جاتی ہے جس کے بعد وزیر اعظم پاکستان ان کی تعیناتی کو یقینی بناتا ہے۔ اآڈٹ دستاویزات میں واضح کیا گیا ہے کہ وزارت ابی وسائل کے ریکارڈ سے معلوم ہوا ہے کہ چئیرمین واپڈا کی تعیناتی کے لئے تین نام تجویز نہیں کئے گئے تھے اور لیفٹنٹ جنرل (ریٹائرڈ) مزمل حسین کی تعیناتی اسٹیبلیشمنٹ ڈویژن کے آفس میمورینڈم 1997 کے خلاف ہوئی ہے جن کی کوئی قانونی حیثیت نہیں اور اسٹیبلیشمنٹ ڈویژن نے اپنے قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے چئیرمین واپڈا کو غیر قانونی طور پر تعینات کیا ہے۔

دستاویزات میں مزید لکھا گیا ہے کہ چئیرمین واپڈا کو مالی سال 2019-20 میں تنخواہ اور دیگر مراغات کی مد میں 47 لاکھ روپے سے زیادہ رقم ادا کی گئی جو کہ غیر قانونی ہے اور اس سے ملکی خزانے کو نقصان پہنچا۔ آڈٹ دستاویزات میں لکھا گیا ہے کہ ادارہ چئیرمین واپڈا کی غیر قانونی تعیناتی کی تحقیقات کریں اور اس کا جواب دیں کہ ان کی تعیناتی کے عمل میں تین نام سلیکشن بورڈ کو کیوں نہیں بھیجے گئے اور ان کی تعیناتی کیسے قوانین کے خلاف ہوئی۔ دستاویزات میں مزید لکھا گیا ہے کہ اس چیز کی بھی تحقیقات کی جائے کہ  قواعد و ضوابط کے خلاف 47 لاکھ روپے کیوں ان کو تنخواہوں اور مراغات کی مد میں ادا کئے گئے۔نیا دور میٖڈیا نے چئیرمین واپڈا لیفٹنٹ جنرل (ریٹائرڈ) مزمل حسین سے ان کا موقف جاننے کے لئے مسلسل ایک ہفتے رابطہ کیا مگر پیغامات وصول کرنے کے باوجود انھوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔

عبداللہ مومند اسلام آباد میں رہائش پذیر ایک تحقیقاتی صحافی ہیں۔

%d bloggers like this: