اب ہم ٹیکنالوجی کے راستے پر چل پڑے ہیں، ڈاکٹر فیصل سلطان

اسلام آباد: وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے ڈاکٹر فیصل سلطان نے کہاہے کہ اب ہم ٹیکنالوجی کے راستے پر چل پڑے ہیں، وینٹی لیٹرز کی تیاری یہ ایک بڑی کامیابی ہے۔

 وزارت سائینس اینڈ ٹیکنالوجی کے زیر اہتمام آلنو وینٹیلیٹرز کی لانچنگ تقریب ہوئی جس میں وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری اور معاون خصوصی صحت ڈاکٹر فیصل سلطان بھی موجود تھے ۔

چیئرمین ایلسن گروپ عبد الرحمان نے کہاکہ میں خود کورونا سے متاثر ہوا میری بیوی بھی متاثر ہوئی، چیئرمین ایلسن گروپ نے کہاکہ وینٹی لیٹر سے قیمتی جانیں بچائی جا سکتی ہیں، آلنو وینٹی لیٹرز کی تمام چیزیں بین الاقوامی معیار کے مطابق ڈیزائن کی گئیں ہیں، ہم وینٹی لیٹر کو تیار کرنے کی مسلسل کاوش کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ ہماری ٹیم چوبیس گھنٹے وینٹی لیٹر کی تیاری پر کام کر رہی تھی، وینٹی لیٹرز کی تیاری میں پاکستان انجینئرنگ کا سپورٹ کرنے پر شکریہ،ابتدائی طور پر وینٹی لیٹر کے لئے ہم نے یوکے ماڈل اپنایا۔

عبد الرحمان نے کہاکہ ہم یوکے ماڈل سے بھی جدید وینٹی لیٹر تیار کر رہے ہیں، وینٹی لیٹر کی تیاری ہماری بہت بڑی کامیابی ہے۔ انہوںنے کہاکہ حکومت سپورٹ جاری رکھے تو ہم بہت کچھ کر سکتے ہیں۔

معاون خصوصی صحت ڈاکٹر فیصل سلطان نے کہاکہ یہ چیزیں بنانی آسان نہیں ہیں، کورونا میں یہ واضح ہوگیا کہ یہ چیزیں بنایا نا ممکن بھی نہیں ہے، ہمارے انجینئر سب چیزیں بنا سکتی ہین، بائومیڈیکل فیلڈ میں ہم نے ٹیکنالوجی کو زیادہ اہمیت نہیں دی تھی۔

انہوں نے کہاکہ اب ہم ٹیکنالوجی کے راستے پر چل پڑے ہیں، وینٹی لیٹرز کی تیاری یہ ایک بڑی کامیابی ہے۔ انہوںنے کہاکہ میں وفاقی وزیر فواد چوہدری کو وینٹی لیٹر کی تیاری پر مبارکباد دیتا ہوں، ہماری چیزیں اتنی اچھی ہونی چاہیے کہ پاکستانی پراڈکٹ کی خریداری اولین ترجیح ہونی چاہئے۔

وفاقی وزیر فواد چوہدری نے وینٹی لیٹر لانچنگ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ وینٹی لیٹر کی تیاری میں بڑی کامیابی ہمارا یقین ہے، ہمارا یقین تھا کہ ہم کر سکتے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ کورونا کے شروع میں ہم سب کچھ امپورٹ کر رہے تھے، وزیر سائنس و ٹیکنالوجی نے کہاکہ کورونا کے شروع میں تو سینیٹائزرز بھی کم پڑ گئے تھے، الحمداللہ آج پاکستان میں وینٹی لیٹرز کی مینوفیکچرنگ شروع ہو چکی ہے۔

وفاقی وزیر سائنس نے کہاکہ کورونا کے ننانوے فیصد مریضوں کو نان وژیبل وینٹی لیٹرز کی ضرورت ہے، یہ وینٹی لیٹرز نان وژیبل ہیں، پاکستان دنیا کا پانچواں بڑا ملک ہے، ہم اکانومی کی بنیاد باہر سے چیزیں امپورٹ کرنے پر افورڈ نہیں کر سکتے،اس وقت ہم سو ملین ڈالٹر کا کورونا کا سامان ایکسپورٹ کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ سرنجز اور کنولا کو ڈسپوز آف کرنے کے لئے دو فیکٹریز لگانے جا رہے ہیں، میڈیکل کی زیادہ تر چیزیں پاکستان میں تیار کریں گے۔

وفاقی وزیر نے کہاکہ اس سے ہم تین سے چار بلین ڈالٹر سالانہ بچت کریں گے، ہم پاکستان میں بہت جلد الیکٹرک بسیں مینوفیکچر کرنے جا رہے ہیں ۔

وفاقی وزیر نے کہاکہ روٹین کی آلو مٹر گاجریں بیچ کر آگے نہیں جا سکتے، ہمارا مستقبل سائنس و ٹیکنالوجی پر ہوگا۔

%d bloggers like this: