اسامہ بن لادن ابھی زندہ ہیں؟ ایبٹ آباد میں مارا جانے والا شخص دراصل کون تھا؟ امریکی صدر کے چشم کشا انکشافات

اسلام آباد (ویب ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سازشی نظریات پر یقین رکھنے اور انہیں پھیلانے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ انتخابات جیتنے سے قبل بھی انہوں نے اس وقت کے صدر باراک اوبامہ کی جائے پیدائش کے متعلق جھوٹے نظریات بیان کیے تھے۔گزشتہ دنوں انہوں نے ایک ٹویٹ کو ری ٹویٹ کیا ہے



جس میں کہا گیا کہ امریکی فوج نے اسامہ بن لادن کو ہلاک نہیں کیا بلکہ وہ ان کا ہمشکل تھا جسے ایبٹ آباد میں ریڈ کے ذریعے مارا گیا تھا۔اس ٹویٹ میں کہا گیا تھا کہ اوبامہ دور میں ہونے والے اس ریڈ میں ممکنہ طور پر امریکی نیوی کے تمام 6 کمانڈو ہلاک ہو گئے تھے جبکہ اسامہ بن لادن ابھی تک زندہ ہے۔ٹویٹر نے ٹویٹ کرنے والے اوریجنل اکاؤنٹ کو معطل کر دیا تو صدر ٹرمپ نے اگلے روز ایک ویڈیو کو ری ٹویٹ کر دیا جس میں اسامہ بن لادن کی موت کے متعلق بےبنیاد باتیں کی گئی تھیں۔ٹرمپ نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ یہ کسی کی رائے تھی جسے میں نے ری ٹویٹ کیا، اب لوگ اس کے متعلق خود فیصلہ کر سکتے ہیں۔صدر ٹرمپ نے ان ری ٹویٹس کے بعد ان پر کئی حلقوں سے تنقید جاری ہے کہ وہ ایسے موقع پر امریکی فوج کے اعلیٰ حکام کو خود سے دور کر رہے ہیں جب انتخابات چند ہفتے دور ہیں۔فوجی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ فوجی آپریشن کے متعلق صدر کے مشکوک ٹویٹس کو ری ٹویٹ کرنے کا رجحان انہیں کوئی فائدہ نہیں دے گا۔سابق نیوی کمانڈو رابرٹ او نیل 6 افراد پر مشتمل ٹیم کا حصہ تھے جس نے 2011 میں اس وقت کے صدر اوبامہ کے حکم پر اسامہ بن لادن کے ٹھکانے پر ریڈ کیا تھا، انہوں نے صدر ٹرمپ پر سخت تنقید کی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ جسے ہم نے ریڈ کے دوران مارا تھا وہ اسامہ بن لادن کا ہمشکل نہیں تھا، میں جانتا ہوں کہ میں نے کسے قتل کیا تھا۔ٹرمپ اب تک سازشی نظریات پھیلانے والے معروف گروپ کیو اینن کی کم از کم 258 ٹویٹس کو ری ٹویٹ کر چکے ہیں، ان میں سے 163 مارچ سے اب تک کی گئی ہیں۔







%d bloggers like this: