اسامہ کی سی ٹی ڈی پولیس اہلکاروں کے ہاتھوں ہلاکت: جوڈیشل کمیشن بنانے کے نوٹیفکیشن میں کئی غلطیوں کا انکشاف

وفاقی دارالحکومت میں پولیس کے ہاتھوں نوجوان کی ہلاکت کا معاملہ، چیف کمشنر اسلام آباد کی جانب سے جوڈیشل انکوائری کے لیے جاری نوٹیفکیشن میں غلطیوں کا انکشاف ہوا ہے۔ نوٹیفکیشن جاری کرنے کی تاریخ 2 جنوری 2020 لکھی گئی ہے۔

نوٹیفکیشن میں وقوعہ کی تاریخ 2012 درج کی گئی۔ رانا وقاص انور ایڈیشنل ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ انکوئری افسر مقرر کیا گیا۔ انکوائری افسر کو پانچ روز میں جامع رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ تمام گواہوں،لواحقین اور پولیس افسران کے بیانات قلمبند کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

یاد رہے کہ یہ واقعہ اسلام آباد کے علاقہ جی ٹین میں پیش آیا جہاں اے ٹی ایس اہلکاروں کی مشکوک گاڑی پر فائرنگ کردی۔

پولیس کی ابتدائی رپورٹ کے مطابق سی ٹی ڈی اہلکار ایچ 13 میں ڈکیتی کی اطلاع پر پہنچے، سی ٹی ڈی اہلکاروں نے ایک گاڑی کو روکنے کی کوشش کی، نہ رکنے پر اہلکاروں نے گاڑی کا تعاقب کیا۔سب انسپکٹر کا کہنا ہے کہ گاڑی والے نے ان پر فائرنگ کی جس پر اہلکاروں نے جوابی فائرنگ کی، نوجوان کو 22 گولیاں لگیں،ترجمان پمز وسیم خواجہ کا کہنا ہے کہ پوسٹ مارٹم کے مطابق سامنے سے گولیاں ماری گئی ہیں۔

وقوعہ کےمتعلق پولیس کی ابتدائی رپورٹ کی کاپی بھی سامنےآئی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ سی ٹی ڈی کی گاڑی میں ایک سب انسپکٹراور4 جوان سوار تھے،اہلکارایچ 13 میں ڈکیتی کی اطلاع پرموقع پرپہنچے تھے۔

سی ٹی ڈی اہلکاروں نےگاڑی کوروکنےکی کوشش کی، نہ رکنےپر اہلکاروں نے گاڑی کا تعاقب کیا ، سب انسپکٹر کا کہنا ہے گاڑی والے نے ان پر فائرنگ کی،اہلکاروں کی جوابی فائرنگ سے نوجوان کو 22گولیاں لگیں جبکہ ابتدائی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گاڑی سے کوئی اسلحہ نہیں ملا۔

نوجوان کا نام اسامہ ندیم ہے اور وہ ورچول یونیورسٹی کا طالبعلم تھا۔

عبداللہ مومند اسلام آباد میں رہائش پذیر ایک تحقیقاتی صحافی ہیں۔

%d bloggers like this: