اسلام آباد پولیس کے ہاتھوں نوجوان کا قتل اور پاکستان میں قانون کی عملداری پر گفتگو

اسامہ ستی کا واقعہ حدثاتی نہیں لگ رہا کیونکہ اگر ایسا ہوتا اور پولیس پیچھے سے فائر کرتی مگر اسامہ کی گاڑی کو دیکھا جاسکتا ہے کہ گاڑی پر پولیس کی جانب سے فرنٹ سے فائر کیا گیا، عبداللہ مہمند

میں نے اسلام آباد میں سنئیر افسران سے معلوم کیا ہے کہ اس بچے کے دو کریمینل ریکارڈ بھی ہیں، 2018 میں اسکے خلاف آئس (نارکوٹکس) کا مقدمہ درج ہواتھا، 2019 میں گاڑی کانمبر تبدیل کرنے کا بھی کیس درج ہوا تھا، اور یہ عدالت سے بھاگ گیا تھا، خواجہ خالد فاروقی

اختیارات کا ناجائز استعمال اور ماورائے عدالت قتل میں پولیس کو انصاف کہ کٹہرے میں کھڑا کرنا بہت ضروری ہے، یہ بات درست ہے پولیس کے پاس زرائع نہیں، وسائل نہیں۔ پولیس کی ٹریننگ کرنا پولیس کا احتساب کرنا ہماری ترجیحات میں شامل نہیں ہے، اسد جمال

%d bloggers like this: