اسلام آباد ہائیکورٹ نے چیئرمین پی ٹی وی نعیم بخاری کو کام سے روک دیا

اسلام آباد ہائیکورٹ نے چیئرمین پی ٹی وی نعیم بخاری کی تعیناتی کیخلاف کیس کی سماعت کرتے ہوئے نعیم بخاری کو بطور چیئرمین پی ٹی وی کام سے روکتے ہوئے وزارت اطلاعات سے استفسار کیا کہ کیا چیئرمین پی ٹی وی کی تعیناتی میں سپریم کورٹ کے احکامات کے مطابق اشتہار دیا گیا؟ ۔

جس پر نمائندہ وزارت اطلاعات نے عدالت میں اثبات میں جواب دیا کہ ہاں حکومت نے عمر کی حد میں نرمی کی ہے،عدالت نے مزید کہا کہ وزارت نے خود ہی سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف ورزی میں نعیم بخاری کو چیئرمین تقرر کرکے سمری کابینہ کو بھجوا دی.

عدالت نے ریمارکس دیئے کہ تنخواہ لیں یا نہ لیں وہ الگ بات طریقہ کار کے بارے میں بتائیں کہ کیا ان کی تعیناتی قانون کے مطابق تھی؟ عدالت نے وزارت اطلاعات کے نمائندے کے ساتھ بحث کرتے ہوئے کہا وزارت اطلاعات نے عطاالحق قاسمی کیس میں بھی یہی غلطی کی جو آج کررہے ہیں سپریم کورٹ کا فیصلہ پڑھنے تک گوارہ نہیں کیا اور سمری وفاقی کابینہ بھیج دی.

اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس جسٹس اطہر من اللہ نے چئیرمین پی ٹی وی کو آئندہ پانچ روز کے لئے کام سے روک دیا. عدالت نے حکومت کو 5 روز کی مہلت دیتے ہوئے کہا کہ نعیم بخاری اگلے فیصلے تک اپنے اختیارات کا استعمال نہیں کریں گے.

عدالت نے استفسار کیا کہ کیا فیصلے کے دوسرے حصے کے تحت اس عہدے کی تعیناتی کے لیے اشتہار دیا گیا؟ جس پر وزارت اطلاعات و نشریات کے وکیل نے بتایا کہ اس فیصلے میں بورڈ تشکیل دینے کا کہا گیا ہے۔

عدالت نے وکیل سے دریافت کیا کہ کیا آپ نے زائد عمر سے متعلق ریلیکسیشن دی جس پر وکیل نے وزارت اطلاعات و نشریات کی 13 نومبر کی سمری عدالت کے سامنے پیش کی۔

عدالت نے کہا کہ کیا آپ نے سمری بھیجتے ہوئے سپریم کورٹ کا فیصلہ نہیں پڑھا تھا، آپ نے عطا الحق قاسمی کیس میں جو غلطیاں کی تھیں وہی یہاں کیں ہیں۔

بعدازاں وزارت اطلاعات و نشریات کی 26 نومبر کی نئی سمری بھی عدالت کے سامنے پیش کی تھی جس پرعدالت سے استفسار کیا کہ عمر حد میں استثنیٰ دینے کی مجاز اتھارٹی کی جانب سے دی جانے والی منظوری کہاں ہے؟

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے مزید کہا کہ عدالت اس تعیناتی کو کالعدم قرار نہیں دے رہی اور تحمل کا مظاہرہ کرتی ہے، سپریم کورٹ کا فیصلہ وفاقی کابینہ کے سامنے رکھیں وہ اپنے فیصلے پر نظرثانی کریں۔

بعدازاں کیس کی سماعت 2 ہفتوں کے لئے ملتوی کردی گئی۔

اس سے قبل ستمبر 2020 میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے نے پاکستان ٹیلی ویژن (پی ٹی وی) کارپوریشن کے چیئرمین ارشد خان اور بورڈ آف ڈائریکٹرز میں شامل 6 انڈیپینڈنٹ ڈائریکٹرز کی تعیناتیاں غیر قانونی قرار دی تھیں۔

%d bloggers like this: