’اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے بات چیت کی پیشکش کی گئی ہے‘: مریم نواز کے انٹرویو سے پانچ اہم ترین نکات

مریم نواز کے گلگت بلتستان میں جلسوں نے بہت سے لوگوں کو حیران کیا ہے۔ عوام نے جس تعداد میں ان جلسوں، جلوسوں میں شرکت کی اور یہ لوگ جتنے بھرپور جذبے کے ساتھ ان کی بات کو سن رہے ہیں، اس پر جواب دے رہے ہیں، اس سے واضح ہے کہ ان کا پیغام ملک کے طول و ارض میں سننے والے موجود ہیں۔ ان کے بی بی سی کے ساتھ انٹرویو میں انہوں نے بار بار وزیر اعظم عمران خان اور ان کی حکومت کے گھر بھیجے جانے پر زور دیا اور اپنے جلسوں میں بھی وہ ان پر کھل کر تنقید کرتی رہی ہیں۔ اس حوالے سے کچھ اہم سوالات ہیں جو کہ انٹرویو کے دوران اٹھائے بھی گئے اور مریم نواز کے جوابات بھی ایسے تھے کہ ان پر غور و خوض کیا جانا ضروری ہے۔

  • عمران خان حکومت کو گھر جانا ہوگا۔ مگر غیر آئینی طریقے سے نہیں

مریم نواز نے بار بار کہا کہ اس حکومت کو گھر جانا ہوگا۔ ان سے سوال کیا گیا کہ عمران خان حکومت کو کیسے نکالا جائے گا تو انہوں نے کہا کہ کسی بھی طریقے سے جائے یہ ایک علیحدہ معاملہ ہے مگر اس حکومت کو گھر جانا ہوگا۔ ان سے خاص طور پر فرحت جاوید نے پوچھا کہ کیا اس کے لئے کوئی غیر آئینی طریقہ کار استعمال ہو سکتا ہے۔ مریم نے دو ٹوک انداز میں جواب دیا کہ غیر آئینی طریقہ تو کوئی نہیں ہوگا۔ ان سے پوچھا گیا کہ پھر آئینی طریقہ کار کیا ہوگا تو انہوں نے کہا کہ یہ حکومت نہیں رہ سکتی کیونکہ ملک کی معیشت، گورننس، قانون کی حکمرانی سب کچھ برے حالوں میں ہے۔ اس حکومت کا رہنا ممکن نہیں۔ تاہم، جب ان سے پوچھا گیا کہ مائنس عمران خان انہیں یہ حکومت قابلِ قبول ہوگی یا نہیں، تو ان کا کہنا تھا کہ ابھی اس پر کچھ نہیں کہہ سکتی لیکن یہ حکومت جعلی ہے، میں اسے نہیں مانتی۔

  • اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے بات چیت کی پیشکش کی گئی ہے

ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے مریم نے کہا کہ اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے بات چیت کی پیشکش کی گئی ہے۔ ان سے براہِ راست کوئی رابطہ نہیں کیا گیا لیکن ان کے قریبی لوگوں کو پیغام بھجوایا گیا ہے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ اس پیشکش کو قبول کریں گی تو ان کا جواب تھا کہ جب تک یہ حکومت موجود ہے کوئی بات چیت نہیں ہو سکتی۔ یہ فوج بھی میری اپنی ہے۔ لیکن اس حکومت کے ہوتے بات چیت کی گنجائش نہیں۔ کچھ لوگوں کا ماننا ہے کہ انہوں نے حکومت کو ہٹائے جانے کی شرط رکھ کر بات چیت کے دروازے بند کر دیے ہیں جب کہ بہت سے لوگوں کا ماننا ہے کہ انہوں نے اس بیان کے ذریعے اسٹیبلشمنٹ سے عمران خان حکومت کو گھر بھیجنے کا مطالبہ کیا ہے۔ اب دیکھنا ہوگا کہ آگے چل کر اس میں سے کون سی بات درست ثابت ہوتی ہے۔ مریم کا کہنا تھا کہ بات ہم ضرور کریں گے لیکن آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے اور چھپ چھپا کر نہیں، عوام کے سامنے بات ہوگی۔

  • پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نواز میں اختلافات؟

انٹرویو میں ایک موقع پر ان سے پوچھا گیا کہ بلاول بھٹو زرداری کے مطابق ایک خاص حد سے آگے نہیں جانا چاہیے، انتہائی پوزیشن لینے کے بجائے کچھ پیچھے ہٹنا چاہیے اور اسٹیبلشمنٹ سے بات چیت کرنی چاہیے، تو کیا مسلم لیگ نواز بھی ان سے اتفاق کرتی ہے۔ اس پر مریم کا جواب تھا کہ بلاول کی اپنی ایک جماعت ہے، وہ اپنی سمجھ بوجھ سے بات کرتے ہیں۔ ہمارے اپنے تجربات ہیں، نواز شریف کو تین مرتبہ وزارتِ عظمیٰ سے نکالا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف نے کوئی الف لیلیٰ کی کہانی نہیں سنائی، انہوں نے حقائق بیان کیے ہیں۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے سابق جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی کا بیان لوگوں کے سامنے ہے کہ کس طرح ان کو کہا گیا کہ نواز شریف اور مریم نواز کو ضمانت نہیں دی جانی چاہیے۔ جج ہوتے ہوئے انہوں نے یہ بیان دیا لیکن انہیں ان کے عہدے سے ہی ہٹا دیا گیا تھا۔ جج ارشد ملک کے انکشافات بھی سب کے سامنے ہیں۔

  • آرمی چیف کی مدتِ ملازمت میں توسیع

نواز شریف کی تیسری مدت میں انہیں پیش آنے والی مشکلات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جب ایک آرمی چیف کو توسیع نہیں دی جاتی تو آپ نے دیکھا کہ کیسے ڈان لیکس جیسی ایک بالکل جھوٹ پر مبنی چیز کھڑی کر دی گئی۔ انہیں یاد دلایا گیا کہ دوسرے آرمی چیف کو تو توسیع دی گئی۔ اس پر مریم کا کہنا تھا کہ بالکل دی تھی، اس پر میں اس لئے بات نہیں کرنا چاہتی کہ یہ حقیقت ہے اور میرا اس پر اختلاف بے معنی ہے کیونکہ پارٹی نے ایسا کیا تھا۔ اس کی حقیقت بھی لیکن ایک دن عوام کے سامنے آئے گی۔

  • ’عمران خان کا نام بھی نہیں لینا چاہتی‘

مریم نواز کا کہنا تھا کہ میں عمران خان کا نام بھی نہیں لینا چاہتی لیکن بدقسمتی سے مجھے ان کی بات کرنا پڑتی ہے۔ میرے نزدیک بطور ایک انسان کے وہ ایک انتہائی غیر اہم انسان ہیں لیکن وہ ہر اس چیز کا استعارہ ہیں جو پاکستان میں نہیں ہونی چاہیے۔ جب ہم کہتے ہیں کہ بجلی مہنگی ہے، آٹا مہنگا ہے، چیزیں مہنگی ہیں، گیس مہنگی ہیں، عوام بدحال ہیں، لوگ بددعائیں دے رہے ہیں تو پھر عمران خان کا نام نہ لوں تو کس کا لوں؟

%d bloggers like this: