اشتعال انگیز تقاریر کا الزام: سابق وزیر اعظم نواز شریف کے خلاف غداری کا مقدمہ درج

سابق وزیر اعظم اور پاکستان مسلم لیگ ن کے قائد میاں محمد نواز شریف کے خلاف لاہور کے تھانہ شاہدرہ میں غداری کا مقدمہ درج کر لیا گیا۔ اس مقدمہ میں مسلم لیگ ن کے دیگر رہنماوں کو بھی نامزد کیا گیا ہے جن میں مریم نواز، شاہد خاقان عباسی، راجہ ظفرالحق، ایاز صادق، رانا ثناءاللہ، پرویز رشید، احسن اقبال، مریم اورنگزیب، عطاللہ تارڑ، دانیال عزیز سمیت مسلم لیگ کی سینئیر قیادت کا نام بھی شامل ہے۔

مقدمہ ایک شہری بدر رشید کی جانب سے تھانہ شاہدرہ لاہور میں درج کروایا گیا ہے جس میں لکھا گیا ہے کہ نواز شریف لندن میں میں بیٹھ کر مقتدر اداروں کے خلاف اشتعال انگیز تقاریر کرنے کے مرتکب ہوئے ہیں اور انکی تقاریر ملک دشمن عناصر کو فائدہ پہنچانے کیلئے کی جارہی ہیں۔ ایف آئی آر میں  نواز شریف کو بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کا دوست قرار دیکر تقاریر کر کے اسکو بالواسطہ فائدہ پہنچانے کی سازش قرار دیا گیا ہے۔ مقدمے میں کہا گیا ہے کہ نواز شریف کی تقاریر کا مقصد کشمیر میں بڑھتے بھارتی مظالم سے توجہ ہٹانا ہے۔ درخواست گزار کا کہنا ہے کہ نواز شریف بیرون ملک بیٹھ کر پاکستانی اداروں کو بدنام کر رہے ہیں جبکہ پاکستانی قوانین سزایافتہ مجرم کو اپنی ضمانت کا ناجائز فائدہ اٹھانے کی اجازت نہیں دیتا۔ مقدمے میں مریم نواز و دیگر مسلم لیگی رہنماوں کو بھی نامزد کیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ نواز شریف کی تقاریر کی تائید اور حمایت قانون کی گرفت کے زمرے میں آتا ہے۔

یاد رہے کہ گزشتہ روز مسلم لیگ کے رہنماء و مریم نواز کے شوہر کیپٹن صفدر پر بھی غداری کا مقدمہ درج کیا جا چکا ہے۔

%d bloggers like this: