اعلی عدلیہ کے ججز کے درمیان اختلافات کا پاکستان کے نظام عدل پر کیا اثر پڑے گا؟

اعلی عدلیہ کے ججز کے درمیان اختلافات کا پاکستان کے نظام عدل پر کیا اثر پڑے گا؟

سپریم کورٹ کے ججز کے درمیان پیدا ہونے والے اختلافات کی وجہ کیا ہے؟

سپریم کورٹ کو 12 سال سے کور کرنے والے رپورٹر حسنات ملک کا  سیاست ڈاٹ پی کے، کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے دو ججز کے درمیان اختلافات پائے جاتے ہیں، کبھی کبھار سپریم کورٹ کے ججز کے درمیان اپنے اپنے نظریات کو لے کر اختلافات پیدا ہو جاتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمد اور سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے درمیان پائے جانے والے اختلافات مختلف قسم کے ہیں۔ جب یہ کیس اٹھایا گیا تھا تب اس کے  دو نقطہ نظر تھے۔ ایک نقطہ نظر یہ تھا کہ جس میں جسٹس عمر عطا بندیال کا کہنا تھا کہ وزیراعظم عمران خان کو استثنیٰ حاصل ہے، اور وزیراعظم کو اس طرح سے نہیں کہا جا سکتا کہ وہ دستخط کر کے رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کروائیں۔

حسنات ملک کا کہنا تھا کہ دوسری طرف ہم نے دیکھا کہ جب ججز یہ آرڈر ڈکٹیٹ کروا رہے تھے تو تب جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا تھا کہ آرڈر میں لکھا جائے کہ وزیراعظم عمران خان رپورٹ پر دستخط کر کے سپریم کورٹ میں خود جمع کروائیں، بارہ سال میں پہلی دفعہ دیکھا گیا ہے کہ ایک بینچ کے ججز ایک دوسرے کے خلاف ریمارکس دے رہے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ جب یہ کیس ختم ہوا اور اس کا تحریری فیصلہ جاری کیا گیا تو چیف جسٹس نے اپنے تحریری فیصلے میں آبزرویشن دی کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو وزیراعظم عمران خان سے متعلق کیسز کی سماعت نہیں کرنی چاہیے۔

جس کے اگلے ہی دن جسٹس قاضی فائز کا سریم کورٹ کے رجسٹرار کو خط آ گیا کہ کیس کی فائل مجھے نہیں دی گئی لیکن میڈیا کو دے دی گئی؟ یہ وہ سب چیزیں ہیں جو انہونی تھیں اور سپریم کورٹ کی تاریخ میں ایسا پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا تھا۔

The post اعلی عدلیہ کے ججز کے درمیان اختلافات کا پاکستان کے نظام عدل پر کیا اثر پڑے گا؟ appeared first on Siasat.pk Urdu News – Latest Pakistani News around the clock.

%d bloggers like this: