افغانستان میں امن کا مطلب پاکستان میں امن ہے، آرمی چیف کی چیئرمین افغان حزب وحدت اسلامی کریم خلیلی سے گفتگو

راولپنڈی(آن لائن)آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے چیئرمین حزب وحدت اسلامی افغانستان اور سابق چیئرمین افغان امن کونسل محمد کریم خلیلی نے ملاقات کی ہے۔آئی ایس پی آر کے مطابق جی ایچ کیو میں ہونے والی ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور،خطے میں امن و استحکام،رابطے اور افغان امن عمل میں موجودہ پیشرفتوں سے متعلقتبادلہ خیال کیا گیا۔ملاقات کے دوران آرمی چیف کا کہنا تھا کہ افغانستان میں امن کا مطلب پاکستان میں امن ہے۔ نہ صرف اپنے لئے بلکہ ہمسایوں کیلئے ایک مستحکم اور خوشحال افغانستان پاکستان کے قومی مفاد میں ہے۔مہمان شخصیت نے پاکستان کے مثبت کردار

اور پاک افغان تعلقات کے مستقبل بارے آرمی چیف کے ویژن کو سراہا۔ دوسری جانب وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ افغان قیادت کو قابل قبول جامع سیاسی مذاکرات ہی افغان مسئلے کا واحد حل ہے،پاکستان افغانستان میں قیام امن کیلئے اپنی مصالحانہ کاوشیں جاری رکھنے کیلئے پرعزم ہے ،بین الافغان مذاکرات کی صورت میں افغان قیادت کے پاس قیام امن کا ایک نادر موقع موجود ہے جس سے بھرپور استفادہ کیا جانا چاہیے ۔ منگل کو افغان حزب وحدت اسلامی کے رہنماء محمد کریم خلیلی نے وفد کے ہمراہ وزارت خارجہ میں وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی سے ملاقات کی جس میں افغان امن عمل سمیت باہمی دلچسپی کے اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا ۔سیکرٹری خارجہ سہیل محمود، نمائندہ خصوصی برائے افغانستان ایمبیسڈر محمد صادق اور وزارت خارجہ کے سینئر افسران بھی اس موقع پر موجود تھے ۔ شاہ محمود قریشی نے کہاکہ میں آپ کو اور آپ کے وفد کو وزارت خارجہ آمد پر خوش آمدید کہتا ہوں ۔ شاہ محمود قریشی نے کہاکہ پاکستان اور افغانستانکے مابین گہرے تاریخی اور یکساں ثقافتی و تہذیبی اقدار پر استوار برادرانہ تعلقات ہیں ۔مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہاکہ پاکستان کا شروع سے یہی موقف رہا ہے کہ افغان مسئلے کا کوئی فوجی حل نہیں ،افغان قیادت کو قابل قبول جامع سیاسی مذاکرات ہی اس مسئلے کا واحد حل ہے ،پاکستان افغانستان میں قیام امن کیلئے اپنی مصالحانہکاوشیں جاری رکھنے کیلئے پرعزم ہے ۔ انہوںنے کہاکہ بین الافغان مذاکرات میں اب تک ہونیوالی پیش رفت خوش آئند ہے ،ہم دوحہ میں شروع ہونیوالے،بین الافغان مذاکرات کے دوسرے مرحلے کے آغاز کا خیر مقدم کرتے ہیں ،ہم بین الافغان مذاکرات میں طے کردہ فیصلوں کا خیر مقدم کریں گے ۔ وزیر خارجہ نے کہاکہ بین الافغان مذاکرات کیصورت میں افغان قیادت کے پاس قیام امن کا ایک نادر موقع موجود ہے جس سے بھرپور استفادہ کیا جانا چاہیے ۔ انہوںنے کہاکہ بدقسمتی سے بھارت افغانستان میں سپائیلر کا کردار ادا کر رہا ہے اور ہم نے اس حوالے سے ناقابل تردید ثبوت دنیا کے سامنے رکھے ہیں۔ وزیر خارجہ نے کہاکہ ہم نے افغانستان کے لوگوں کی سہولت کیلئے نءویزہ پالیسی متعارف کروائی ہے ،ہم پاکستان اور افغانستان کے مابین دو طرفہ تجارت کے فروغ کیلئے عملی اقدامات اٹھا رہے ہیں ،ہم پاکستان میں مقیم افغان پناہ گزینوں کی جلد، باعزت اور پر وقار وطن واپسی کے متمنی ہیں ۔ انہوںنے کہاکہ افغان امن عمل میں پاکستان کے کردار کو دنیا بھر میں سراہا جا رہا ہے ، کوئی بھی ملک پاکستان سےزیادہ افغانستان میں قیام امن کا متمنی نہیں ۔ انہوں نے کہاکہ ہم سمجھتے ہیں کہ خطے میں امن و استحکام افغانستان میں دیرپا قیام امن سے منسلک ہے ۔ انہوں نے کہا کہ افغان حزب وحدت اسلامی افغانستان کے سربراہ محمد کریم خلیلی نے پرتپاک خیر مقدم پر وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے، افغان امن عمل میں پاکستان کے مصالحانہ کردار کو سراہا ،انہوں نے گذشتہ کئی دہائیوں سے افعان مہاجرین کی میزبانی پر بھی پاکستان کی قیادت اور عوام کا شکریہ ادا کیا۔

Leave a Reply

%d bloggers like this: