افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کا افغان امن عمل بارے خصوصی انٹرویو

افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کا افغان امن عمل بارے خصوصی انٹرویو

افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کی جانب سے خبر رساں ایجنسی کو افغان امن عمل بارے خصوصی انٹرویو دیا گیا ہے، جس میں انہوں نے افغان امن عمل میں پاکستان کے کردار کی تعریف کرتے ہوئے افغانستان میں قیام امن کے لیے پاکستان کی کوششوں کو سراہا ہے۔

امن مذاکرات اور پاکستان کا کردار:

ذبیح اللہ مجاہد کا امن مذاکرات میں پاکستان کے کردار کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہنا تھا کہ میرے خیال میں کوئی ملک امن مذاکرات میں دخل نہیں دے رہا ہم کسی ملک بشمول پاکستان کو افغانستان میں مداخلت کی اجازت نہیں دیتے، لیکن بات چیت کے دوران کوئی بھی ملک افغانستان کے لوگوں کی مدد کر سکتا ہے۔

افغان طالبان کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ہمارے ہمسایہ ملک جن میں پاکستان بھی شامل ہیں جنہوں نے ہماری مدد کی، قطر میزبانی کے ذریعے ہماری مدد کر رہا ہے اور امن مذاکرات میں سہولت کاری کا کردار بھی ادا کر رہا ہے، ہماری آنے والے دنوں کے لیے کوشش ہے کہ یہ جاری جنگ ختم ہو، انشاءاللہ

مستقبل کے افغانستان کے بارے میں طالبان کا منصوبہ:

افغان طالبان کے ترجمان کا مستقبل کے افغانستان کے بارے میں طالبان کے منصوبے کے حوالے سے بتانا تھا کہ ہم کابل کو بطور سرکاری حکومت قبول نہیں کرتے، وہ ہماری مخالف طرف ہیں اور ہمارے ساتھ جنگ میں شریک ہیں، لیکن ہم انہیں بطور حکومت قبول نہیں کرتے، بد اعتمادی بہت زیادہ ہے کیونکہ 20 سالہ جنگ بد اعتمادی لاتی ہے۔

ترجمان طالبان کا کہنا تھا کہ ہم امید کرتے ہیں کہ افغانستان میں امریکی قبضہ ختم ہو اور افغانی لوگ ایک معاہدے پر پہنچیں، مذاکرات پر پیش رفت جاری ہے ہماری امید ہے کہ اس کا نتیجہ ایک ایسے مقام پر پہنچے جو سارے افغانیوں کے لئے قابل قبول ہو، سارے افغانیوں کا آنے والے نظام میں حصہ ہوگا اور وہ ایک خالص اسلامی نظام ہونا چاہیے۔

افغانستان کی سرزمین پر داعش کی موجودگی:

افغانستان کی سرزمین پر داعش کی موجودگی کے حوالے سے ترجمان افغان طالبان کا بتانا تھا کہ افغانستان کی سرزمین پر داعش کا کوئی ظاہری وجود نہیں ہے، وہ کابل اور ملک کے دوسرے بڑے شہروں میں رہتے ہیں، یہ اس لیے ہے کیونکہ کابل نے ہی اس کو محفوظ پناہ گاہیں دی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آپ کو یاد ہوگا کہ ہماری داعش کے ساتھ صوبہ کولڑ اور ننگر ہار میں جھڑپیں ہوئی تھیں، ہم نے سارے علاقے داعش سے صاف کروائے، لیکن داعش کابل بھاگ گئی اور وہ اب وہاں خفیہ ایجنسیوں کے محفوظ ہاؤسز میں رہ رہی ہے، داعش اب بہت کم تعداد میں رہ گئی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستان طالبان اور دیگر پاکستانی تنظیمیں پاکستانی باشندے ہیں اور ہماری خواہش ہے کہ تنازعات کا حل مذاکرات سے نکلے تشدد کا ماحول نہ ہو، افغانستان سے بیرونی فوجیوں کا انخلا اہم معاملہ ہے کیونکہ افغانی قوم اپنے ملک میں بیرونی طاقتوں کی موجودگی برداشت نہیں کر سکتی۔ ہم نے ان کو ایک مقررہ مدت دی ہوئی ہے اور ہم نے ان کو موقع دیا ہے کہ وہ افغانستان کو باحفاظت چھوڑ جائیں۔

ترجمان طالبان کا کہنا تھا کہ ہمارا بیرونی طاقتوں کو پیغام ہے کہ انہیں افغانستان سے کوئی خطرہ لاحق نہیں ہوگا، جیسا کہ ہم نے ان سے دوحہ معاہدے میں وعدہ کیا ہے افغان عوام نے امریکہ کے خلاف بیس سال تک جنگ اسلئے لڑی ہے کہ وہ آزادی حاصل کر سکیں، اور یہاں ایک اسلامی ریاست وجود میں آ سکے۔ تمام افغانی مسلمان ہیں اور ایک اسلامی حکومت چاہتے ہیں۔

افغان سرزمین طالبان کے زیر کنٹرول:

ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا تھا کہ افغان سرزمین افغان طالبان کے زیر کنٹرول ہے اور جیسا کہ میں نے کہا تھا کہ حکومت اسلامی اصولوں کی بنیاد پر قائم ہوگی تاکہ ہم حکومتی معاملات اسلامی نظریات کی راہ پر چلا سکیں، جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ دنیا کے کئی ممالک میں ووٹنگ کے ذریعے دھاندلی ہوتی ہے، حال ہی میں ہم نے امریکہ میں دھاندلی سے بھرپور الیکشن دیکھے۔

ترجمان طالبان کے مطابق کئی ملک ہیں جنہوں نے الیکشن کے نام پر اپنی عوام کو دھوکا دیا ہے اور ان سے ووٹ دلوائے، ہمیں ایسی حکومت نہیں چاہیے جو لوگوں کو دھوکہ دینے کی بنیاد پر قائم ہو، ہمیں ایک مکمل اسلامی حکومت چاہتے ہیں علمائے کرام اور مدبرین کی نگرانی میں شوریٰ  بنے اور علماء کی شوریٰ ہی عوام کی نمائندگی کرے گی۔ میں یقین سے نہیں کہہ سکتا کہ اس کام کے لیے انتخابات ہونگے کہ نہیں لیکن ایک مناسب طریقہ ضرور ہوگا۔

اسرائیل کے ساتھ تعلقات کے سوال پر ترجمان طالبان کا کہنا تھا کہ ہم نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات قطعی نہیں رکھیں گے، سب جانتے ہیں کہ اسرائیل ایک غاصب ملک ہے جس نے فلسطینیوں کے حقوق مارتے ہوئے اسلامی زمین پر قبضہ کیا ہے، ہم انہیں غاصب اور ظالم کی نظر سے دیکھتے ہیں، ہم نہ کبھی ان کے ساتھ تعلقات استوار کریں گے اور نہ کبھی ہار مانیں گے۔

جاری امن مذاکرات اور دیگر متعلقہ امور:

ترجمان طالبان کا افغانستان میں جاری امن مذاکرات اور دیگر متعلقہ امور پر بات کرتے ہوئے بتانا تھا کہ آنے والے مئی کے مہینے میں ان کی مدت ختم ہو رہی ہے، وہ افغانستان سے انخلا کے لیے 14 مہینوں کے وقت پر متفق ہوئے تھے اور اب کئی مہینے گزر چکے ہیں اور مئی کے آخر تک وہ اپنے تمام فوجیوں کو واپس لے جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ جاری مذاکرات کا ایک مثبت نتیجہ نکلے اور لوگوں میں اتحاد پیدا ہو اور امریکی فوجیوں کا انخلا ہو، یہ وہ چیزیں ہیں جن کی ہم خواہش کرتے ہیں، اب یہ حریف گروپ پر منحصر ہے کہ وہ اس کو مانیں یا نہیں تاہم اگر وہ نہیں مانے تو جنگ جاری رہے گی۔

The post افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کا افغان امن عمل بارے خصوصی انٹرویو appeared first on Siasat.pk Urdu News – Latest Pakistani News around the clock.