امریکی نائب صدر کا 25 ویں آئینی ترمیم کے ذریعے ڈونلڈ ٹرمپ کو ہٹانے سے انکار

واشنگٹن (این این آئی)امریکا کے نائب صدر مائیک پنس نے 25 ویں آئینی ترمیم کے ذریعے صدر ٹرمپ کو عہدے سے ہٹانے سے انکار کر دیا۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق امریکی ایوان میں 25 ویں آئینی ترمیم کے قواعد و ضوابط پر بحث جاری ہے اور 25 ویں ترمیم کے ذریعےنائب صدر کو صدر ٹرمپ کے خلاف کارروائی کے لیے کہا جائے گا۔دوسری جانب نائب صدر مائیک پنس نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو عہدے سے ہٹانے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ امریکی صدر کو 25 ویں آئینی ترمیم سے ہٹانے سے غلط روایات جنم لیں گی۔مائیک پنس نے

کہا کہ میں نہیں سمجھتا 25 ویں آئینی ترمیم امریکی آئین سے مطابقت رکھتی ہے۔اس حوالے سے امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ہم امریکی تاریخ اور روایات کی قدر کرتے ہیں، 25 آئینی ترمیم سے مجھے صدارت سے ہٹانا میرے لیے کوئی خطرہ نہیں ہے۔ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ یہ وقت پرامن رہنے اور اپنے جذبات پر قابو رکھنے کا ہے۔دوسری جانب تقریبا تین چوتھائی امریکی ووٹر یہ سمجھتے ہیں کہ کانگرس کی عمارت پر گزشتہ ہفتے ہونے والے حملے کے بعد ملک میں جمہوریت کو خطرہ ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق ایک تازہ ترین قومی سطح کے عوامی رائے کے جائزے میں بتایاگیاکہ ری پبلیکن اور ڈیموکریٹس دونوں ووٹر بالترتیب 77 اور76 فیصد کے تناسب سے کہتے ہیں کہ جمہوریت کو خطرہ ہے۔کوینی پیاک یونیورسٹی کے ایک جائزے سے معلوم ہوتا ہے کہ آزاد امیدواروں میں 70 فیصد یہ کہتے ہیں کہ جمہوریت کو خطرہ لاحق ہے۔اس جائزے کے مطابق 56 فیصد ووٹر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو کیپیٹل ہل کے ذمہ دارٹھیراتے ہیں جب کہ 42 فیصد انہیں اس حملے کا ذمہ دار قرار نہیں دیتے۔کانگریس کی عمارت پر حملے کے بعد انہوں نے ٹوئٹ کے ذریعہ ایک پیغام میں ہجوم سے کہا کہ وہ پر امن رہے اور ہماری پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی حمایت کریں۔سروے کے مطابق 52 سے45 فیصد کے تناسب سے ووٹروں کی اکثریت کہتی ہے کہ صدر ٹرمپ کی ان کی 20 جنوری کو ختم ہونے والی مدت صدارت سے پہلے ہی ان کو عہدے سے ہٹا دیا جائے۔اگر جماعتی وابستگی کے حوالے سے دیکھا جائے تو 87 فیصد ری پبلیکن کہتے ہیں کہ ٹرمپ کو اپنے کے عہدے سےعلیحدہ نہیں کرنا چاہیے جب کہ 89 فیصد ڈیموکریٹس کہتے ہیں کہ صدر کو ان کے عہدے سے ہٹایا جانا چاہیے۔جہاں تک آزاد ووٹروں کے خیالات کا تعلق ہے تو 55 فیصد صدر کو ہٹانے اور 43 فیصد اس کے خلاف ہیں۔اس معاملے پر کہ انتخابات کے دوران وسیع پیمانے پر ووٹرفراڈ ہوا، امریکی ووٹر جماعتی وابستگیوں کے تحت سوچ رکھتے ہیں۔ 73 فیصد ری پبلیکن صدر ٹرمپ کی بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ ووٹر فراڈ ہوا، جب کہ 21 فیصد اس کے برعکس سوچتے ہیں۔ڈیموکریٹس 93 فیصد کے تناسب سے اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ کوئی ووٹر فراڈ نہیں ہوا،جب کہ صرف پانچ فیصد کہتے ہیں کہ ایسا ہوا۔آزاد امیدوار 30 کے مقابلے میں 60 فیصد کے تناسب سے کہتے ہیں کہ انتخابات میں وسیع پیمانے پر ووٹر فراڈ نہیں ہوا۔جہاں تک کانگریس کی عمارت پر حملے کے جمہوریت کی بساط الٹنے کے مترادف قرار دینے کا تعلق ہے تو 47 فی صداس سے اتفاق کرتے ہیں، 43 فیصد اس کی نفی کرتے ہیں جب کہ 10 فیصد کوئی بھی رائے قائم نہیں کر پاتے۔اس بات پر کہ کانگریس کی عمارت پر حملہ آور ہونے والے افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے، 91 فیصد ووٹروں میں اتفاق رائے پایا جاتا ہے۔81 فیصد ووٹر اس بات پر متفق ہیں کہ امریکہ میں انتہا پسندی ایک بڑا مسئلہ ہے جب کہ 12 فی صد ایسا نہیں سمجھتے۔

Leave a Reply

%d bloggers like this: