ان مذاکرات کی کوئی حیثیت نہیں ہوگی جس میں ۔۔۔۔ شیخ رشید کا ایسا سخت بیان کہ عمران خان بھی سوچ میں پڑ جائیں گے

راولپنڈی (ویب ڈیسک) وزیر ریلوے شیخ رشید احمد کا کہنا ہے کہ امید ہے کہ اپوزیشن کا حکومت کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ شروع ہوگا جبکہ ایسے مذاکرات کی کوئی حیثیت نہیں ہوگی جس میں حکومت شامل نہ ہو۔اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شیخ رشید احمد نے کہا کہ جو لوگ سیاست سیاست کر رہے ہیں اور سمجھتے ہیں



کہ ہم ان کے جلسوں کے مخالف ہیں انہیں یہ سمجھ نہیں آرہی کہ خدانخواستہ کورونا سے جو حال امریکا، بھارت اور دیگر ممالک کا ہوگیا ہے وہ حال پاکستان کا ہوا تو پوری معیشت کا بھٹہ بیٹھ جائے گا۔انہوں نے کہا کہ اگر آپ یہ سمجھ رہے ہیں کہ ان جلسوں سے عمران خان جارہا ہے تو میری بات یاد رکھ لیں کہ وہ نہیں جارہے اور 5 سال پورے کریں گے۔ان کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان میں حال ہی میں انتخابات ہوئے ہیں جہاں کُل ووٹ میرے حلقے سے بھی کچھ کم ہیں، اگر اپوزیشن اس پر بھی مطمئن نہیں ہوتی تو پھر ان کو اللہ ہی مطمئن کر سکتا ہے، جبکہ وہاں اصل انتخابات کو آزاد امیدواروں نے جیتے ہیں۔شیخ رشید نے کہا کہ اگر اپوزیشن جلسے کرکے اور کورونا وائرس کو پھیلا کر یہ سمجھتی ہے کہ وہ حکومت کو شکست دے رہی ہے تو ایسا نہیں ہے، آپ جو مرضی کرلیں قوم یہ سمجھتی ہے کہ ان جلسوں سے کچھ نہیں نکلنا اور آپ قوم کو بند گلی کی طرف لے کر جارہے ہیں جس میں آپ کا نقصان زیادہ ہے جبکہ نواز شریف اور مریم نواز نے جو بیانات دیے ہیں ان سے عمران خان کی خدمت کی ہے۔انہوں نے کہا کہ عقل کا اندھا بھی یہ نہ سوچے کے پاکستان کی عظیم فوج کو ملک کے کسی مسئلے سے نکالا جاسکتا ہے، فوج میں بہت صبر ہے اور وہ اپوزیشن کی طرح بیوقوف اور جذباتی نہیں ہے، انہوں نے پاکستان کو آگے لے کر جانا ہے اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے ایک نہیں چار بار یہ کہا ہے کہ جس کی بھی حکومت ہوگی فوج اس کے ساتھ کھڑی ہوگی۔ان کا کہنا تھا کہ جب سیاسی لوگ سیاسی لوگوں سے بات نہیں کرتے تو وہ سیاست کا جنازہ نکالتے ہیں، مجھے امید ہے کہ اس ملک میں سیاست کا جنازہ نہیں نکلے گا اور خدا ان کو شعور دے گا اور وہ بہتری کی طرف آئیں گے اور حکومت کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ شروع ہوگا۔
وزیر ریلوے نے کہا کہ ان مذاکرات میں اگر حکومت شامل نہیں ہوگی تو اس کی کوئی حیثیت نہیں ہوگی جبکہ وزیر اعظم عمران خان نیب کیسز اور این آر او کے علاوہ ہر ایک سے بات چیت کے لیے تیار ہیں۔
یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے ایک انٹرویو کے دوران پاکستان مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر اور سابق وزیراعظم نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز نے کہا تھا کہ اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے ان کے قریبی ساتھیوں سے بات چیت کے لیے رابطے کیے گئے ہیں لیکن اپوزیشن کے اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے پلیٹ فارم سے بات چیت پر غور کیا جاسکتا ہے، تاہم شرط یہ ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت کو گھر بھیجا جائے۔
اگلے روز جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے کہا تھاکہ اسٹیبلشمنٹ سے مذاکرات کا فیصلہ کسی ایک جماعت کا نہیں بلکہ مشترکہ ہوگا اور مذاکرات ہوئے تو پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم سے ہوں گے۔







%d bloggers like this: