ایسے مقدمات کو جوتے کی نوک پر رکھتے ہیں۔۔!! غداری کا مقدمہ درج ہونے کے بعد مولانا فضل الرحمان بھی میدان میں آگئے، دو ٹوک اعلان

اسلام آباد(نیوز ڈیسک ) جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ ان کے خلاف غداری کا کیس کرنے والے خود غدار ہیں۔ تفصیلات کے مطابق جمعیت علما اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آزاد کشمیر کے وزیراعظم پر مقدمات بنا کر دنیا کو کیا پیغام دیا جا


رہا ہے۔ہم آئین کی حدود سے باہر نہیں جارہے تو کوئی ادارہ بھی حدود سے باہر نہ جائے۔ ہم ایسے غداری کے مقدمات کو جوتے کی نوک پر رکھتے ہیں۔ جے یو آئی کے سربراہ نے کہا کہ ہماری پلاننگ میں ہے کہ اسلام آباد جائیں گے، عوام کی خوشحالی ہمارا ہدف ہے، حکومت عوام کی توقعات پر پورا نہیں اترسکی، مہنگائی نے غریب عوام کی کمر توڑ دی ہے۔انہوں نے کہا کہ غیرت مند لوگ استعفیٰ دیتے ہیں، حکومت کو شرم آنی چاہیے۔پی ڈی ایم کے سربراہ نے کہا کہ 16 اکتوبر کو پہلا جلسہ گوجرانوالہ میں ہوگا۔ حقیقی حکومت کے قیام کے لیے قومی سطح پر سفر کا آغاز کیا جارہا ہے، پی ڈی ایم کی طرف سے پورے ملک میں جلسے، مظاہرے ہوں گے۔ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ پہلے ہی دو تین جلسوں سے تبدیلی کے اثرات پیدا ہوجائیں گے، یہ تاثر غلط ہے کہ سیاسی لوگ اداروں کے خلاف بات کررہے ہیں، ہم اداروں کو مضبوط کرنے کی بات کرتے ہیں۔ہم جمہوری لوگ ہیں، ہم اداروں کے خلاف بات نہیں کرتے۔ انہوں نے کہا کہ کوئی ادارہ ملکی سیاست پر اثر انداز ہوتا ہے تو یہ حلف کی مخالفت ہے، شکایتیں سنجیدہ ہیں، ان معاملات پر ٹھنڈے دل سے سوچنا چاہئے۔ واضح رہے کہ اپوزیشن اتحاد کے رہنماؤں کے خلاف مقدمات کے بعد رہنماؤں کی جانب سے بیانات کا سلسلہ جاری ہے۔ اس سے قبل سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ حب الوطنی کا سرٹیفکیٹ حاصل کرنے کے لیے بھی درخواست دینا چاہتا ہوں ، کیوں کہ ملک میں آج کل الزامات لگانے کا سلسلہ جاری ہے ، جہاں آج کوئی بھی وزیر عوامی مسائل پر بات نہیں کرتا صرف الزامات لگارہے ہیں ، آج پورا ملک رورہاہے ، جب کہ ہندوستان اور مودی ہنس رہے ہیں ، کیوں کہ آپ کے عمل سے دنیا میں پاکستان کی بے عزتی ہورہی ہے ، حکومت حب الوطنی اور غداری کے سرٹیفکیٹ نہ بانٹے بلکہ عوامی مسائل حل کرے، دو سابق وزرائے اعظم کوغدار کہیں گے تو پھر پاکستان کا مقدمہ کیسے لڑیں گے، حب الوطنی کا سرٹیفکیٹ کہاں سے ملتا ہے مجھے بھی بتادیں، میں درخواست دینا چاہتا ہوں۔







%d bloggers like this: