این اے 75 ڈسکہ کا ضمنی انتخاب! دھاندلی کے ثبوت منظر عام پر آنے کے بعد الیکشن کمیشن کا بڑا فیصلہ

<!– –>

<!–

(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});
–> <!–

googletag.cmd.push(function() { googletag.display(‘div-gpt-ad-1518176776442-0’); });

–>
<!–

googletag.cmd.push(function() { googletag.display(‘div-gpt-ad-1518766058477-0’); });

–>

ڈسکہ (نیوز ڈیسک )  ڈسکہ کے حلقہ این اے 75 الیکشن کے نتائج روکے گئے تھے تاہم اب اس معاملے پر آر او دفتر میں 3 رکنی انکوائری ٹیم نے رپورٹ مرتب کرلی ہے۔ تفصیلات کے مطابق الیکشن کمیشن پنجاب کی جانب سے این اے 75 سیالکوٹ ضمنی الیکشن سے متعلق انکوائری رپورٹ الیکشن کمیشن کو بھجوادی گئی ہے۔ جس کے بعد اب الیکشن کمیشن تمام پہلوؤں کا جائزہ لے رہا ہے۔



رپورٹ ڈی آراواور ریٹرننگ افسر کی جانب سے بھجوائی گئی۔ افسران کے غائب ہونے اور نتائج میں ٹیمپرنگ کے خدشات رپورٹس میں شامل ہیں۔ رپورٹ پر فیصلہ کل الیکشن کمیشن میں ہونے والے اجلاس میں کیا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق این اے75 کے ضمنی انتخاب کے بارے میں فیصلہ آئندہ 2 روز میں ہونے کا امکان ہے۔ میڈیا ذرائع نے بتایا کہ این اے 75 میں مبینہ مشکوک کردار پر ڈی پی او اور ڈی سی او کے خلاف بھی کارروائی کا امکان ہے۔


ٹیم میں صوبائی الیکشن کمشنر اسرار ڈائریکٹر عباس بخاری اورجوائنٹ الیکشن کمیشن سعید گل شامل تھے۔ ذرائع نے بتایا کہ این اے 75 سیالکوٹ کے 23 پولنگ اسٹیشنز پر دوبارہ ری پولنگ کروانے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے البتہ فرانزک کروانے اور رپورٹ آنے میں زیادہ تاخیر ہوسکتی ہے۔ ذرائع نے مزید بتایا کہ سامان سمیت آر او آفس لانے کی ذمہ داری کیوں نہیں پوری کی گئی؟ اس حوالے سے وجوہات بھی رپورٹ کا حصہ ہیں۔


یاد رہے کہ 19 فروری کو ڈسکہ کے این اے 75 میں ضمنی انتخاب کے لیے پولنگ ہوئی لیکن پولنگ کا عمل مشکوک ہو گیا تھا جس کے بعد این اے 75 کے نتائج روک دئے گئے تھے جن کا اعلان کل بروز منگل کیے جانے کا امکان ہے۔واضح رہے کہ بروز ہفتہ چیف الیکشن کمشنر کی جانب سے این اے 75 کے ضمنی انتخاب میں انتخابی عملہ تاخیر سے پہنچنے اور 20 پولنگ اسٹیشنوں کےریکارڈ کی تحقیقات کا حکم دیا گیا تھا۔






<!–

–>


%d bloggers like this: