ایوب خان نے بندوق کی نوک پر اسکندر مرزا کو جہاز میں لدوا کر پہلے کوئٹہ اور پھر ہوٹل چلانے کے لیے برطانیہ بھجوا دیا۔

مارشل لا نافذ کرنے کے بعد اسکندر مرزا کو جلد ہی احساس ہو گیا کہ آئین معطل کر کے اور اسمبلی تحلیل کر کے انہوں نے درحقیقت وہ شاخ ہی کاٹ ڈالی جس پر ان کا قیام تھا۔ چنانچہ اسکندر مرزا کے سات اور 27 اکتوبر کے درمیانی 20 دن بڑے مصروف گزرے۔ اس دوران انہوں نے پہلے تو فوج کے اندر ایوب مخالف دھڑوں کو شہ دے کر ایوب خان کا پتہ صاف کرنے کی کوشش کی۔

جب اس میں ناکامی ہوئی تو 24 اکتوبر کو ایوب خان کو چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر کے عہدے سے فارغ کر کے ’وزیر اعظم‘ کے طور پر ان کی نئی تعیناتی کا صدارتی حکم نامہ جاری کر دیا۔

%d bloggers like this: