ایک تہلکہ خیز رپورٹ

لندن (ویب ڈیسک) دنیا کی بڑی بڑی سمارٹ فون اور گاڑیاں بنانے والی کمپنیاں اپنی مصنوعات کے لیے سونا ایک ایسے عالمی تاجر سے خریدتی تھیں جو اپنے کارروباری مراسم کا استعمال کرتے ہوئے جرائم پیشہ عناصر کا drug کے کاروبار سے بنایا گیا پیسہ لانڈر کرتے تھے۔بین الاقوامی سطح پر تحقیق کرنے والوں کے مطابق


دبئی کے ایک تاجر کالوٹی جرائم پیشہ گروہوں سے سونا خریدتے رہے۔نامور صحافی اینڈی ورائٹی کی بی بی سی کے لیے ایک رپورٹ کے مطابق ۔۔۔۔امریکی وزارتِ خزانہ کو قانون نافذ کرنے والے اداروں نے چھ سال قبل بتایا تھا کہ وہ دنیا کو خبردار کریں کہ ‘یہ بنیادی طور پر منی لانڈرنگ کا کارروبار ہے۔’تاہم امریکی وزارتِ خزانہ نے کسی کو اس بارے میں خبردار نہیں کیا۔اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ کالوٹی ٹنوں کے حساب سے سونا جنرل موٹرز، ایپل اور ایمازون جیسی بڑی بڑی کمپنیوں کو فروخت کرتے رہے جو اس قیمتی دہات کو اپنی مصنوعات کے کچھ پرزوں میں استعمال کرتے ہیں۔ اسی وجہ سے دنیا بھر میں کروڑوں صارفین نہ جانتے ہوئے ان مجرمانہ سرگرمیوں کو مالی معاونت فراہم کرتے رہے۔امریکی وزارتِ خزانہ نے ان خبروں پر اپنے رد عمل کا اظہار کرنے کی درخواستوں پر کوئی جواب نہیں دیا۔کالوٹی کے نمائندے نے ان خبروں کی سختی سے تردید کی کہ وہ جانتے بوجھتے ہوئے ان جرائم اور غیر قانونی کارروبار میں ملوث تھے۔خفیہ دستاویزات جو انٹرنیشنل کنسورشیم آف جرنلسٹ (آئی سی آئی جے) اور بی بی سی کو دیکھنے کو ملیں ان کے مطابق بین الاقوامی تحقیق کاروں نے تین سال کی تحقیقات کے بعد سنہ 2014 میں امریکی وزارتِ خزانہ سے کہا تھا کہ وہ اس معاملے کے بارے میں خبردار کریں۔ڈرگ اینفورسمنٹ ایڈمنسرٹیریش (ڈی ای اے) کی سربراہی میں ‘ہنی بیجر’ کے خفیہ نام سے ہونے والی تحقیقات میں یہ ثابت کیا گیا کہ کالوٹی ایک ایسی سکیم میں شامل ہے جو سونے کے ذریعے بے شمار پیسہ اِدھر سے اُدھر کر رہا ہے۔


ان دستاویزات کے مطابق اس سکیم کے تحت دنیا کے کسی بھی کونے سے جرائم پیشہ عناصر drug یا دوسرے غیر قانونی طریقے سے کمائے گئے پیسہ سے سونے کے پرانے زیورات خرید کر کالوٹی کو فروخت کرکے اپنا غیر قانونی پیسہ قانونی بناتے رہے۔تحقیق کاروں کے مطابق کالوٹی اس سونے کے بدلے پیسہ ادا کرتا تھا یا ان لوگوں کو ‘وائر’ کے ذریعے پیسہ ٹرانسفر کرتا رہا۔سنہ 2014 میں ڈی ای اے نے امریکی وزارتِ خزانہ کو سفارش کی کہ وہ کالوٹی کو کھلے عام ایک ‘منی لانڈرنگ’ کا کارروبار قرار دیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسا امریکہ کے ‘پیٹریٹ ایکٹ’ کے تحت کیا جائے جس سے عالمی مالیاتی اداروں اور بینکوں کو ان سے لین دین کرنا بہت مشکل ہو جائے گا اور اس گروپ کے اثاثے عالمی مالیاتی نظام میں منجمد ہو جائیں گے۔لیکن امریکی حکومت نے کالوٹی کے خلاف کچھ نہیں کیا۔ سابق سرکاری اہلکاروں نے کہا کہ امریکی حکومت نے متحدہ عرب امارات کے کہنے پر کوئی وارنگ جاری نہیں کی جو امریکہ کا ایک قریبی اتحادی ہے اور جہاں کالوٹی کا کارروبار تھا۔ان ساری کاوشوں کے بعد جب متحدہ عرب امارات نے کالوٹی کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی تو ساری تحقیقات کو بند کر دیا گیا۔کالوٹی کو اس کے خلاف ثبوت دیکھنے اور ان سے انکار کرنے کا موقع نہیں دیا گیا کیوں کے تحقیق کاروں نے ان سے سوالات نہیں کیے اور ان کی رپورٹ پر کیوں کوئی کارروائی نہیں کی گئی اس کی وجوہات خفیہ ہو سکتی ہیں۔ امریکی وزارتِ خزانہ سے اس بارے میں وضاحت حاصل کرنے کی کوششیں کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔


یہ تحقیق جس کو امریکی حکومت نے کبھی عام نہیں کیا اس کے پیچھے ایسی بے شمار دستاویزات تھیں جن سے ثابت ہوتا تھا کہ دنیا بھر کے بینک کوٹالی کے پیسے کا کاروبار کر رہے ہیں۔یورپ کے بڑے بینک بارکلے اور ڈوئچیز بینک نے کالوٹی کے بارے میں 34 سے زیادہ رپورٹس امریکی وزارتِ خزانہ کے فائنینشل کرائم اینفورسمٹ نیٹ ورک کو جمع کروائیں جن میں سنہ 2007 سے 2015 تک مجموعی طور پر نو اعشاریہ تین ارب ڈالر مالیت کے ہزاروں مشتبہ سودوں کے بارے میں خبردار کیا۔سنہ 2017 میں فرانس میں منی لانڈرنگ کرنے والے گینگ کو drug کے کارروبار سے حاصل کیے گئے پیسے کو لانڈر کرنے پر سزا دی گئی۔ drug کا یہ کاروبار پورے یورپ اور برطانیہ میں پھیلا ہوا تھا۔فون بنانے والی کمپنی ‘ایپل’ نے ایسی کئی کمپنیوں کی منظوری دے دی جنھوں نے کولاٹی سے بڑی مقدار میں سونا خریدا تھا جس میں وال کومب بھی شامل تھی جو دنیا میں سونا صاف کرنے والی سب سے بڑی کمپنی ہے اور جو سوئٹزرلینڈ میں قائم ہے۔تمام جدید سمارٹ فونز میں ایسے آلات لگائے جاتے ہیں جس میں سونے کا استعمال ہوتا ہے جو سب سے بہتر موصل دہات یا کنڈکٹر ہے۔اس سال انسداد بدعنوانی کے ادارے ‘گلوبل وٹنس’ نے سنہ 2018 اور سنہ 2019 میں رپورٹ کیا کہ وال کومب نے کولاٹی سے 20 ٹن سونا خریدا اور ایک اور کمپنی سے 60 ٹن سونا خریدا۔ٹیک ٹرانپیرنسی پراجیکٹ نامی ایک اور ادارے کی رپورٹ میں سونے صاف کرنے والی مزید دو سوئس کمپنیوں کے بارے کہا گیا کہ وہ کولاٹی سے سونا خریدتی رہی ہیں اور وہ ایپل کو سپلائی کرنے والی فرم میں شامل تھیں۔وال کومب نے کہا کہ وہ کولاٹی سے سونا خریدنے یا اس کو فروخت کرنے کے تردید یا تصدیق نہیں کریں گے۔ کمپنی کا کہنا تھا کہ وہ صرف ان ہی سے سونا خریدتی رہی ہے جن کے بارے میں اس معلوم ہو کہ وہ کہاں سے سونا لا کر یا خرید کر بیچ رہے ہیں۔ایپل کمپنی نے ایک بیان میں کہا کہ وہ جو خام مال خریدتی ہے اس کے بارے میں بہت ذمہ داری سے کام لیتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سونا صاف کرنے والی جو کمپنیاں ان کے معیار پر پوری نہیں اترتیں وہ ان سے لین دین بند کر دیتی ہے اور انہوں نے سنہ 2015 سے اب تک 63 کمپنیوں سے سونا لینا بند کر دیا ہے۔





%d bloggers like this: