بدترین مالی حالات: سینکڑوں سرکاری ملازمین کا پارلیمنٹ کے سامنے احتجاج، حکومت کا مظاہرین پر تشدد

اسلام آباد میں شاہراہ دستور پر پارلیمنٹ اور سپریم کورٹ کے سامنے  سرکاری ملازمین نے تنخواہیں نہ بڑھنے اور مراعات نہ ملنے پر احتجاج کیا۔ احتجاج میں سینکڑوں ملازمین شامل تھے۔ مظاہرین نے بینرز اٹھا رکھے تھے جبکہ حکومت کے خلاف وہ شدید نعرے بازی کر رہے تھے۔  حکومت کی جانب سے مظاہرین پر بدترین لاٹھی چارج اور واٹر کینن سے پانی پھینکا گیا۔

احتجاج میں اپوزیشن کے سرکرہ رہنما بھی شریک ہوئے جن میں خواجہ آصف، مولانا عبدالغفور حیدری اور دیگر شامل ہیں۔ مظاہرین سے خطاب میں خواجہ آصف نے کہاکہ یہ حکومت ملک کو تباہی کی طرف لے جارہی ہے، سرکاری ملازمین 7 سال سے تنخواہوں میں اضافے کے منتظر ہیں، اب سیاستدانوں نے اعلان جنگ کر دیا ہے، جب تک پاکستان کواس ظالم حکومت سے  نجات نہیں ملتی جدوجہد جاری رکھیں گے۔

خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ ووٹ کی عزت کا مطلب ہے عوام کی عزت، ہم اسمبلی میں سرکاری ملازمین کی آواز بنیں گے اور ووٹ کی عزت جب تک بحال نہیں ہوتی جدوجہد جاری رہے گی۔

اس موقع پر سینیٹر میرکبیرشاہی کا کہنا تھاکہ اس حکومت نے کم سے کم تنخواہ 12 ہزار رکھی اور بل 22 ہزار آتا ہے،موجودہ حکومت نے فیصلہ کیا ہوا ہے کہ ملازمین کا گلا گھونٹنا ہے۔ 

ان کاکہنا تھا کہ یہ کہتے تھے کہ ایک کڑوڑ نوکریاں دیں گے،انہیں شرم آنی چاہیے عوام کا چولہا ٹھنڈا پڑا ہے،جب غریب باہر نکلے گا تو بنی گالا کے وارث کو چھپنے کی جگہ نہیں ملے گی

%d bloggers like this: