براڈشیٹ مالک کے ’انکشافات‘ اور حکومتِ پاکستان سے 6 سوال

براڈشیٹ کمپنی کے مالک کاوے موساوی نے جس دن سے نیب کے خلاف برطانوی عدالت میں مقدمہ جیتا ہے، مسلسل پاکستانی میڈیا میں زیرِ بحث بھی ہیں اور یکے بعد دیگرے متعدد انٹرویوز دے چکے ہیں۔ سب سے پہلے انہوں نے کچھ یوٹیوبرز کو انٹرویو دیے، پھر مرکزی دھارے کے رپورٹرز کے ساتھ بھی بات چیت کی۔ مگر ان کا سماء ٹی وی پر ندیم ملک کے ساتھ انٹرویو سب سے حیرت انگیز تھا جس میں انہوں نے کہا کہ ایک پاکستانی جنرل ان سے ملنے کے لئے آئے اور انہیں پیشکش کی وہ پاکستانی حکومت کے ساتھ ایک نیا معاہدہ کر لیں اور وہ ساری معلومات ان کے ساتھ شیئر کریں جو موساوی کے پاس نواز شریف خاندان کے حوالے سے موجود ہیں۔ جب ندیم ملک نے ان سے پوچھا کہ یہ جنرل کون تھے، تو موساوی نے کہا کہ مجھے نہیں پتہ کیونکہ وہ اپنا نام بتانے کے لئے تیار نہیں تھے۔ انہوں نے مجھے کال کی اور کہا کہ ایک وفد ہے جو آپ سے ملنا چاہتا ہے، میں ملنے کے لئے راضی ہو گیا۔ تاہم، اس ملاقات میں اس جنرل کے ساتھ ان کی کیا بات ہوئی، اس پر انہوں نے پروگرام کے دوران زیادہ تفصیلاً بات نہیں کی۔ مگر اس کا احوال اب مارچ 2019 میں امریکہ سے لکھے گئے ایک خط میں واضح طور پر سامنے آ چکا ہے۔ اس خط کی کاپی سینیئر صحافی سید طلعت حسین نے ٹوئٹر پر اپلوڈ کی ہے۔ اس خط میں صرف اسی ملاقات کا نہیں بلکہ بہت سی ملاقاتوں، ٹیلی فون کالوں اور برقی پیغامات کا ذکر ہے۔ اور ان پیغامات میں پاکستان کی خفیہ ایجنسیوں کے اعلیٰ ترین عہدوں پر بیٹھے افراد کے نام بھی سامنے آتے ہیں۔

اس خط میں ایسے واقعات کا ذکر ہے کہ جب موساوی کو پاکستانی اعلیٰ عہدیداروں کی جانب سے رشوت کی پیشکش کی گئی یا ان سے ریکوری میں سے اپنا حصہ مانگا گیا۔ موساوی کے مطابق برطانیہ میں ایک پاکستانی نژاد وکیل بیرسٹر ظفر علی، کیو سی ان سے رابطے میں رہے اور وہ متعدد پیغامات کے ذریعے اپنی وزیر اعظم عمران خان، مشیر احتساب شہزاد اکبر، اس وقت کے ڈائریکٹر جنرل ISI اور ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل ISI فیض حمید سے ملاقاتوں کا احوال بیان کرتے رہے۔ جس ملاقات کا ذکر موساوی نے ندیم ملک کے پروگرام میں کیا، اس میں بھی ان سے اسی قسم کی گفتگو کی گئی۔ ان سے کہا گیا کہ آپ کو ہم نیا کانٹریکٹ دیتے ہیں، آپ شریف خاندان کے خلاف تمام معلومات ہمیں فراہم کر دیں۔ اس ’جنرل‘ کے بقول بھی وہ ISI سے تعلق رکھتا تھا اور اس کا کہنا تھا کہ ISI پانامہ پیپرز پر پاکستان میں نواز شریف اور ان کے خاندان کے اثاثوں کی تحقیقات کے لئے بننے والی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم یعنی JIT میں بھی ملوث ہے اور اس معاملے کو براہِ راست دیکھ رہی ہے۔ موساوی کا دعویٰ ہے کہ وہ اس رشوت کی پیشکش کو اسی وقت ٹھکرا کر یہاں سے نکل کھڑے ہوئے، یہاں تک کہ انہوں نے ان صاحب کی کافی کا بل تک ادا نہیں کیا کیونکہ وہ ان کے ساتھ کسی قسم کے مراسم نہیں رکھنا چاہتے تھے۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ آیا انہوں نے اس ملاقات سے متعلق شہزاد اکبر صاحب کو مطلع کیا یا نہیں تو ان کا جواب تھا کہ انہوں نے فوری طور پر اپنے وکلا کو اس حوالے سے بتا دیا تھا جو اسی وقت پاکستان میں شہزاد اکبر کے ساتھ کام کرنے والے وکلا کے علم میں بھی یہ بات لے آئے تھے۔ موساوی نے کہا کہ انہوں نے 15 منٹ کے اندر اندر برطانوی حکام کو اس ملاقات کے حوالے سے آگاہ کر دیا تھا کہ ان کو ایک رشوت کے بدلے ایک سازش میں شامل ہونے کی پیشکش ہوئی ہے اور انہوں نے اس سازش کا حصہ بننے سے انکار کر دیا ہے کیونکہ برطانوی قانون کے مطابق کسی بھی سازش کا حصہ بننا ایک قابلِ گرفت جرم ہے۔

جس خط کا اوپر تذکرہ کیا گیا، اس میں یہ بھی لکھا گیا ہے کہ جب نواز شریف اقتدار میں تھے تو انجم ڈار نامی ایک شخص ان سے ملا تھا اور اس نے نواز شریف کی طرف سے انہیں رشوت کی پیشکش کی تھی کہ 25 ملین یعنی ڈھائی کروڑ ڈالر لو اور نواز شریف کے خلاف تحقیقات بند کر دو۔ ان کا دعویٰ ہے کہ اس شخص نے خود کو نواز شریف کو بھانجا یا بھتیجا ظاہر کیا، ان کو نواز شریف کے ساتھ اپنی کوئی تصویر بھی دکھائی اور فون پر نواز شریف سے بات کرنے کا دعویٰ بھی کیا۔ یاد رہے کہ اس ملاقات کے حوالے سے وہ ایک انٹرویو میں پہلے بھی بات کر چکے ہیں۔ اور بعد ازاں اس الزام سے پیچھے بھی ہٹ چکے ہیں جب لندن میں مقیم پاکستانی صحافی اظہر جاوید سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ ان کے پاس یہ جاننے کا کوئی طریقہ نہیں تھا کہ یہ شخص واقعتاً نواز شریف کا رشتہ دار ہے یا نہیں اور نہ ہی وہ کسی بھی طریقے سے اس بات کی تصدیق کر سکتے تھے کہ اس کو واقعی نواز شریف نے بھیجا تھا۔

یاد رہے کہ عرفان ہاشمی کے ساتھ اپنے انٹرویو میں وہ کہہ چکے ہیں کہ اس شخص سے ان کی ملاقات 2012 میں ہوئی، اور انہوں نے اس کو جواب دیا کہ وہ ان کے وکلا سے بات کر لے اور یہ تصفیہ عدالتی ذرائع سے ہی کیا جائے گا۔ تاہم، خط کے الفاظ ہیں کہ while Nawaz Sharif was still in office یعنی جب نواز شریف اپنے عہدے پر ہی موجود تھے۔ 2012 میں نواز شریف کسی حکومتی عہدے پر موجود نہیں تھے۔

مسلم لیگ نواز کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ انجم ڈار نامی نواز شریف کا کوئی رشتہ دار موجود ہی نہیں ہے، لیکن صحافی منصور علی خان نے دعویٰ کیا ہے کہ انجم ڈار دراصل مسلم لیگ نواز جرمنی کا عہدیدار ہے۔ اب اس نے موساوی سے ملاقات کی یا نہیں، کی تو کس کے کہنے پر کی اور اس میں کیا پیشکش کی، اس حوالے سے کچھ بھی کہنا ممکن نہیں۔ اگر واقعی موساوی درست کہہ رہے ہیں تو اس کا فیصلہ برطانوی عدالتوں میں ہی ممکن ہے۔

دوسری طرف بیرسٹر ظفر علی، کیو سی سے کئی ماہ تک بات چیت چلنے کے بعد بالآخر جنرل ملک نے ان سے رابطہ کیا اور بتایا کہ یہ ظفر علی سے بات چیت کا کوئی فائدہ نہیں کیونکہ پاکستان میں اب تمام معاملات کچھ اور لوگ دیکھ رہے ہیں۔ آپ مجھ سے بات کریں۔ موساوی کے وکلا کی جانب سے اس خط میں کہا گیا ہے کہ یہ شخص جو خود کو جنرل ملک کہتا تھا، اس نے موساوی سے پوچھا کہ پاکستان میں بہت سے لوگ جاننا چاہتے ہیں کہ آپ کو 25 ارب ڈالر اس معاملے میں کیوں ملنے چاہئیں؟ موساوی نے جواب دیا کہ کون سے 25 ارب ڈالر؟ تو جنرل ملک نامی شخص نے جواب دیا کہ پاکستانی حکومت کے مطابق 100 ارب ڈالر ملک سے باہر لوٹ کر لے جائی گئی دولت کو آپ پاکستان واپس لانے میں مدد دیں گے تو اس میں سے 25 ارب ڈالر آپ کو کیوں ملیں؟ اگر آپ اس میں میرا حصہ دینے کو تیار ہوں تو میں آپ کو ایک نیا کانٹریکٹ دلوا سکتا ہوں۔ موساوی کا دعویٰ ہے کہ وہ یہ بات سن کر غصے میں فوراً وہاں سے اٹھ کر چلے گئے اور بعد ازاں ان سے بیرسٹر ظفر علی نے پوچھا کہ کوئی فیصلہ ہوا یا نہیں تو موساوی نے ان سے کہا کہ مقدمے کا فیصلہ تو نہیں ہوا، البتہ پاکستان سے رابطے ہنوز جاری ہیں۔

لندن میں مقیم ایک اور پاکستانی صحافی مرتضیٰ علی شاہ نے اپنی ویڈیو میں انکشاف کیا ہے کہ شہزاد اکبر نے اپنی موساوی سے ملاقاتوں کی تصدیق کی لیکن ان کا کہنا تھا کہ موساوی کے علاوہ بھی دیگر فرمز سے یہ بات چیت چل رہی تھی لیکن کسی کے پاس بھی اتنے شواہد موجود نہیں تھے جن کی بنیاد پر کوئی نیا معاہدہ کیا جا سکے۔ مرتضیٰ علی شاہ کا کہنا تھا کہ پاکستان کے سامنے براڈشیٹ کا معاملہ موجود ہے اور اس کے بعد شاید حکومت کسی نئے معاہدے میں پڑنا نہیں چاہے گی۔

یہاں البتہ چھ سوالات پیدا ہوتے ہیں۔

موساوی کے ساتھ پہلا معاہدہ 2000 میں کیا گیا اور 2003 میں اس بنیاد پر ختم کر دیا گیا کہ ان کے پاس پاکستانیوں کے بیرونِ ملک موجود اکاؤنٹس کی جانچ کے لئے وسائل ہی موجود نہیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر وسائل موجود نہیں تھے تو معاہدہ کیوں کیا گیا؟

دوسرا سوال یہ کہ اگر وسائل کی موجودگی کا اطمینان کرنے کے بعد معاہدہ کیا گیا تھا تو پھر اسے ختم کیوں کر دیا گیا؟

تیسرا سوال یہ ہے کہ یہ دونوں معاملات جنرل پرویز مشرف دور میں طے ہوئے لہٰذا سوال بھی ان سے ہونا چاہیے۔ جس کسی نے بھی یہ فیصلے لیے، ان سے کوئی سوال کرے گا؟

چوتھا سوال یہ ہے کہ اب وزیر اعظم پاکستان نے بھی موساوی کے دعووں کی بنیاد پر اپنے مخالفین کو کرپٹ ثابت کرنے کے لئے ایک ٹوئیٹ کی ہے۔ چند ماہ پہلے تک حکومتِ پاکستان برطانوی عدالت میں یہ دعویٰ کرتی آئی ہے کہ اس شخص کے پاس تو ان اکاؤنٹس کی تحقیقات کے لئے وسائل ہی موجود نہیں۔ یعنی وہ پاکستانی حکام کو الو بنا رہا تھا۔ تو پھر اس شخص کی دی گئی معلومات کو وزیر اعظم اپنے مخالفین کے خلاف کیسے استعمال کر رہے ہیں؟

پانچواں سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان ایک بار پھر براڈشیٹ کے ساتھ ایک نیا معاہدہ کرنے جا رہا ہے؟ کیونکہ نہ صرف موساوی کے مطابق انہیں ایسی پیشکش کی گئی ہے، وہ بار بار کہہ چکے ہیں کہ وہ ایسی پیشکش پر غور کرنے کے لئے تیار ہیں۔ اگر حکومت ایسا کرتی ہے تو کیا وہ پھر اسی شخص پر اعتبار کرے گی جس کے ساتھ 18 سال قبل معاہدہ اسے جھوٹا قرار دے کر توڑا گیا تھا؟

ایک سوال موساوی سے بھی ہے کہ جس ریاست نے اس سے معاہدہ کر کے توڑا، اس کی کمپنی کو بند کرنا پڑا، دس سال تک اسے ایک قانونی جنگ لڑ کر اپنی رقم واپس حاصل کرنا پڑی، وہ دوبارہ اسی ریاست کے ساتھ معاہدہ کرنے کیوں جا رہا ہے؟ کہیں یہ نواز لیگ کے دعووں کے مطابق حکومتِ پاکستان سے ایک بار پھر رقم اینٹھنے کی تیاری تو نہیں؟

اور اب چھٹا اور آخری سوال ایک بار پھر حکومتِ پاکستان سے۔ 2017 میں پانامہ JIT کے موقع پر بھی ایک برطانوی کمپنی کے ساتھ نواز شریف کے اثاثوں کی تحقیقات کے لئے ایک معاہدہ کیا گیا تھا۔ یہ کمپنی بھی دیوالیہ ہونے والی تھی لیکن اس معاہدے کے ذریعے اسے بچا لیا گیا۔ بعد میں پتہ چلا کہ JIT کے سربراہ واجد ضیا کے کزن کی کمپنی تھی۔ واجد ضیا کو بعد میں وزیر اعظم عمران خان نے FIA کا سربراہ لگا دیا۔ تو سوال یہ ہے کہ ہم ہر بار ایسی کمپنیاں کیوں ڈھونڈتے ہیں جو ہمارے معاہدوں کے بغیر دیوالیہ ہونے کے خطرے سے دو چار ہوتی ہیں؟

%d bloggers like this: