برطانوی اراکین پارلیمنٹ مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی ریاستی دہشت گردی پر بول پڑے۔

برطانوی اراکین پارلیمنٹ مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی ریاستی دہشت گردی پر بول پڑے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق مقبوضہ جموں کشمیر میں بھارتی حکومت کی جانب سے برسوں سے ڈھائے جانے والے مظالم اور نہتے کشمیریوں کی شہادت کے سلسلے پر برطانوی پارلیمنٹ کے اراکین کی جانب سے برطانوی پارلیمنٹ میں آواز بلند کی گئی ہے۔

برطانوی اراکین پارلیمنٹ نے کشمیریوں پر ہونے والے بھارتی مظالم کو اجاگر کرتے ہوئے بھارتی حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے واضح موقف اپنائے اور کشمیریوں کو بھارتی مظالم سے بچانے کے لیے اپنا موثر کردار ادا کرے۔

برطانوی سیاسی جماعت لیبر پارٹی سے تعلق رکھنے والی برطانوی رکن پارلیمنٹ سارا اوون کا مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی مظالم کو اجاگر کرتے ہوئے کہنا تھا کہ مقبوضہ جموں کشمیر میں بھارتی حکومت کی جانب سے کیا گیا لاک ڈاؤن کشمیریوں کے تحفظ کے لیے نہیں ہے بلکہ کشمیریوں پر ہونے والے ظلم سے دنیا کو بے خبر رکھنے کی ایک سازش ہے۔

سارا اوون کا کہنا تھا کہ بھارتی حکومت نے کشمیریوں کو جبری طریقے سے دبانے کے لیے مقبوضہ جموں کشمیر میں 5 لاکھ سے زائد فوج تعینات کررکھی ہے، جنہوں نے لاک ڈاؤن کے نام پر لوگوں کو گھروں میں قید کر رکھا ہے، مقبوضہ کشمیر میں سنگین انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں دیکھنے میں آئی ہیں جبکہ کشمیری مسلمانوں کو ہسپتال میں بھی نہیں جانے دیا جا رہا۔

ان کا کہنا تھا کہ برطانوی پارلیمنٹ میں ہمیشہ سے خواتین کے حقوق تحفظ کی بات کی ہے، کیا برطانوی اراکینِ پارلیمنٹ کے بیانات بھارتی فوج کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی خواتین پر کیے جانے والے مظالم سے مطابقت رکھتے ہیں؟ مقبوضہ کشمیر کی خواتین کی پناہ کے لیے دی گئی درخواست کو سنجیدہ لیتے ہوئے کشمیر میں ہونے والی ہلاکتوں کی آزاد اور شفاف تحقیقات ہونی چاہیے۔

لیبر پارٹی سے تعلق رکھنے والی سارا اوون کا مزید کہنا تھا کہ مقبوضہ جموں کشمیر میں مکمل طور پر آزادی اظہار رائے پر پابندی عائد ہے، تاہم اگر مقبوضہ کشمیر میں کوئی مودی سرکار کے خلاف آواز بلند کرتا ہے تو اسے دہشت گرد قرار دے کر یا تو قتل کر دیا جاتا ہے یا پھر جیل میں ڈال دیا جاتا ہے۔

لیبر پارٹی کے ہی برطانوی رکن پارلیمنٹ اسٹیفین کنوک کا بھی کشمیریوں کے حق میں آواز بلند کرتے ہوئے کہنا تھا کہ کشمیر اس وقت سب سے پرانا حل طلب مسئلہ ہے، گذشتہ 30 برس سے 95 ہزار سے زیادہ کشمیریوں کو قتل کیا جا چکا ہے، مسئلہ کشمیر پر اقوام متحدہ کی قراردادوں کو مانتے ہیں۔

رکن پارلیمنٹ جان سیپلر کا کہنا تھا کہ ہم بھارت کے اس نقطہ نظر کو مسترد کرتے ہیں کہ مقبوضہ کشمیر اور پنجاب کی صورتحال اس کا اندرونی معاملہ ہے، ہم بھارت کے مخالف نہیں ہیں تو اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی جانب سے کیے گئے مظالم پر بھارت کو ذمہ دار نہ ٹھہرایا جائے، مقبوضہ کشمیر کی موجودہ صورتحال کا بھارت ذمہ دار ہے۔

برطانوی رکن پارلیمنٹ سارا برٹیکلئیر کہنا تھا کہ گزشتہ ایک سال سے مقبوضہ کشمیر میں سیاسی اور انسانی حقوق کی بات کرنے والوں کو بھارتی فوج کی جانب سے جیلوں میں ڈالا جا رہا ہے اور انہیں قانونی اور عدالتی کارروائی کا حق بھی نہیں دیا جا رہا، دو ایٹمی طاقتوں کے درمیان اس طرح کا تنازعہ ہونا بلاشبہ باعث تشویش ہے، جس کا حل ہونا پر امن خطے کے لیے ناگزیر ہے۔

ناز شاہ کا کہنا تھا کہ برطانوی حکومت نے 2015 سے لے کر 2020 کے دوران بھارت کو پچاس ارب پاؤنڈ کا اسلحہ بیچا ہے، جسے وہ کشمیریوں کا خون بہانے کے لیے استعمال کر رہا ہے، انھوں نے برطانوی وزیراعظم بورس جانسن کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ "بورس جونسن نے بھارت کا دورہ تو ملتوی کیا ہے، کیا وہ اسلحہ بیچنا بھی بند کریں گے؟”

ناز شاہ کا مزید کہنا تھا کہ اس وقت عالمی اداروں ، حکومتوں اور قائدین کو کیا یہ کہ وہ بھارت کو مقبوضہ کشمیر میں کشمیریوں کی نسل کشی اور ماورائے عدالت قتل سے روکے، اگر بھارت کو اس قتل عام سے نہ روکا گیا تو تاریخ ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گی۔

ڈیموکریٹک یونینسٹ پارٹی کی برطانوی رکن پارلیمنٹ جیم شینن کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق بھارت نے سنگین انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ہیں 144 بچوں کو حراست میں لیا، جس کی تحقیقات بھی نہیں کی گئیں، اس کے علاوہ مقبوضہ کشمیر میں مذہبی آزادی بھی پامال کی جا رہی ہے۔

جیم شینن کا کہنا تھا کہ کشمیر چیمبر آف کامرس کے مطابق آرٹیکل 370 کی منسوخی کے پہلے 3 ماہ میں 204 ارب ڈالر کا نقصان ہوا، انہوں نے کہا کہ برطانوی حکومت کو چاہیے کہ وہ عالمی مبصرین کی مقبوضہ کشمیر تک رسائی کے لیے اقدامات کرے، تاکہ مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پوری دنیا کے سامنے لائی جا سکے۔

The post برطانوی اراکین پارلیمنٹ مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی ریاستی دہشت گردی پر بول پڑے۔ appeared first on Siasat.pk Urdu News – Latest Pakistani News around the clock.

%d bloggers like this: