بریکنگ نیوز: آذربائیجان کے ساتھ لڑائی میں پھنسا آرمینیا کس ملک کی امداد اور تعاون کا منتظر ہے ؟ نام آپ کو حیران کر دے گا

باکو (ویب ڈیسک)آذر بائیجان اور آرمینیا کے درمیان لڑائی کا سلسلہ جاری ہے اور تازہ صورتحال کے مطابق آذربائیجان فوج نے منگل کے روز آرمینیا فوج کے کئی ٹینک اور فوجی گاڑیاں تباہ کر دیں جبکہ ٹینکوں اور فوجی گاڑیوں پر قبضہ کر لیا۔ادھر آرمینیا لڑائی کے دوران روس کی مدد کی طرف دیکھنے لگا ہے ،


دوسری طرف ترکی نے دونوں ملکوں کے درمیان لڑائی بند کرانے کیلئے اپنا کردار ادا کرنا شروع کردیا اور اسی سلسلے میں ترکی کے وزیرخارجہ میولوت چاوش اولو آذربائیجان کے دارالحکومت باکو پہنچےاور صدر الہام علیوف سے ملاقات میں ناگورنو کاراباخ سے متعلق تازہ ترین صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔تفصیلات کے مطابق آرمینیا کے وزیراعظم نکول پشنیان نے منگل کو کہا ہے کہ انہیں یقین ہے ک آذر بائیجان کے ساتھ لڑائی میں اگر ضرورت پڑی تو روس اس کے دفاع کیلئے آجائے گا۔دوسری جانب ایک خبر کے مطابق اٹارنی جنرل آف پاکستان خالد جاوید خان نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے روبرو کہا ہے کہ بھارت نے ایک بار پھر کلبھوشن یادیو سے متعلق عدالتی کارروائی کا حصہ بننے سے انکار کردیا ہے۔جسٹس اطہر من اللہ نے استفسار کیا کہ بھارت اور کلبھوشن وکیل نہیں کرتے تو کیس کیسے آگے بڑھائیں؟ اسلام آباد ہائی کورٹ نے کلبھوشن یادیو کیس میں عالمی عدالت انصاف کے فیصلہ پر عمل درآمد سے متعلق قانونی نکات پر معاونت طلب کرلی۔سماعت سے قبل 2 سینئر وکلا مخدوم علی خان اور عابد حسن منٹو نے عدالتی معاونت سے معذرت کرلی۔ عابد حسن منٹو نے خراب صحت جب کہ مخدوم علی خان نے پروفیشنل وجوہات کی بنیاد پر پیش ہونے سے معذرت کرلی۔چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس اطہر من اللہ کی سربراہی میں لارجر بینچ نے کلبھوشن یادیو کو وکیل فراہم کرنے کیلئے وزارت قانون کی درخواست پر سماعت کی۔دوران سماعت اٹارنی جنرل خالد جاوید خان نے عدالت کو بتایا کہ وزارت خارجہ نے 4 ستمبر کو بھارتی وزارت خارجہ کو عدالتی حکم کے حوالے سے آگاہ کیا، 7 ستمبر کو بھارتی حکومت نے پاکستانی وزارت خارجہ کا جواب دیا، بھارت نے ایک بار پھر عدالتی کارروائی کا حصہ بننے سے انکار کردیا ہے۔اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ بھارت جان بوجھ کر کلبھوشن یادیو کیس سے بھاگ رہا ہے، ایسا معلوم ہوتا ہے کہ بھارت کو کلبھوشن کے مستقبل سے کوئی دلچسپی نہیں، وہ سیاسی طور پر معاملے کو دیکھنا چاہتا ہے۔آئینی طور پر ہماری ذمہ داری ہے کہ فئیر ٹرائل کے تمام تقاضے پورے کئے جائیں،میری استدعا ہے کہ کارروائی آگے بڑھانے کیلئے عدالت کلبھوشن کیلئے وکیل مقرر کرے۔







%d bloggers like this: