بریکنگ نیوز: یہ تما م ووٹ گنتی سے خارج کردو ۔۔۔ امریکا کے صدارتی انتخابات میں سپریم کورٹ نے ایسا حکم نامہ جاری کردیا کہ ٹرمپ کی جیت کی امیدیں بڑھ گئیں

واشنگٹن(ویب ڈیسک) امریکی سپریم کورٹ نے امریکی صدارتی انتخابات کے حوالے سے اہم حکم نامہ جاری کرتے ہوئے ریاست پینسلوینیا میں الیکشن بورڈ کو حکم دیا ہے کہ وہ الیکشن کے دن رات 8بجے کے بعد ڈاک کے ذریعے موصول ہونے والے بیلٹس کو علیحدہ کر لیں سپریم کورٹ کے جج جسٹس سیمیول الیٹو نے یہ حکم ستمبر



سے زیر التواءکیس کے فیصلے میں دیا ہے.صدرٹرمپ کی جانب سے ستمبر میں ریاست پینسلوینیا کی اعلی عدالت میں پوسٹل بیلٹس کو روکنے کے لیے کیس دائرکیا تھا عدالت نے ان کی درخواست کو مسترد کردیا تھا جس کے بعد انہوں نے سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی تھی سپریم کورٹ نے بھی پینسلوینیا کی ریاستی عدالت کے فیصلے کو برقراررکھتے ہوئے ان کی اپیل رد کردی تھی جس کے خلاف ری پبلکن امیدوار کی جانب سے ایک اور اپیل دائر کی گئی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ اعلیٰ عدلیہ کی جانب سے سنائے گئے فیصلے کو کالعدم قرار دے جو ایکشن حکام کو اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ وہ 3 کے الیکشن کے بعد 6نومبر کو پہنچائے گئے میل بیلٹس کو بھی گنتی میں شامل کر لے.سپریم کورٹ کے جج الیٹو نے یہ حکم پینسلوینیا کے ریپبلیکنز کی جانب سے کی گئی درخواست پر جاری کیا جس میں کہا گیا ہے کہ وہ بیلٹس کو الگ کردیں‘واضح رہے کہ امریکی صدارتی انتخابات میں ڈیموکریٹس کے امیدوار جو بائیڈن فتح کے نزدیک پہنچ گئے ہیں انہیں زیادہ الیکٹورل ووٹس حاصل ہیں اور انہوں نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف برتری مزید مستحکم کر لی ہے.سپریم کورٹ اس سے قبل دو مرتبہ ریپبیکنز کی درخواست کو مسترد کر چکا ہے جہاں اکتوبر میں عدالت زیریں عدالت کا فیصلہ مسترد کرنے کی استدعا مسترد کردی تھی جبکہ بعدازاں اسی درخواست کی جلد سماعت کی اپیل مسترد کردی گئی تھی ابتدا میں جج نے کہا تھا کہ وہ 3نومبر کے بعد اس درخواست پر ازسرنو غور کر سکتے ہیں. 6


نومبر کو اپنی درخواست میں پینسلوینیا کے ریپبلیکنز نے کہا کہ یہ واضح نہیں کہ تمام 67 کاﺅنٹی کامن ویلتھ سیکرٹری کیتھی بوکویر کے 28اکتوبر کی پیروی کر رہے ہیں یا نہیں جس میں کہا گیا تھا کہ دیر سے آنے والے بیلٹس کو الگ کیا جائے.بوکویر نے کہا کہ دیر سے آنے والے بیلٹس کل ووٹوں کی کے مقابلے میں انتہائی قلیل تعداد میں ہوتے ہیں درخواست میں کہا گیا کہ 25کاﺅنٹیز نے یہ نہیں بتایا کہ وہ متنازع بیلٹس کو الگ کررہی ہیں یا نہیں جو اس صورت میں انتہائی ضروری ہو جاتے ہیں اگر سپری کورٹ کیس سننے کا فیصلہ کرتی ہے اور فیصلہ بدل دیتی ہے. ڈونلڈ ٹرمپ نے اس سلسلے میں عدالت سے مداخلت کی درخواست کی تھی لیکن ان کی اس درخواست پر کوئی خاص عمل نہیں کیا واضح رہے کہ امریکا صدارتی انتخاب میں دنیا فاتح کو دیکھنے کی منتظر ہے لیکن چند ریاستوں کی وجہ سے نتائج تاخیر کا شکار ہیں.انتخابات میں اب بھی ہزاروں ووٹوں کی گنتی اب بھی باقی ہے اور یہ واضح نہیں ہوسکا کہ مقابلہ کب اختتام پذیر ہوگاووٹوں کی گنتی کا عمل 5ویں روز میں داخل ہوا ہے اس وقت سابق نائب صدر جو بائیڈن کو الیکٹرول کالج میں ٹرمپ پر50ووٹوں کی برتری حاصل ہے ریاست پینسلوانیا کے 20 الیکٹورل ووٹس حاصل کرنے کے بعد جو بائیڈن 270 ووٹ حاصل کرلیں گے جو انہیں صدر کا عہدہ سنبھالنے کے لیے ضروری ہیں.ریاست ایریزونا میں جو بائیڈن 97 فیصد ووٹوں کی گنتی کے بعد 29 ہزار 861 ووٹون کی برتری حاصل ہے جبکہ نیواڈا میں 93 فیصد ووٹوں کی گنتی کے بعد وہ 22 ہزار 657 ووٹ آگے ہیں جارجیا میں وہ 99 فیصد ووٹوں کی گنتی کے


بعد صرف 4 ہزار 289 ووٹ آگے ہیں جبکہ 96 فیصد ووٹوں کی گنتی مکمل ہونے پر 27 ہزار 130 ووٹ آگے ہیں. یا رہے کہ سال2000کے صدارتی انتخابات کے تنازع میں سپریم کورٹ کے 5 ججوں نے صدر بش کے حق میں فیصلہ دیا تھا جنہیں رپبلکن پارٹی کے دور میں جج بنایا گیاتھا جبکہ ایلگور کے حق میں فیصلہ دینے والے چار ججوں کوڈیموکریٹ پارٹی کے دور میں سپریم کورٹ میں تعینات کیا گیا تھا .ڈاک کے ذریعے ووٹ ڈالنے کے حوالے سے امریکی قانون کیا کہتا ہے؟ عام طور پر ووٹرز کو ایک مقامی الیکشن دفاتر کی جانب سے ارسال کردہ بیلٹ فارم کو پرکر کے اپنے دستخط کرنا ہوتے ہیں جس کے بعد وہ اس بیلٹ کو لفافے میں محفوظ کر کے اپنے قریب ترین ڈاک کے ڈبے یا باکس میں ڈال کر ارسال کر دیتے ہیں. کورونا وائرس سے قبل پانچ ریاستیں، کولوراڈو، ہوائی، اوریگون، واشنگٹن اور یوٹا نے پہلے ہی سے تمام ووٹرز کو ڈاک کے ذریعے ووٹ ڈالنے کی اجازت دے رکھی تھی اور تمام رجسٹرڈ ووٹرز کو بغیر طلب کیے ہی بیلٹ پیپر ارسال کیے جاتے تھے تاکہ اگر وہ پولنگ اسٹیشن جا کر ووٹ نہیں ڈالنا چاہتے تو ڈاک کے ذریعے ووٹنگ کے عمل میں شریک ہوں سکیں اس سال کورونا وائرس کے ممکنہ پھیلاﺅ کو روکنے کے لیے وفاقی دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی‘ریاست کیلی فورنیا اور نیو جرسی سمیت29ریاستوں نے اس سال کے انتخابات کے لیے اس ماڈل کو اپنایا ہے اور ووٹرز کو اجازت دی کہ وہ کسی عذر یا وجہ بتائے بغیر ڈاک کے ذریعے ووٹ ڈالنے کے لیے اپنا اپنا بیلٹ منگوا سکتے ہیں.

قبل ازیں ووٹر کو ڈاک کے ذریعے ووٹ ڈالنے کے لیے مقعول عذر پیش کرنا پڑتا تھا مگر 2020میں کورونا وائرس کے ممکنہ پھیلاﺅ اور دوسری لہر کو روکنے کے لیے صحت عامہ کے نگران ادارے ”سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول“ (سی ڈی سی) نے ووٹرز کو مشورہ دیا تھا کہ وہ روایتی طور پر قطاروں میں لگ کر ووٹنگ کے بجائے متبادل طریقوں سے ووٹ کا حق استعمال کریں سرکاری ویب سائٹ پر ووٹرز سے کہا گیاتھا کہ اگر وہ ڈاک کے ذریعے ووٹ ڈالنا چاہیں تو انہیں اپنی اپنی ریاست کے طریقہ کار سے آگاہی حاصل کرنی چاہیے.سرکاری تفصیلات کے مطابق انتخابات کے دن سے پہلے ووٹ ڈالنے کے لیے ووٹر کے پاس کوئی عذر ہونا لازمی نہیں اس سے مراد یہ ہے کہ کوئی بھی ووٹر انتخابات میں شرکت کے عمل میں اس متبادل طریقہ کار کو اپنا سکتا ہے عام طور پر ووٹرز کو ایک مقامی الیکشن دفاتر کی جانب سے ارسال کردہ بیلٹ فارم کو پرکر کے اپنے دستخط کرنا ہوتے ہیں جس کے بعد وہ اس بیلٹ کو لفافے میں محفوظ کر کے اپنے قریب ترین ڈاک کے ڈبے یا باکس میں ڈال کر ارسال کر دیتے ہیں.امریکہ دنیا میں کورونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثرہونے والا ملک ہے جس کی وجہ سے اس سال ڈاک کے ذریعے ریکارڈ ووٹ ڈالے گئے ہیں ملک میں گزشتہ کئی انتخابات میں ڈاک کے ذریعے ووٹ ڈالنے کے رجحان میں اضافہ دیکھا گیا ہے. سرکاری تفصیلات کے مطابق اس سال امریکی ریاستیں کورونا وائرس کے پیش نظر ڈاک کے ذریعے ووٹنگ کی اجازت دی تھی لیکن ہر ریاست نے اس سلسلے میں اپنا اپنا طریقہ کار متعین کیا ہے


ملک میں 12 ریاستیں ایسی ہیں جہاں ووٹرز کو یہ سہولت میسر ہے کہ وہ کسی خاص وجہ کو بیان کر کے ڈاک کے ذریعے ووٹ ارسال کر سکتے ہیں مثال کے طور پر کسی ووٹر کا انتخاب کے وقت ملک سے باہر ہونا یا 65 سال سے زائد عمر کا ہونا شامل ہیںہر ریاست میں ڈاک کے ذریعے ووٹنگ کا نہ صرف آغاز مختلف تاریخوں پر ہونا تھا اور اس عمل کا اختتام بھی مختلف تاریخوں پر ہوا.صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بڑے پیمانے پر ڈاک کے ذریعے ووٹ ڈالنے پر بارہا اعتراضات اٹھائے تھے ان کا کہنا تھا کہ ووٹرز کے کسی جگہ پر موجود نہ ہونے کی صورت میں ڈاک کے ذریعے غیر حاضری پر کوئی اعتراض نہیں اگر وہ خود بھی اس سہولت کے تحت کسی دوسری ریاست میں رہتے ہوئے ڈاک کے ذریعے ووٹ ڈالنے کا طریقہ اپناتے لیکن عذر کے بغیر تمام ووٹرز کو یہ سہولت دینا الیکشن فراڈ کا باعث بن سکتا ہے.صدر ٹرمپ اس خدشے کا بھی اظہار کرتے رہے ہیں کہ ڈاک کے ذریعے ووٹنگ کا عمل الیکشن نتائج میں تاخیر کا بھی باعث بن سکتا ہے کیوں کہ بیلٹ پیپر گم ہونے کا امکان بھی رہے گا صدر ٹرمپ کے حامیوں کا یہ بھی موقف رہا ہے کہ ڈاک کے ذریعے ووٹنگ میں اس بات کو یقینی بنانا بھی بہت مشکل ہے کہ ووٹر نے اپنی مرضی کے مطابق فیصلہ کیا ہے یا نہیں. اس سے قبل 2018کے مڈٹرم الیکشن میں بھی کچھ ریاستوں میں ووٹ بذریعہ ڈاک کا تجربہ بڑا کامیاب رہا لیکن کچھ ریاستوں نے ڈاک کے ذریعے ووٹنگ کے عمل کو قابل اعتبار بنانے کے لیے مزید اقدامات بھی کیے تھے ریاست جنوبی کیرولائنا میں ہر ووٹر کے بیلٹ پر کرتے وقت ایک گواہ کا اس جگہ پر موجود ہونا لازمی قرار دیا گیا ہے اس گواہ کی موجودگی اور دستخط کے بعد ہی کوئی ووٹ ارسال کیا جاسکتا ہے.ڈیموکریٹک امیدوار جو بائیڈن اور ان کی پارٹی کا موقف تھاکہ کورونا وائرس کے خطرات کے پیش نظر ڈاک کے ذریعے ووٹنگ صحت عامہ کے لیے ضروری ہے اس سلسلے میں کچھ مبصرین اور ڈیمو کریٹک پارٹی کے حمایتی کہتے ہیں کہ مروجہ طریقہ کار ووٹ کے عمل کو قابل اعتبار بنانے کے لیے کافی ہے کیوں کہ ایسی ریاستیں جہاں تمام ووٹرز کو بیلٹ ارسال نہیں کیے جاتے وہاں وہ شہری خود درخواست کے ذریعے بیلٹ منگواتے ہیں اس کے علاوہ ان کے ووٹ کے موصول ہونے کی تصدیق بھی ہوتی ہے.ماہرین کا موقف ہے کہ 2004 سے 2016 کے انتخابات کے دوران ڈاک کے ذریعے ووٹنگ میں دو گنا سے بھی زیادہ اضافہ ہوا تاہم اس میں فراڈ کے خطرے کو جس طرح بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا تھا


وہ انتہائی تشویشناک تھا جب ریاستیں اور قانون اس کی اجازت دیتا ہے تو اس کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کرنا واہیات حرکت ہے ماہرین کا کہنا ہے کہ اکثرریاستوں کا قانون اجازت دیتا ہے کہ 3نومبر کو ڈاک کے سپرد کیئے گئے ووٹ 10دن بعد بھی موصول ہوں تو انہیں گنتی میں شامل کیا جائے گااور ریاستوں نے آئین کے مطابق5ہفتوں کے اندر نتائج کا اعلان کرنا ہوتا ہے تو اس میں جلد بازی کی ضرورت کیا ہے؟.کئی قانونی ماہرین اس خدشے کا اظہار کررہے ہیں سال2000کی تاریخ دہرائی جاسکتی ہے تاہم 2020میں حالات مختلف ہیں اور سپریم کورٹ کی جانب سے سال2000جیسا کوئی فیصلہ ملک کو خانہ جنگی کی جانب لے جاسکتا ہے اس لیے سپریم کورٹ کو انتہائی احتیاط سے کام لینا ہوگا اور اگر معاملہ سپریم کورٹ میں جاتا ہے تو اسے ملکی مفاد کو مقدم رکھ کرفیصلہ کرنا ہوگا. یو ایس الیکشنز پراجیکٹ کے مطابق اس سال 2016 کے انتخابات کے مقابلے میں ڈاک کے ذریعے ڈالے گئے ووٹوں کی تعداد کئی گنا زیادہ ہے جس کی بنیادی وجہ کورونا وائرس کا خوف ہے ”لاس اینجلس ٹائمز“ کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایسی ریاستیں جن کے 2016 کے انتخابات کے نتائج میں ہار اور جیت میں بہت کم ووٹوں کا فرق تھا وہاں ووٹوں کے تاخیر سے پہنچنے سے الیکشن کے نتائج پر اثر ہو سکتا ہے.اسٹینفرڈ یونیورسٹی کی ایک تحقیق کے مطابق ڈاک کے ذریعے ووٹنگ سے کسی بھی پارٹی کو سبقت یا فائدہ حاصل نہیں ہوتا مبصرین کے مطابق 2020 کے انتخابات میں بذریعہ ڈاک ووٹنگ کی اہمیت پہلے سالوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے کیوں کہ نتائج اور پرامن انتقالِ اقتدار کے پہلو بھی اس سے منسلک ہیں.



%d bloggers like this: