بھائی ہم شرمندہ ہیں!

بینک مینجر محمد عمران حنیف

اسلامی جمہوریہ پاکستان کے شہر قائد آباد میں دلخراش واقعہ پیش آیا۔ نیشنل بینک کا عملہ برانچ کھلنے پر معمول کا کام شروع کر چکا تھا۔ جواں سال بینک مینجر محمد عمران حنیف سیٹ پہ براجمان تھا ۔ بینک گارڈ احمد نواز عین ان کے سامنے کرسی پر آ بیٹھا ۔ دوسرا گارڈ اپنے مینجر کے پاس کھڑا کوئی بات کر رہا ہے۔

اسی اثناء میں اچانک احمد نواز نامی گارڈ کھڑا ہوا دو قدم آگے بڑھا اور عمران حنیف پر تابڑ توڑ تین فائر کھول دیئے ابھی اس کے غیض و غضب کی آگ ٹھنڈی نہ ہو پائی تھی یہ مزید فائر کرنے لگا تو دوسرے گارڈ نے لپک کر اس کو قابو کیا اور روکا۔

فائر کرنے کے بعد یہ گارڈ بینک سے باہر آیا نعرے لگائے کہ مینجر قادیانی تھا اسے مار آیا ہوں جہاں سے ایک ہجوم اس کے ساتھ نعرے مارتا ہوا ساتھ ہو لیا غلامی رسول میں موت بھی قبول ہے ان نعروں کی گونج میں اسے متعلقہ تھانے لے جایا گیا جہاں یہ لوگوں سمیت تھانے کی چھت پہ چڑھ گیا وہاں سے اعلان ہوا کہ ہماری مرضی کی ایف آئی آر درج ہو چکی ہے۔

ادھر زخمی مینجر کو تحصیل ہیڈ کوارٹر ھسپتال لے جایا گیا حالت سیریس ہوئی تو سروسز ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں یہ جانبر نہ ہو سکا۔

تھانے سے ویڈیو وائرل ہوئی جس میں گارڈ احمد نواز چائے کی چسکیاں لیتے ہوئے مقتول پہ فرد جرم عائد کرتے ہوئے کہہ رہا تھا۔

وہ کہتا تھا انبیاء اللہ کے محتاج ہوتے ہیں۔
وہ کہتا تھا فرض نماز ضروری یے سنتیں نہیں۔

میں نے کل مقتول عمران حنیف کی وال کا جائزہ لیا جو اللہ کی وحدانیت ، نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت آھل بیت سے عقیدت کے رنگوں سے مزین تھی کوئی ایک بھی پوسٹ ایسی نہ تھی جس پہ یہ جوان واجب القتل قرار دیا جاتا۔

ابھی کچھ دیر پہلے میری مقتول کے بڑے بھائی کامران سے فون پر بات ہوئی بات کیا ہونا تھی دوسری جانب اس بھائی کی آہیں اور سسکیاں تھیں جس نے کم عمری میں ہی والد کے سانحہ ارتحال کے بعد اپنے بھائیوں کو بیٹوں کی طرح پالا۔

میں نے عرض گذاری اھل گجرات اور اھل پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے آپ کے اس قیامت خیز دکھ میں شریک ہوں۔ کہنے لگے بھائی کچھ نہ پوچھیں ہم پہ کیا بیت رہی یے، میرا ہیروں جیسا راج دلارا بھائ گولیوں سے بھون دیا گیا اس سے بھی بڑا صدمہ یہ ہے کہ اس پہ کیا تہمت لگا کے مار دیا گیا، توہین رسالت کا قادیانیت کا، یہ الزام ہم سب کو قتل کر دینے کے مترادف ہے۔

میرا بھائی ایک راسخ العقیدہ مسلمان اور دل میں عشق نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شدید تڑپ رکھنے والا تھا أ وہ تو کوئی ایسی محفل نہ چھوڑتا جہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا تذکرہ ہوتا، آج آپ دیکھتے میرے بھائی کا جنازہ جوھر آباد کی تاریخ کا ایک بہت بڑا جنازہ تھا۔

مجھ میں مزید بات کرنے کی سکت نہ رہی اشکبار آنکھوں کو پونچھتے ہوئے فون بند کر دیا۔

اس سے اگلی کال قائد آباد شہر میں ملائی مقتول کے ساتھ کام کرنے والے ایک صاحب لائن پر تھے، کہنے لگے ہمارے صاحب انتہائی ملنسار غریب پرور اور خدا ترس انسان تھے شاید ہی کبھی کسی کا دل دکھایا ہو۔

اس سے آگے جو کچھ انہوں نے کہا وہ سن کر یوں لگا میرا دل شدت غم سے پھٹ جائے گا، کہنے لگے مقتول نے اسی گارڈ کے ہاتھ کچھ دن قبل 5 ہزار روپے ایک مسجد کے لئے عطیہ بھجوایا اور یہی بد بخت گارڈ ایک دن پریشان بیٹھا تھا، عمران حنیف نے پوچھا کیا ہوا، کہنے لگا موبائل گم ہو گیا ہے اسی وقت مینجر صاحب نے اسے پیسے نکال کر دیئے کہ جاؤ موبائل لے لو ۔

آج جوھر آباد اور قائد آباد کی ہر آنکھ اشکبار اور ہر دل سوگوار ہے

اور میں سوچ میں گم ہوں کہ ہم کس راستے پر چل نکلے ہیں ایک سچے عاشق رسول کو لہو لہان کر کے نعرے لگاتے ہیں پھر اس کے قاتل کو کندھے پر بٹھا کر اس کا جلوس نکالتے ہیں، اس کے ہاتھ پاوں چومتے ہیں کل حشر کے روز اگر مقتول عمران حنیف نے شافع محشر کے حضور اپنا جرم پوچھ لیا تو؟

The post بھائی ہم شرمندہ ہیں! appeared first on Siasat.pk Urdu News – Latest Pakistani News around the clock.

%d bloggers like this: