بیرسٹر شہزاداکبر نے مریم اورنگزیب کو قانونی نوٹس بھجوادیا

مشیر داخلہ بیرسٹر شہزاد اکبر نے مسلم لیگ (ن) کی ترجمان مریم اورنگزیب کو ان کے بیان پر قانونی نوٹس بھجوا دیا ہے جس میں ان سے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

نجی ٹی وی چینل سے بات کرتے ہوئے بیرسٹر شہزاداکبر نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ مریم اورنگزیب ایک بھولی خاتون ہے جس نے سنی سنائی بات پر یقین کرلیا، اسکی انگلش بھی مجھے کمزور لگ رہی ہے۔

بیرسٹر شہزاداکبر نے مزید کہا کہ میں نے 50 کروڑ روپے ہرجانے کا دعویٰ کیا ہے، انہیں دو ہفتوں کا وقت دیتا ہوں ، یہ یاتو الزام ثابت کریں یا پھر معافی مانگیں

شہزاداکبر کا مزید کہنا تھا کہ براڈشیٹ کا مالک یہ کہہ رہا ہے کہ شہزاداکبر ایماندار شخص ہے لیکن اس نے سنی سنائی بات پر الزام لگایا ہے، میں نے اسے نوٹس بذریعہ ڈاک بھجوادیا ہے، میرے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر بھی شئیر ہے ، مجھے اسکا وٹس ایپ نمبر اور ای میل دیدیں میں اس پر بھی بھجوادوں گا۔

دوسری جانب ٹوئٹر پر ایک بیان میں شہزاد اکبر نے کہا کہ میرے وکلا نے مریم اورنگزیب کو توہین آمیز بیان پر قانونی نوٹس بھجوایا ہے۔ مریم اورنگزیب کو نوٹس میں کہا ہے کہ معافی مانگیں، وہ معافی نہیں مانگتیں تو پھر انھیں قانونی کارروائی کا سامنا کرنا ہوگا۔

خیال رہے کہ مریم اورنگزیب نے اپنے ایک حالیہ بیان میں الزام عائد کیا ہے کہ مشیر داخلہ شہزاد اکبر براڈ شیٹ کے انکشافات کے بعد متنازع ہو چکے ہیں، انہوں نے لندن میں براڈ شیٹ سے کمیشن کا مطالبہ کیا تھا۔

مریم اورنگزیب کا مزید کہنا تھا کہ براڈ شیٹ کمپنی نے حکومتی مشیروں کا منہ کالا کر دیا، ملکی تاریخ میں سب سے زیادہ منی لانڈرنگ آج ہو رہی ہے۔ نوازشریف کے خلاف مقدمہ بنانے کیلئے 600 کروڑ دیئے، مشرف نے 600 کروڑ روپے اپنی جیب سے نہیں دیئے، براڈ شیٹ کمپنی سے کہا گیا نواز شریف کیخلاف کیس بنائے جائیں، مشرف کی کابینہ کا حصہ بننے والوں کو لسٹ سے نکالنے کا حکم دیا گیا۔

مریم اورنگزیب نے دعویٰ کیا کہ نیب اور سرکاری کاغذوں میں اربوں روپے کی ریکوری کا دعویٰ ہورہا ہے جو غلط ہے، کسی قسم کی ریکوری نہیں ہورہی ، ،عمران خان کی چوری پکڑی جا رہی ہے تو براڈشیٹ یاد آگئی، براڈ شیٹ نے آمر اور آپ کیخلاف چارج شیٹ دی۔

The post بیرسٹر شہزاداکبر نے مریم اورنگزیب کو قانونی نوٹس بھجوادیا appeared first on Siasat.pk Urdu News – Latest Pakistani News around the clock.

%d bloggers like this: