بیٹا نہ پوتے نوازشریف کی والدہ کی میت کے ساتھ کوئی پاکستان آنے کو تیار نہیں،میت کو کیسے پاکستان بھیجوایاجائےگا؟کارکنوں کیلئے بڑی خبر

لندن(ویب ڈیسک) سابق وزیراعظم نوازشریف کا والدہ کی میت کے ساتھ پاکستان آنے کا کوئی امکان نہیں ، میت کو اکیلے کسی بھی فلائٹ میں پاکستان بھیجا جائےگا۔۔نجی ٹی وی کے مطابق نوازشریف کاوالدہ کی میت کےساتھ آنےکاامکان نہیں ہے۔۔ ذرائع کا کہناہے کہ شریف خاندان کےتمام ارکان پارک لین فلیٹس میں جمع ہیں۔جبکہ حتمی فیصلہ شہبازشریف



کی رہائی کے بعد ان کی مشاورت سے کیا جائےگا۔ دوسری جانب شریف خاندان نے میت کو لندن سے لاہور لے جانے کیلئے 3ایئرلائن سے رابطہ کرلیا ہے۔ دوسری جانب ذرائع کا کہنا ہے کہ میت کو پاکستان پہنچانے کیلئے کم سے کم چار دن لگیں گے۔۔ واضح رہے کہ کلثوم نواز کی میت کے ساتھ بھی ان کے بیٹے نہیں آئے تھے اسی طرح نوازشریف کی والدہ کی میت کے ساتھ بھی بیٹااور پوتوں میں سے کوئی نہیں آئےگا۔مسلم لیگ (ن) کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل عطااللہ تارڑ نے کہا ہے کہ محترمہ بیگم شمیم اختر کا جسدخاکی پاکستان آنے میں دو سے تین روز لگ سکتے ہیں کیونکہ ابھی یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ جسد خاکی کس فلائٹ سے پاکستان پہنچائی جائے گی،وزیرقانون نے دونوں بھائیوں میں ٹیلیفونک گفتگو کاانتظام کرایاہے اور شہباز شریف اپنے بھائی سے بات کرتے ہوئے آبدیدہ ہو گئے، کوشش ہے شہباز شریف کی پیرول پر رہائی تدفین سے ایک روز قبل شروع ہو اور تعزیت کیلئے آنے والوں سے ملاقاتوں کیلئے کم ازکم دوہفتوں کی رہائی دی جائے۔ کوٹ لکھپت جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ محترمہ بیگم شمیم اختر کے انتقال کے بعد شہباز شریف اور حمزہ شہباز کو جیل میں ایک جگہ اکٹھا کیا گیا اور دونوں انتہائی رنجیدہ تھے۔ وزیر قانون راجہ بشارت نے جیل قوانین کے تحت نواز شریف اور شہباز شریف میں ٹیلیفونک رابطے کا بھی انتظام کرایا، شہباز شریف اپنے بھائی سے بات کرتے ہوئے آبدیدہ ہو گئے۔ انہوں نے کہا کہ جب شریف برادران کے والدمحترم میاں محمد شریف کا انتقال ہوا تواس وقت وہ جلا وطن تھے اور تدفین کے عمل میں شریک نہیں ہو سکے تھے۔یہ انتہائی غم کی گھڑی ہے اورقوم سے اپیل ہے کہ مرحومہ کی مغفرت کے لئے اور شریف خاندان کی آسانی کیلئے دعا کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ ہم وزیرقانون راجہ بشارت سے رابطے میں ہیں،کوشش ہے کہ شہباز شریف کی پیرول پر رہائی جسد خاکی آنے سے ایک روز قبل شروع ہوکیونکہ انہوں نے انتظامات بھی دیکھنے ہیں اور انہیں کم ازکم دوہفتوں کی رہائی دی جائے تاکہ وہ ملک بھر سے تعزیت کیلئے آنے والوں سے ملاقات کرسکیں۔انہوں نے بتایاکہ نمازجنازہ شریف میڈیکل سٹی میں پڑھائی جائے گی جبکہ تدفین جاتی امراء میں میاں محمد شریف مرحو م کی قبر کے ساتھ مختص جگہ پر کی جائے گی۔‎







%d bloggers like this: