تعلیم اور شعور زیادہ ضروری ہے یا میٹرو بس؟ ذمہ داران آج کہاں ہیں؟

مسلم لیگ (ن) کی جانے سے اسلام آباد میں بنائی گئی میٹرو بس کے ٹریک کے حالات آج کل عجیب نظر آتے ہیں پہلے تو اس بس کا چلنا آج کل کسی معجزے سے کم نہیں کیونکہ سرکاری یا نجی اداروں کے ملازمین کا کوئی بھی مطالبہ پورا نہ ہوتا ہو تو اس کا سیدھا اور آسان حل سب کو یہی نظر آتا ہے کہ میٹرو ٹریک پر احتجاج کرو اور مطالبات منواؤ۔

ان احتجاج کرنے والوں میں صرف ملازمین ہی نہیں بلکہ سیاسی جماعتوں کے کارکنان بھی کسی سے پیچھے رہنے والے نہیں وہ خواہ ٹی ایل پی ہو یا دیگر اپوزیشن جماعتیں۔

حال ہی میں معروف صحافی عدیل راجہ کی جانب سے ایک تصویر سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی ہے جس میں ایک شخص کو فیض آباد میٹرو اسٹیشن کی لفٹ کے ٹوٹے ہوئے دروازے کے سامنے بیٹھ کر پیشاب کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

اس تصویر کو دیکھ کر ذہن میں ایک ہی خیال آتا ہے کہ کیا ہماری قوم کے لیے میٹرو بس اور اورنج لائن ٹرین زیادہ ضروری تھی یا اس سے بھی ضروری یہ تھا کہ پہلے انہیں تعلیم اور شعور دیا جاتا اور پھر ایسی سہولیات دی جاتیں۔

دوسری جانب ایک اور سوال ہے جو کہ ارباب اختیار سے پوچھا جانا چاہیے کہ کیا اس لفٹ کی مرمت اور اس تنصیب کا خیال نہیں رکھا جانا چاہیے؟ تاکہ لوگوں کو ایسی حرکات کرنے کو موقع ہی نہ ملے۔

جب عوامی مقام پر سرکاری تنصیب کی ایسی صورتحال ہو گی کہ دروازہ ٹوٹا اور گرد سے اٹا ہوا ہے تو ہماری قوم کے ان پڑھ لوگ تو اسے پھر لفٹ یا Elevator کی بجائے بیت الخلاء سمجھ کر رفع حاجت نمٹائیں گے ہی۔

The post تعلیم اور شعور زیادہ ضروری ہے یا میٹرو بس؟ ذمہ داران آج کہاں ہیں؟ appeared first on Siasat.pk Urdu News – Latest Pakistani News around the clock.

%d bloggers like this: