جب راحیل شریف نے نواز شریف کو شہباز شریف سے استعفیٰ لینے کا کہا

اس وقت پاکستان کی سیاست میں اسٹیبلشمنٹ کی اقتدار کے معاملات میں دھونس اور مداخلت موضوع بنا ہوا ہے۔ اور ایسے میں جہاں نواز شریف اداروں کی مداخلت کو ٹارگٹ کر رہے ہیں تو عمران خان کا موقف اصل میں انکے موقف کو رد کرنے کے ارد گرد بنا گیا ہے۔

چونکہ ملکی سیاست کے کل بیانئے کا رخ اسی موضوع پر ہے تو پاکستان کی صحافت میں بھی یہی موضوع اور اس سے جڑی کہانیاں سامنے آرہی ہین۔ اب اںصار عباسی کی ایک پرانی خبر کو دوبارہ شائع کیا گیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ

اُن دنوں میں جنرل راحیل نے وزیراعظم کو مشورہ دیا تھا کہ اُس وقت کے وزیراعلیٰ شہباز شریف سے استعفیٰ لیں اور ساتھ ہی 2013ء کے الیکشن میں دھاندلی پر جوڈیشل کمیشن بنائیں اور طاہر القادری کی زیر قیادت جماعت پی اے ٹی کے تحت ماڈل ٹاؤن کیس پر ایف آئی آر درج کرانے کا حکم دیں۔

بعد میں وزیراعظم جوڈیشل کمیشن اور ایف آئی آر درج کرانے پر آمادہ ہوئے تاہم شہباز شریف کے استعفے کا مشورہ نظر انداز کر دیا۔ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ جب دھرنا اپنے عروج پر تھا، جب عمران خان اور طاہر القادری کو جنرل راحیل سے ملاقات کیلئے جی ایچ کیو لیجایا گیا تھا، یہ ڈی جی آئی ایس آئی تھے جنہوں نے اس ملاقات کا انتظام کیا تھا۔ جس کا انہوں نے نواز شریف کو بتایا بھی تھا۔

%d bloggers like this: