جب مشکل وقت آجائے تو کیا کرنا چاہئے؟آپﷺکابتایا ہوا ایسا عمل جس پرعمل کرنے سے تما م مشکلات اور پریشانیاں ختم ہوجائیں گی

<!– –>

<!–

(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});
–> <!–

googletag.cmd.push(function() { googletag.display(‘div-gpt-ad-1518176776442-0’); });

–>
<!–

googletag.cmd.push(function() { googletag.display(‘div-gpt-ad-1518766058477-0’); });

–>

پیارے آقاﷺ کی امت کے لئے سب سے بڑا خطرہ اور سب سے بڑا فتنہ آج کے دور میں مال و دولت ہے پیسہ ہے آج دنیا میں جس قدر بھی قتل و غارت ہورہی ہے بے حیائی پھیل رہی ہے فحاشی پھیل رہی ہے اور معصوم عزتوں کی نیلامی ہورہی ہے ان سب کی وجہ صرف پیسہ ہے کہ زیادہ سے زیادہ پیسہ اکٹھا ہوجائے دولت اکٹھی ہوجائے ۔



آج کے دور میں کوئی بھی ایسا مشکل سے مشکل کام نہیں جو پیسے کے بغیرنہ ہو سکے جس کے پاس دولت ہوتی ہے اسی کو ہی آج سب کچھ سمجھا جاتا ہے اور یہ فتنوں کا دور ہے ایک فتنہ ختم نہیں ہوتا کہ دوسرا سراٹھا لیتا ہے پیارے آقا ﷺ نے فرمایا جو فتنے اندھیری رات کی طرح چھاجانے لگیں۔جس طرح اندھیرا چھاجاتا ہے رات کو تو ایسے فتنوں سے پہلے پہلے نیک اعمال کرنے میں جلدی کرو اور ایسے فتنے پیدا ہوں گے کہ آدمی صبح کو مومن ہوگا اور شام کو کافر ہوجائے گا یا شام کو مومن ہوگا اور صبح کو کافر ہوجائے گا وہ دنیاوی ساز و سامان کو اکٹھا کر نے اور اس کی خریدوفروخت کے لئے اپنا دین تک بیچ ڈالے گا وہ زمانہ بہت قریب ہے


جب مسلمان کا بہترین مال بکریاں ہوں گیجن کو لے کر وہ پہاڑوں کی چوٹیوں اور بارش کے مقامات کی طرف نکل جائے گا اور فتنوں سے راہ فرار اختیار کر کے اپنے دین کو بچالے گا آج یہی طریقہ ہے ہر انسان جو ان فتنوں سے بچنا چاہتا ہے جب تک وہ اپنا راستہ نہیں بدلے گاکبھی بھی ان فتنوں سے نہیں بچ سکے گا اور آج آپ کے سامنے ہے۔کہ ایسے ایسے فتنے پیداہوچکے ہیں کہ جو بہت ہی پرہیز گار آدمی ہوتا ہے اس کے لئے بھی اپنا ایمان بچانا مشکل ہوجاتا ہے انسان اپنی ذات اور نفس پرستی کے نشے میں اس قدر گر چکا ہے اس قدر مبتلا ہوچکا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی اتنی نعمتوں کے باوجود اتنی آسائشوں کے باوجود بھی وہ چاہتا ہے کہ مجھے فلاں چیز مل جائے اور جب وہ خواہشات اور آرزوئیں پوری نہیں ہوتی تو ڈپریشن اور بے سکونی کا شکار ہوجاتا ہے اور


اسی چکر میں وہ اللہ کی عطا کردہ نعمتوں کی بھی ناشکری کردیتا ہکیونکہ اللہ نے انسان کو وہ کچھ عطا کیا ہے جو اس کے لئے بہتر ہے ہمارا رب ہمیں جو عطا کرتا ہے وہی ہمارے لئے بہتر ہوتا ہے وہ تو خالق ہے وہ اپنے بندے کو ہر لحاظ سے سمجھتا ہے مگر انسان وہ حاصل کرنا چاہتا ہے۔جو وہ خود اپنے لئے بہتر سمجھتا ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہوسکتا ہے تم ایک چیز کو نا گوار سمجھ رہے ہو جب کہ وہ تمہارے لئے بہتر ہو اور ہوسکتا ہے کہ تم ایک چیز کو اچھا اور پسندیدہ خیال کرو مگر وہ تمہارے لئے بری ہو چیزوں کے اچھا برا ہونے کو تم نہیں جانتے اللہ جانتا ہے انسان اس دنیا سے جس قدر الجھتا ہے اتنا ہی اس کے گھیرے میں آتا چلاجاتا ہے اور جتنا اس سے بچتا ہے اور اس سے پناہ مانگتا ہے اتنا ہی اس کے شر سے محفوظ رہتا ہےکیونک

ہ یہ دنیا ایک کنواں ہے جس میں جو گر گیا کبھی فلاح نہ پاسکا اس لئے تو پیارے آقاﷺ نے دنیا حاصل کرنا تو ایک طرف دنیا کی یاد سے بھی منع فرمایا ہے حدیث پاک میں آتا ہے کہ دنیا کی یاد میں اپنے دلوں کو مشغول نہ رکھو آج پیارے آقا کی امت پریشان ہے سکون ڈھونڈ رہی ہے کہ کسی طرح سے سکون مل جائے پریشانی ختم ہوجائے۔حالات بہتر ہوجائیں یہ سب اس وقت ہو گا جب ہم اللہ کا ذکر کریں گے اللہ کے ذکر سے اپنے دلوں کو آباد کریں گے دنیا کی لالچ حرص مال و دولت کی کثرت خواہشات کو چھوڑ کر جب ہم اللہ کی راہ میں نکل چلیں گے اللہ کی یاد کو اپنی زندگی کا حصہ بنالیں گے تو پھر ہماری ساری پریشانیاں ختم ہوجائیں گیاس تحریر میں ایک ایسی دعا کے بارے میں بتایا جارہا ہے کہ


آج کے اس مشکل سے مشکل وقت میں جس میں بچوں سے لے کر بڑوں تک ہرکوئی اس دور کے فتنوں میں مبتلا ہے اور سب کچھ بھول بیٹھا ہے زندگی کا مقصد بھول بیٹھا ہے اور پریشانیاں مصیبتیں اس کی زندگی میں آچکی ہیں تو ان کو ایک دعا بتائی جارہی ہے پیارے آقاﷺ کی بتائی ہوئی یہ دعا ہے انشاء اللہ اس بہت ہی بدترین گزرتے ہوئے۔دور میں جس میں کوئی کسی کا نہیں ہر طرف فحاشی ہے ایک آدمی اپنے ایمان کو بچا نہیں سکتا بہت ہی مشکل وقت آگیا ہے تو ایسے وقت میں آپ لوگ دن میں کسی بھی وقت یہ دعا پڑھ لیا کریں انشاء اللہ بہت ہی فائدہ ہوگا اور وہ دعا یہ ہے : لَا إلَہَ إلَّا اللَّہُ الْحَلِیمُ الْکَرِیمُ، سُبْحَانَ اللَّہِ رَبِّ الْعَرْشِ الْعَظِیمِ، الْحَمْدُ لِلَّہِ رَبِّ الْعَالَمِینَ، أَسْأَلُک مُوجِبَاتِ رَحْمَتِک وَعَزَائِمَ مَغْفِرَتِک، وَالْغَنِیمَةَ مِنْ کُلِّ بِرٍّ، وَالسَّلَامَةَ مِنْ کُلِّ إثْمٍ، لَا تَدَعْ لِی ذَنْبًا إلَّا غَفَرْتہ وَلَا ہَمًّا إلَّا فَرَّجْتہ، وَلَا حَاجَةً ہِیَ لَک رِضًی إلَّا قَضَیْتہَا، یَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ ․





<!–

–>


%d bloggers like this: