” حاضر سروس فوجی جرنیلوں کے نام سن کر دھچکا لگا”

اس انٹرویو کی ٹائمنگ بہت اہم ہے۔ ایک ایسے وقت میں کہ جب پی ڈی ایم کے اگلے جلسے میں ایک لمبا وقفہ موجود ہے، مریم نواز گلگت بلتستان پہنچ چکی ہیں اور وہ وہاں انتخابی مہم میں مصروف ہیں، مسلم لیگ نواز میں سے فارورڈ بلاک کی باتیں جاری ہیں، جنرل (ر) عبدالقادر بلوچ مسلم لیگ نواز کو چھوڑ کر جا چکے ہیں اور افواہیں یہی ہیں کہ وہ پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کر سکتے ہیں، بلاول بھٹو زرداری کی طرف سے یہ اختلاف عوامی سطح پر لانا کہ نواز شریف نے اے پی سی میں اسٹیبلشمنٹ کا لفظ استعمال کرنے کے فیصلے کے باوجود نام لینا شروع کر دیے، قطعاً معمولی بات نہیں ہے۔

%d bloggers like this: