حالات خراب سے خراب تر : پاکستان میں طویل عرصہ کے لیے ایمرجنسی کا نفاذ ۔۔۔ شہر اقتدار کے پرانے رہائشی صف اول کے صحافی کی تہلکہ خیز پیشگوئیاں

لاہور (ویب ڈیسک) 2018 کے الیکشن میں عمران خان وزیراعظم بنے اور انھوں نے پیپلز پارٹی اور ن لیگ دونوں کی قیادتوں کیخلاف احتساب کا عمل شروع کیا۔ اب دو سال بعد ن لیگ اور پیپلز پارٹی جن کے ساتھ جمعیت علماء اسلام بھی شامل ہے، عمران حکومت کیخلاف احتجاجی تحریک کا اعلان کر چکی ہیں۔


نامور صحافی جاوید صدیقی شہر اقتدار سے اپنی ایک سیاسی رپورٹ میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔اس کا آغاز گیارہ اکتوبر کو کوئٹہ کے جلسہ عام اور بعد بھی اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کی صورت میں آگے بڑھے گا۔ ایک مرتبہ پھر پاکستان میں احتجاجی جلسے جلوس اور لانگ مارچ کا سلسلہ دیکھنے میں آئے گا۔ ایسی صورتحال میں ماضی میں نقصان جمہوریت کو ہی پہنچتا رہا ہے اگر اپوزیشن کی موجودہ تحریک میں لاء اینڈ آرڈر کی صورتحال خراب ہوتی ہے، معیشت کو مزید دھچکا لگتا ہے تو پھر آئین کے مطابق کوئی نہ کوئی قدم اٹھانا ناگزیر ہو گا۔ ملک میں ایمرجنسی لگائی جا سکتی ہے، از سر نو الیکشنز بھی ہو سکتے ہیں اور ایمرجنسی کا دورانیہ طول بھی پکڑ سکتا ہے۔ حالات ایک مرتبہ پھر غیر یقینی ہو جائیں گے اور یہ ایسے ماحول میں ہو گا جبکہ پاکستان کو مشرق و مغرب کئی طرف سے خطرات لاحق ہیں، بھارت تاک میں بیٹھا ہے کہ پاکستان غیر مستحکم ہو اور وہ اس سے فائدہ اٹھا کر کشمیر کو مکمل طور پر ہڑپ کر لے۔ مغربی سرحد پر افغانستان ہے جہاں امن کے امکانات پیدا ہوئے ہیں۔ پاکستان غیر مستحکم ہوتا ہے تو افغان امن عمل بھی متاثر ہو سکتا ہے۔ نکتہ یہ ہے کہ پاکستان ایک مرتبہ پھر اسی صورتحال کی طرف بڑھ رہا ہے جس کا ماضی میں ہم ہر بار تجربہ کر چکے ہیں۔ جمہوریت اورپھر فوجی ٹیک اوور یا کوئی اور غیر جمہوری سیاسی سیٹ اپ ۔ ہمارے سیاستدانوں کو ابھی تک یہ سلیقہ نہیں آیا کہ کس طرح جمہوری نظام کو مستحکم کرنا ہے اور اسے سنبھال کر رکھنا ہے۔ اپوزیشن کی موجودہ احتجاجی تحریک پاکستان کو پھر ’’پہلے خانے‘‘ یعنی (Back to Square one ) تک واپس لے جا سکتی ہے۔







%d bloggers like this: