حکومت سندھ کے تحفظات مسترد، وفاق کا بنڈل جزیرے کے 8 ہزار ایکڑ پر ترقیاتی منصوبے شروع کرنے کا فیصلہ

اسلام آباد (این این آئی)وفاقی حکومت نے بنڈل جزیرے کے 8 ہزار ایکڑ پر ترقیاتی منصوبے شروع کرنے کا فیصلہ کرلیا۔وزارت بحری امور کے مطابق بنڈل آئی لینڈ پرترقیاتی منصوبوں کیلئیمقامی اوربین الاقوامی فرمز کو دعوت دی گئی ہے۔وزارت کے مطابق پاکستان آئی لینڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے مشاورتی فرمز کیلئے اشتہارات جاری کردئیے ہیں ، جزیرے پر ماسٹرپلاننگ، انجینئرنگ،مالیاتی امور کی جانچ کیلئے فرمز سے تجاویز بھی طلب کی گئی ہیں۔وزارت بحری امور کے مطابق بااعتماد فرمز معاشی اور مارکیٹنگ اسٹڈی کیلئے 15دن میں درخواستیں دیں۔گزشتہ دنوں صدر مملکت کا جزائر سے متعلق 2 ستمبر 2020 کو جاری کیا گیا

آرڈیننس سامنے آیا تھا جس کے بعد سے سندھ اور وفاق میں نیا تنازع کھڑا ہوگیا ہے۔صدارتی آرڈیننس کے مطابق ٹیریٹوریل واٹرز اینڈ میری ٹائم زونز ایکٹ 1976 کے زیر انتظام ساحلی علاقے وفاق کی ملکیت ہوں گے اور سندھ کے بنڈال اور بڈو سمیت تمام جزائر کی مالک وفاقی حکومت ہوگی جبکہ حکومت نوٹیفکیشن کے ذریعے ’پاکستان آئی لینڈز ڈیویلپمنٹ اتھارٹی‘ قائم کرے گی جس کا ہیڈکوارٹرز کراچی میں ہوگا جب کہ علاقائی دفاتر دیگر مقامات پر قائم ہوسکیں گے۔آرڈیننس کے مطابق اتھارٹی منقولہ اور غیر منقولہ جائیداد کا قبضہ حاصل کرنے کی مجاز ہوگی اور آرڈیننس کے تحت اٹھائے گئے اقدام یا اتھارٹی کے فعل کی قانونی حیثیت پر کوئی عدالت یا ادارہ سوال نہیں کرسکے گا۔آرڈیننس کے متن میں کہا گیا کہ اتھارٹی غیر منقولہ جائیداد پر تمام لیویز، ٹیکس، ڈیوٹیاں، فیس اور ٹرانسفر چارجز لینے کی مجاز ہوگی۔آرڈیننس میں کہا گیا ہے کہ آرمی کے لیفٹیننٹ جنرل کے عہدے کے مساوی حاضر یا ریٹائرڈ افسر بھی چیئرمین تعینات ہوسکے گا جب کہ چیئرمین کے عہدے کی مدت چار سال ہوگی جس میں ایک بار توسیع ہو سکے گی۔

Leave a Reply

%d bloggers like this: