حکومت چلے گی نہ ہی ہائیبرڈ نظام

اس وقت ملک کی تمام اپوزیشن جماعتیں پاکستان ڈیموکریٹک مومنٹ نامی اتحادی چھتری کے نیچے ایک ہوگئی ہیں اور سب ہی حکومت کے خلاف احتجاج اور اس حکومت کی ناکامی پر یک زبان ہوچکی ہیں ۔ ان سیاسی جماعتوں میں ملک کے ہر صوبے کی نمائندگی ہے اور حکومتی اتحادی جماعتوں کے علاوہ شاید جماعت اسلامی پاکستان ہی ایسی ایک جماعت ہے جو اپوزیشن اتحاد کا حصہ نہیں ہے باقی قریب ملک کی تمام اپوزیشن جماعتیں حکومت کے خلاف صف آرا ہو چکی ہیں۔ اپوزیشن اتحاد نے ملک گیر جلسوں اور احتجاجی تحریک شروع کرنے کی تیاریاں شروع کر دی ہیں تو دوسری طرف حکومتی بیانیے اور رویے میں کوئی لچک نظر نہیں آرہی۔ وزیراعظم عمران خان نے حکومتی وزرا اور ترجمانوں کو اپوزیشن کی کوتاہیاں اجاگر کرنے کا ٹاسک دے دیا ہے۔ کہ وزرا اپوزیشن کی اصلیت عوام کے سامنے رکھیں جس کا مطلب یہ ہے کہ ابھی حکومت اپوزیشن کے ساتھ کسی قسم کے مذاکرات کرنے کے موڈ میں نہیں۔ دوسری طرف اپوزیشن اتحاد جو اس وقت نون لیگ کی نائب صدر اور سابق وزیراعظم نوازشریف کی صاحبزادی لیڈ کر رہی ہیں۔ اس نے بھی پریس کانفرنس میں صحافی کے سوال کرنے پر اپنے جواب میں واضح کیا کہ نا تو وہ عمران خان کو وزیراعظم مانتی ہیں نا ہی وہ اس جعلی حکومت کے ساتھ مذاکرات کرنا چاہتی ہے ۔ اس کے ساتھ سابق وزیراعظم نوازشریف نے بھی سخت بیانیہ اپنایہ ہوا ہے کہ وہ حکومت کے نہیں بلکہ اس کے لانے والوں کے خلاف جنگ لڑ رہے ہیں۔ سابق وزیراعظم کا اپنی  تقریر میں کہنا تھا کہ اس وقت ریاست کے اوپر ریاست بنی ہوئی ہے اور اس لیے وہ ان طاقتوں کے خلاف جنگ کرینگے جنہوں نے ملک کو یرغمال بنایا ہوا ہے ۔ یہ سب ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب حکومت نے دو سال گزار دیے ہیں اور ملک میں بدترین مہنگائی بے روزگاری ہے اور عوام جو کہ پہلے ہی ایک وقت کی روٹی کو ترس رہے تھے اب ان کے لیے جینا محال ہو گیا ہے ۔ پچھلے دو سال کے عرصےمیں حکومتی ترجمان اور وفاقی وزرا حکومت  کی کارکردگی کی بجائے اپوزیشن کے رہنماوں  کوجیل میں  اندر باہر کرنے کے لیے پریس کانفرنس کرتے نظر آتے ہیں اور صرف اس لیے حکومتی خرچےپر پریس کانفرنس ہوتی ہے کہ نوازشریف کے فلانے ملک میں اتنے اثاثے نکلے ہیں تو زرداری کے دوسرے ملک میں اسی طرح دوسرے اپوزیشن رہنماوں پر طرح طرح کے الزامات لگائے جاتے ہیں جن کے مثال  نون لیگی رہنما رانا ثنا اللہ کے خلاف منشیات رکھنے کا الزام ہو یا خواجہ سعد رفیق ، شاہد خاقان عباسی یا دوسرے نون لیگی رہنماؤں پر الزامات کی بوچھاڑ۔ پریس کانفرنس ہو جاتی ہے کاغذ لہرائے جاتے ہیں یہ ملا ہے وہ ملا ہے حکومتی مشینری اور سرکاری پیسہ عوام کی فلاح و بہبود کی بجائے اپوزیشن رہنماوں کو دبانے چپ کرانے اور جیلوں میں بھیجنے کے لیے استعمال ہو رہا ہے اور الزامات بھی ایسے کہ ایک وزیر موصوف جو اللہ کو حاضر ناظر جان کر جان اللہ کودینی ہے بول کر الزامات لگاتے تھے مگر وہی الزامات نا تو ثابت کر سکے نا ہی اللہ کو جان دی اور اب اطلاعات  کے مطابق رانا ثنااللہ کے خلاف کیس میں ناکام ہونے پر ان وزیر موصوف سےاستعفا بھی لے لیا گیا ہے۔ وزیر موصوف کا قلمدان اس سے پہلے بھی تبدیل کیا جا چکا تھا مگر اس بار ان کو وزارت سے ہاتھ دھونا پڑ گیا ہے ۔  اسی طرح دوسرے اپوزیشن رہنماؤں پر طرح طرح کے کرپشن اور دوسرے الزامات لگائے گئے مگر سب ایک کے بعد ایک جیلوں سے رہا ہوگئے اور حکومتی وزیر دیکھتے ہی رہ گئے ان الزامات میں کتنی صداقت تھی اس کے لیے عدالت میں ثبوت دینے تھے جس کو دینے میں الزام لگانے والے ناکامی سے دوچار ہوئے اس لیے اب اپوزیشن جماعتیں اس موڑ پر آگئی ہیں کہ حکومت کے پاس کوئی ایسا الزام ہی نہیں بچا جس کو لگا کر وہ اپوزیشن کے رہنماوں کو اندر کر سکیں۔  کچھ دن پہلے ہی خبریں چلنے لگی کہ خیبر پختونخوا کے احتساب بیورو نے جے یو آئی ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کو امدن سے زیادہ اثاثہ جات کیس میں طلب کرلیا ہے اس خبر کو میڈیا میں بغیر تصدیق کے چلایا یا چلوایا گیا اور دو دن تک یہ ہر چینل اور اخبار کی ذینت بنی رہے دوسرے طرف مولانا صاحب نے بھی بیان جاری کیا کہ نیب سے انکو کوئی نوٹس نہیں  ملا ہے۔ یہ خبر اتنے زوروں پر پھِیلائی گئِی کہ اتنی ہی شدت سے واپس بھی ہوگئی کیونکہ دو دن بعد نیب کی طرف سے بیان سامنے آیا کہ انہوں نے مولانا فضل الرحمان کو طلب  نہیں کیا ہے مگر ان کے حوالے سے تحقیقات کا اغاز کر دیا ہے تو مولانا فضل الرحمان کے حامیوں کو یہ بیانیہ بھی مل گیا کہ نیب نے مولانا صاحب کو بلایا مگر دباؤ کی وجہ سے نوٹس واپس لے لیا گیا ۔

اسی طرح حکومت نے پہلے آل پارٹیزکانفرنس میں نوازشریف کے تقریر پر پہلے پابندی لگانے کے باتیں کی مگر عین نوازشریف کی تقریر سے کچھ لمحے قبل ہی وزیراعظم عمران خان نے میڈیا کو نوازشریف کے تقریر نشر کرنے کی اجازت دے دی وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ نوازشریف نے تقریر میں جھوٹ بولنا ہے اس تقریر کو روکنے کی بجائے اس کو دکھانے سے نوازشریف عوام کے سامنے خود ہی بے نقاب ہو جائینگے مگر یہ بات شاید غلط ثابت ہوئی کیونکہ نوازشریف نے اس کے بعد دوسری اور پھر تیسرے تقریر کی تو پیمرا کی جانب سے تمام ٹی وی چینلز کو ہدایات جاری کی گئی کہ کسی بھی مفرور ملزم کی تقریر نا چلائی جائے جس سے وزیراعظم عمران خان کا گمان غلط ثابت ہوا  نوازشریف خود تو بے نقاب ہوئے یا نا ہوئے مگر انہوں نے ایک نیا بیانیہ دے دیا کہ ان کی جنگ عمران خان سے نہیں اس کو لانے والوں سے ہے ، اسی طرح نوازشریف کی تقریر پر پابندی لگانے سے ناقدین یہ بھی بولنے لگے ہیں کہ ملکی آئین سے غداری کرنے کے ملزم  سابق صدر پرویز مشرف کی تقریر پر پابندی نہیں مگر ملک کے تین بار منتخب وزیراعظم جس کے بقول ناقدین کے سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اس کی تقریر پر پابندی لگا دی گئی۔

اپوزیشن کے بیانیے میں دم خم ہے ان کو ایک طرف تو اس حکومت نے عدالتوں میں گھسیٹ کر عوام میں مقبول کردیا ہے کیونکہ کیس بھگنتے کے بعد تمام رہنما ازاد یا ضمانتوں پر جیلوں سے باہر ہیں اور وہ اسی گرفتاری اور کیس کو سیاسی انتقام کا نام دے کر حکومت کو ٹف ٹائم دے رہے ہیں اس کے ساتھ ہی حکومتی اداروں پر بھی الزامات لگا رہے ہیں کہ انہیں سیاسی انتقام کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے کیونکہ یہی ادارے حکومتی وزیروں اور مشیروں کی کرپشن پر چپ ہیں ان کو صرف اپوزیشن کے خلاف ہی کارروائی  نظر آتی ہے جبکہ آٹا ، پٹرول ، چینی  اور دوائیوں کے معاملے پر کرپشن کرنے والے اور عوام کو لوٹنے والوں سے کوئی پوچھ داچ نہیں ہو رہی جس سے یہ بات زبان زد عام ہوگئی ہے۔ 

اور عوام کو نظر بھی آرہا ہے کہ مہنگائی حد کو چھو رہی ہے اور کسی حکومتی وزیر یا جو بھی ان کرپشن کیسز میں ملوث ہیں کے خلاف کوئی قابل بیان کارروائی نا ہوئی نا کسی کو جیل نا کسی کو نیب جانا پڑا ۔ بجلی ، گیس ، دوائیاں ، آٹا یہ سب روزمرہ استعمال کی چیزیں اس حکومت میں عوام سے دور چلی گئی مگر اب تک حکومت اپوزیشن کوگھسیٹنے میں مصروف ہے اور ان سے بھی نا تو کوئی قابل قدر ریکوری ہو سکی نا ان کو عدالت سے سزا دلوائی جا سکی ۔ اس کے ساتھ موجودہ حکومت میں پٹرول بحران کے دوران عوام کو اربوں کا چونا لگایا گیا مگر اس میں نا تو کسی کو ذمہ دار ٹہرایا گیا نا کسی سے عوام کی لوٹی ہوئی دولت واپس لی جا سکی اسی طرح دوائیوں کی قیمتیں دیکھیں یا چینی کے معاملے میں اربوں کے گھپلے کوئی گرفتاری نہیں نا کوئی ذمہ دار ٹہرایا گیا جس سے عوام کو بھی ایسے ہی لگ رہا ہے کہ اپوزیشن کو کرپشن پرنہیں بلکہ سیاسی انتقام پر جیل بھیجا جا رہا ہے ۔ ۔ اس کے ساتھ وزیراعظم عمران خان اور حکومت سابق وزیراعظم نوازشریف پر ایک الزام بھی عائد کرتی رہی ہے کہ نوازشریف بھارت سے دوستی نبھانے کے لیے پاکستان مخالف باتیں کرتا ہے جو کہ بھارت عالمی عدالت میں پاکستان کے خلاف بطور ثبوت استعمال کرتا ہے مگر عوام کو وزیراعظم عمران خان کے وہ بیانات بھی یاد ہیں۔

جو انہوں نے حکومت میں انے سے پہلے بھارت میں یا بھارتی ٹی وی چینلز کو دیے ہیں جن میں اکثر و بیشتر وہی باتیں کی گئی ہیں جو نوازشریف کرتےہیں ، حال ہی میں وزیراعظم عمران خان نے ایک نجی ٹی وی چینل کو دیے اپنے انٹرویو میں کہا کہ اگر ان کے دور میں کارگل جیسا واقع ہو جائے اور کوئی آرمی چیف ان کی اجازت کے بغیر اس قسم کی کارروائی کرے تو وہ اس کو فارغ کردیں گے۔   اس بات کا مطلب یہ ہوا کہ سابق صدر جنرل پرویز مشرف نے کارگل میں جو کیا وہ غلطی تھی اور اس میں حکومت یا وزیراعظم کی مرضی شامل نہیں تھی اور اس شکست  یا ناکامی اور بدنامی کی وجہ بھی اس وقت کے فوجی جرنیل پرویز مشرف ہی تھے۔ مگر کیا وزیراعظم عمران خان کے اس اعتراف کے بعد پاکستان تحریک انصاف کے وہ کارکن جو پرویز مشرف کو اپنا ہیرو سمجھتے ہیں وہ مان جائینگے کہ ہاں کارگل حملہ غلطی تھی اور اس ناکامی  کے ذمہ دار نوازشریف نہیں بلکہ سابق فوجی صدر پرویز مشرف ہیں ؟ وزیراعظم عمران خان نے یہ بھی کہا کہ اگر ان سے کبھی آئِی ایس آئی چیف  استعفا کا مطالبہ کرے تو وہ استعفا دینے کی بجائے اسی سے استعفا لے لینگے اور کسی کی جرات نہیں کہ وہ ایک منتخب وزیراعظم سے استعفا طلب کرے اگر وزیراعظم عمران خان کی اس بات کو درست مان لیں کہ ہاں ایسا کرنا ہی سہی ہے پھر تو نوازشریف نے اس وقت یہی کیا تھا اس لیے تو انکو وزیراعظم کی کرسی سے اتار کر ملک بدر کر دیا گیا۔ اور اس وقت کے فوجی سربراہ پرویز مشرف نے کارگل میں کی گئی اپنی غلطی کو چھپانے کے لیے ایک منتخب عوامی حکومت کو چلتا کیا تھا۔

اس کے ساتھ ہی اس شکست کی ذمہ داری بھی سابق وزیراعظم نوازشریف پر ڈالی گئی تھی۔ اور ان کو ہی غدارگردانہ جاتا رہا تھا ۔اسی طرح آج کل جو بھی حکومت مخالف بولتا ہے چاہے وہ صحافی ہو یا اپوزیشن کا کوئی رہنما حکومتی حامی ان کو بھارت کا دوست یا ملک کا غدار قرار دیتے ہیں۔ مگر ہمیں اب اپنے داخلی معاملات کے لیے الزام بھارت پر ڈالنے کی بجائے سیاسی شعور اجاگر کرنے کی ضرورت ہے اور اپنے ہم وطنوں اور محب وطن پاکستانیوں اور سیاسی کارکنوں کو غداری کر سرٹیفیکیٹ بند کر دینے چاہیے۔  اس وقت ملک کے سیاسی حالات پوری طرح گرم ہیں اپوزیشن کیا حکومت سے اپنے مطالبات منوانےمیں کامیاب ہوگی یا نہیں؟ کیونکہ حکومت نے اب تک اپوزیشن کی طرف کوئی مثبت اشارہ نہیں دیا نا تو حکومت اپوزیشن کے ساتھ اور نا ہی اپوزیشن حکومت کے ساتھ بیٹھنے کے لیے راضی ہے۔ جو ملک میں سیاسی انتشار کے لیے راہ ہموار کررہی ہے وزیراعظم عمران خان کو اب اس وقت اپوزیشن مخالف بیانیہ ترک کر کے ملک میں قانون سازی اور الیکشن کو شفاف بنانے کے ساتھ اپوزیشن کو ہر معاملے میں ساتھ لیکر چلنے کی پالیسی اپنانی ہوگی۔ کیونکہ عوام نے دیکھا کہ ایف اے ٹی ایف کا معاملہ ہو یا آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع جب بھی قومی معاملات کے لیے قانون سازی کی گئی اپوزیشن نے حکومت کا ساتھ دیا ہے۔ اسی طرح حکومت کو بھی اپوزیشن کے جائز مطالبات تسلیم کرکے ان سے مذاکرات شروع کرنے چاہیں کیونکہ ملک پہلے ہی شدید معاشی بحران اور عوام بے روزگاری اور مہنگائی کا شکار ہیں اور ایسے میں حکومت اور اپوزیشن کی سیاسی لڑائی اور جلسوں دھرنوں سےملک میں غریب کا جینا مشکل ہی نہیں ناممکن ہو جائیگا جس کے بعد عوام اس حکومت اور اس نظام کے خلاف کھڑے ہونگے پھر نا کسی کی سیاست چلیگی نا کسی کا ہائیبرڈ ںظام ۔۔

%d bloggers like this: