خواجہ سراء ،ہمارے معاشرے کا مظلوم طبقہ

امریکہ میں ہونے والی حالیہ صداراتی انتخابات میں خواجہ کمیونٹی سے تعلق رکھنے والی سارا میکبرائیڈ تاریخ میں پہلی مخلوط صنف کی حامل سینیٹر بن گئی ہیں۔ اس کے علاوہ مخلوط صنف کے حامل افراد پر مشتمل تنظیم ایل جی بی ٹی کیو سے تعلق رکھنے والے اور بھی امیدوار ریاستی قانون ساز اداروں کیلئے منتخب ہوئے ہیں۔ یہ انتہائی خوشی کی بات ہے کہ خواجہ سرا کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے لوگ قانون ساز اداروں میں نمائندگی کررہے ہیں۔ ظاہر سی بات ہے کہ ان لوگوں کو قانون سازی کیلئے صرف اپنی کمیونٹی کے لوگوں نے نہیں بلکہ عام مرد اور خواتین نے بھی ان کو اپنے ووٹوں سے منتخب کیا ہے۔ 

پاکستاں میں ایک عام خیال پایا جاتا ہے کہ خواجہ سراوں کا کام صرف شادیوں میں ناچنا اور بھیک مانگنا ہے۔ میر اتعلق چونکہ پختونخواہ سے ہے تو وہاں میں نے ایک بات نوٹ کی ہیں کہ اکثر جو تھوڑے بہت صاحب استطاعت لوگ ہیں وہ اپنے خوشی کے موقعوں پر خواجہ سراوں کو بلاتے ہیں جو موسیقی کے ساتھ رقص یا ناچ وغیرہ کرتے ہیں اور بدلے میں ان خواجہ سراوں کو معاوضہ دیا جاتا ہے۔ یہ مظلوم لوگ ہیں جن پر اس معاشرے نے اپنے دروازے بند کیے ہوئے ہیں جس کی وجہ سے ان کے پاس معاشرے میں اپنی بقا کیلئے مجبوری کے تحت ایسے کام کرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں جس کی وجہ سے یہ معاشرہ ان کو قبول کرنے کیلئے تیار نہیں ہوتا اور اگر کسی کا بچہ خواجہ سرا پیدا ہوجائے تو وہ ان باتوں کی وجہ سے ان کو قبول کرنے کیلئے تیار نہیں ہوتے کیونکہ ان کو پتہ ہوتا ہے کہ اس معاشرے میں اس کا وہی مقام ہوگا جو دوسرے خواجہ سراوں کا ہے اور یوں اسی طرح خواجہ سرا ہونا ایک گالی سمجھی جاتی ہیں۔

خیبر پختونخواہ جہاں پدر شاہی نے فیوڈل پس منظر کی وجہ سے اپنی جڑیں مضبوط کی ہوئی ہیں جہاں پر مرد اپنی مردانگی دکھانے کیلئے ان خواجہ سراوں کے ساتھ نجی محافل میں لوگوں کے سامنے ایسی حرکتیں کرتے ہیں جو کہ کسی انڈین فلم میں ہیروئین کے ساتھ بھی نہیں کی جاتی، پیسے نچھاور کیا جاتے ہیں اور پیسے کے لحاظ سے کمزور لوگ اپنی جنسی بھوک کو منہ میں لیے اس نظارے کو دماغ میں لیکر اپنے بستر تک لے جاتے ہیں۔ اکثریت اس بات میں کوئی قباحت محسوس نہیں کرتی بلکہ اگلی صبح پچھلی رات والا مجرا ان کا موضوع ہوتا ہے مثلا، فلاں بندے نے ہجڑے [خواجہ سرا] کو پیچھا سے پکڑا اور فلاں نے اتنے پیسے نچاور کیے وغیرہ وغیرہ۔

ستمبر کے مہینے میں مشال ریڈیو کی ویبسائیٹ پر شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں ٹرانس جینڈر ایسوسیشن کی صوبائی سربراہ فرزانہ کے مطابق سال 2015 سے ابتک ان کے کمیونٹی کے 73 افراد قتل کیے گئے ہیں اور سینکڑوں تشدد کے مختلف واقعات میں زخمی ہوئے ہیں۔

شخصی آزادی کا احترام کا ادراک ہر ذی شعور انسان کو ہے، ہر انسان اپنی حرکات، خیالات اور سوچ میں آزاد ہیں لیکن کیا یہی آزادی جو مردوں کو حاصل ہے کیا وہ ان خواجہ سراوں کو ہیں؟ موسیقی اور رقص کوئی بری بات نہیں بلکہ یہ ایک صحتمند اور خوشحال معاشرے کی عکاسی ہوتی ہیں، لیکن جس طرح پاکستان میں خواجہ سراوں کو زبردستی یہ کام سونپا گیا ہے وہ اس معاشرے میں لینے والی جنسی تضاد کی نشان دہی کرتا ہے۔ ایسی موسیقی اور ناچ گانا جنسی تضاد کو جنم دیتا ہے جہاں ایک جنس دوسرے جنس کا استحصال کرتے ہوئے ہمیں نظر آئے۔

ایک طرف مغرب میں اگر کسی حد تک انصاف اور قانون کی بالادستی ہے تو دوسری جانب تیسری دنیا کے ملکوں میں یہ چیزیں ہمیں دور دور تک نظر نہیں آتی ہیں اور اگر کہیں ہیں بھی تو اس کی بگڑی ہوئی شکل ہمیں نظر آتی ہیں۔ جس کی وجہ سے تیسری دنیا کے ملکوں میں تفریح اور خوشی کے نام پر ایسی سرگرمیاں پیدا ہوئے ہیں جہاں دوسروں کی بےعزتی اور سماجی استحصال تفریح سمجھی جاتی ہے۔ یہی حال صرف تفریج کا نہیں بلکہ آرٹ اور دیگر موضوعات بھی اس کے زمرے میں آتے ہیں۔ ہنسی، مزاق بھی لوگوں کو ایسی ایسی باتوں پر کرتے ہیں جن پر بعض اوقات رونے کی ضرورت ہوتی ہیں، ترقی یافتہ ممالک میں ان مسائل پر کام کرنے کی کوششیں جاری ہیں جہاں آرٹ اور تعلیم کو بروئے کار لایا جارہا ہے تاکہ ان مسائل کو جڑ سے ختم کیا جائے۔

اگر پاکستان کی بات کی جائے تو یہاں صورتحال اس قدر بھیانک ہے کہ ایک ترقی پسند سوچ رکھنے والا انسان جو ان مسائل کی تھوڑی بہت سمجھ بوجھ رکھتا ہے اس کیلئے جینا مشکل ہے، کیونکہ جب وہ ان چیزوں کو دیکھتے ہیں یا اس پر بات کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو معاشرے کی جانب سے ان کو سخت ردعمل دیکھنے کو ملتا ہے۔

ایک ایسے معاشرے کا قیام وقت کی اشد ضرورت ہے جہاں پر ہر انسان کو آزادی، برابری اور عزت سے جینے کا حق حاصل ہو۔ خواجہ سرا بھی ہماری طرح کے انسان ہیں ان کو بھی جینے کا وہی حق حاصل ہے جو اس معاشرے میں مجھے اور آپ کو ہے، یہ لوگ صرف مردوں کی جنسی بھوک مٹانے اور مجرا کرنے کیلئے پیدا نہیں ہوئے ہیں بلکہ یہ کام ہم نے اپنے رویوں کی وجہ سے ان کو دیا ہے، وقت کی ضرورت ہے کہ جس طرح مہذب معاشروں میں انسانوں کو احترام دیا جارہا ہے ہمیں بھی دوسرے انسانوں کو عزت اور احترام دینا چاہیں

محمد حسنین انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد میں کمیونکیشن اینڈ میڈیا اسٹڈیز کے طالب علم ہیں۔

%d bloggers like this: