داتا صاحب کو گواہ بنا کر کہتا ہوں۔۔۔۔ تحریک لبیک پاکستان کے نئے امیرسعد رضوی نے اپنے والد علامہ خادم رضوی کے رسم قل پر تہلکہ خیز اعلان کردیا

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)تحریک لبیک پاکستان کے نئے امیر سعد رضوی نے اپنے والد علامہ خادم حسین رضوی کی رسم قل کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان کا مشن جاری رکھیں گے ، زندگی کے کسی شعبے کو خالی نہیں چھوڑیں گے ، ہر جگہ جائیں گے اوراسیملک میں حضورۖ کے دین کو غالب کرینگے ،ریاست ہو سیاست ہو ایک ہی نعرہ لگائینگے لبیک لبیک یارسول اللہ،انشا ء اللہ ہر ظالم کا ہاتھ روکیں گے ،ہاتھ روک کر توڑ دینگے ،ہر مظلوم کیساتھ کھڑے ہونگے،یہ زبان کٹو اتو سکتے ہیں ، یہ گردن اڑوا تو سکتے ہیں

لیکن حضورۖکی عزت و ناموس پر کوئی سودا نہیں کرسکتے،خدا کی قسم آپ سے وعدہ وفا کر کے رہیں گے ، داتا صاحب کو گواہ بنا کر کہتے ہیں ہم آپ سے وعدہ وفا کرینگے،اس سے پہلے تنظیم المدارس کے صدراور مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے چیئرمین مفتی منیب الرحمن نے مولانا خادم حسین رضوی کے رسم قل کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ علامہ خادم حسین رضوی دنیاوی رشتوں کے حوالے سے میرے کچھ نہیں تھے لیکن دینی رشتے کے حوالے سے سب کچھ تھے ، میں تحریک لبیک پاکستان کا کبھی رکن نہیں رہامگر امیر المجاہدین علامہ خادم حسین رضوی اپنی تحریک سمیت میرے قلب میں رچے و بسے رہے ،میں نے اپنی شعوری زندگی میں حسینیت کےنعرے لگانے والے تو بہت دیکھے لیکن حسینیت کے کردار کے حاملین بہت کم دیکھے ہیں اور میں آج شہادت دیتا ہوں کہ خادم حسین رضوی واحد شخص تھا کہ جس نے اپنے دور میں اپنے آپ کو حسینیت کے کردار میں ڈھالااور جس نے تمام نوجوانوں کے دلوں کومحبت رسولۖ سے بھردیا۔اس موقع پر انہوں نے حکومت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ تم نے 126دن ڈی چوک پر دھرنا دیاتم پر تو ایک شیل نہیں گرا، غلامان مصطفیۖ جب جذبہ محبت مصطفیۖ کو لیکر آئے تو تم نے ٹرک بھر کر ان پر شیل گرادئیے،وہ ہاتھ ٹوٹ جائیں جنہوں نے یہ شیل گرائے ،وہ زبانیںگنگ ہو جائیں جنہوں نے یہ حکم دیا، اس موقع پر تحریک لبیک پاکستان صوبہ سندھ کے امیراوررکن شوری علامہ غوث بغدادی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مولانا خادم حسین رضوی اللہ کے ایک ولی تھے ۔ زمانہ انہیں پہلے ہی ولی مانتا تھااور کل کے منظر نے تو سب کچھ ہی واضح کردیا۔انہوں نے انکشاف کیا کہ نیوزی لینڈ میں ایک رپورٹ جو کہ انگریزی زبان میں پیش کی گئی انہوں نے مختلف میپس(نقشوں )کے ذریعے کورڈ ایریا کو بیان کیااور انہوں نے یہ اندازہ لگایا کہ ایک شخص کتنی جگہ لے لے گاتو جو ان کی رپورٹ تھی وہ یہ تھی کہ نماز جنازہ میں ایک کروڑ 70لاکھ سے زائد افراد نے شرکت کی۔

Leave a Reply

%d bloggers like this: