دونوں بھائیوں کے درمیان رابطہ کیا بات چیت ہوئی؟تفصیلات آگئیں

لاہور( این این آئی) پاکستان مسلم لیگ(ن) کے صدر محمد شہباز شریف کا احتساب عدالت میں پیشی کے موقع پراپنے بڑے بھائی پارٹی قائد محمد نواز شریف سے ٹیلیفونک رابطہ ہوا۔ نواز شریف نے شہباز شریف سے انکی کمر کی تکلیف بارے پوچھا جبکہ شہباز شریف نے بھیبھائی سے ان کی صحت بارے آگاہی حاصل کی ۔بتایا گیا ہے کہ نواز شریف نے اپنے چھوٹے بھائی کا حوصلہ بڑھایا۔ شہباز شریف نے کہا کہ میرے خلاف جھوٹے کیس میں فرد جرم عائد کی گئی ہے، میں ٹرائل کا سامنا کروں گا۔ نواز شریف کا کہنا تھاکہ انتقام کا وقت جلد

گزر جائے گا ۔دریں اثنا مسلم لیگ (ن) کے صدر محمد شہباز شریف کی احتساب عدالت میں پیشی کے موقع پر پارٹی کے سینئر رہنمائوں خواجہ آصف اور خواجہ سعد رفیق نے ملاقات کی ۔ رہنمائوںنے اس موقع پر سیاسی صورتحال اور مختلف امور پر گفتگو کی ۔ پارٹی کے دیگر رہنمائوں نے بھی کمرہ عدالت میں شہباز شریف اور حمزہ شہباز سے ملاقات کی ۔دوسری جانب احتساب عدالت نے منی لانڈرنگ ریفرنس میں مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف ، ان کے صاحبزادے حمزہ شہباز شریف سمیت دیگر ملزمان پر فرد جرم عائد کردی ،ملزمان کی جانب سے صحت جرم سے انکار پر عدالت نے نیب کے گواہان کو طلب کرتے ہوئے سماعت 26نومبر تک ملتوی کردی ۔احتساب عدالت کے ایڈمن جج جواد الحسن نے ریفرنس پر سماعت کی ۔ شہباز شریف اور حمزہ شہباز کو بکتر بند گاڑیوں میں جیل سے عدالت لایا گیا جبکہ دیگر ملزما بھی پیش ہوئے ۔ شہباز شریف نے دوران سماعت عدالت کو بتایا کہ ابھی تک فزیو تھراپسٹ نہیں ملا ،میری کمرکا درد بہت بڑھ چکا ہے ،آج سماعت تھی اس لیے کل مجھے ہسپتال لے کر گے میں نے کہا کہ مجھے ایمبولینس میں لے جائیں ، لیکن مجھے بکتر بند گاڑی میں لے جایا گیا ، مجھے تکلیف دے کر انہیں خوشی ہوتی ہے ۔ عدالت نے ملزمان پر فر د جرم عائد کرنے کی کارروائی شروع کیتو شہباز شریف اور حمزہ شہباز صحت جرم سے انکار کر دیا۔فاضل عدالت نے حکم دیا کہ شہباز شریف کوبٹھا دیا جاے، پہلے ہی ان کی کمر میں درد ہے۔ شہباز شریف نے صحت جرم کرنے سے انکار کرتے ہوئے موقف اپنایا کہ قائد حزب اختلاف اور بڑی سیاسی جماعت کا صدر ہوں ۔یہ بدنیتی سے بنایا گیا کیس ہے جس سے انکار کرتا ہوں ،اعلی عدالتوں نے بھی نیب پر بہت سے سوالات اٹھاے ہیں یہ ادارہ پولیٹکل انجینئرنگ کرنے والا ادارہ ہے ،آج تک نیب نے ہمارے خلاف کوی بھی ثبوت پیش نہیں کیا ۔نیب نے مختلف کیسوں میں مجھے گرفتار کیا ،آج تک مجھے پرایک پیسے کی کرپشن ثابت نہیں ہو سکی ،میں نے دس سالوں میںقوم کے کھربوں روپے بچائے ،مجھ پر لگاے گے الزامات بد نیتی پرمبنی ہیں ، ایک دھیلے کی کرپشن اور منی لانڈرنگ ثابت نہیں ،میں اس قوم کا قابل فخر سپوت ہوں ،ہم نے اس خطے میں پاکستان کو آگے لے کر جانا ہے ۔ہم نے بھارت کو معاشی میدان میں شکست دینی ہے،میں نے صرف اورنج لائن ٹرین منصوبے میں قوم کے 81  ارب  بچائے جو آج کی ویلیو کے حساب سے 100ارب روپے بنتے ہیں،مجھے اور میری فیملی کے خلاف ناجائز منی لانڈرنگ کیس بنایا گیا میں اس میں مکمل بے قصور ہوں ۔میں تمام الزامات سے انکار کرتا ہوں ، اپنی بے گناہی کے لیے تمام ثبوت عدالت کو فراہم کروں گا ۔ فاضل عدالت نے کہا کہ آپ فرد جرم پر قانونی جواب دیں تاکہ کارروای آگے بڑھ سکے ۔فاضل عدالت نے حمزہ شہباز سے استفسار کیا آپ نے عدالت میں کچھ کہنا ہے ۔ حمزہ شہباز نےکہا میں پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف ہوں،نیب نے ہمارے خلاف بدنیتی سے کیس بنایا ،نیب کے لگاے گے تمام الزامات غلط ہیں ،میںتمام الزامات سے انکار کرتا ہوں ، بے گناہ ہوں اوراپنی بے گناہی ثابت کروں گا ۔ حمزہ شہباز نے مزید کہا کہ آج جس گاڑی میں لایا گیا اس کیبریک نہیں لگتی ،دوبار حادثہ ہوتے پوتے بچا ۔فاضل عدالت نے 7ارب 23 کڑور منی لانڈرنگ ریفرنس میں شہباز شریف حمزہ شہباز سمیت دیگر ملزمان پر فرد جرم عائد کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر نیب کوتین گواہان پیش کرنے کا حکم دیتے ہوئے سماعت 26نومبر تک ملتوی کر دی ۔مسلم لیگ (ن) کے مرکزی رہنمائوں کی بڑی تعداد شہباز شریف اور حمزہ شہباز سے اظہار یکجہتی کے لئے احتساب عدالت ۔ کارکنوں کی جانب سے شہباز شریف اور حمزہ شہباز کو لانے والی بکتر بند گاڑیوں پر پھول نچھاور کئے گئے اور نعرے لگائے گئے ۔ پولیس کی طرف سےاحتساب عدالت کی طرف آنے والے راستوں کو مختلف رکاوٹیں کھڑی کر کے بند کر دیا گیا جس کی وجہ سے عام شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ احتساب عدالت کی طرف جانے کی کوشش میں کارکنوں اور پولیس کے درمیان دھکم پیل اور تلخ کلامی بھی ہوتی رہی۔

Leave a Reply

%d bloggers like this: