’رجیکٹڈ‘: کراچی واقعے کی تحقیقاتی رپورٹ ذمہ داران کو بچانے کی کوشش ہے، نواز شریف

سابق وزیر اعظم نواز شریف نے  کراچی واقعے پر تحقیقاتی رپورٹ کے بارے میں ٹویٹ کرتے ہوئے اسے اصل ذمہ داروں کو بچانے کے لیے جونئیر افسران کو پھنسانے کی کوشش قرار دیتے ہوئے اسے مسترد کردیا ہے۔

انہوں نے لکھا کہ کراچی واقعے کی انکوائری رپورٹ ایک کور اپ ہے جس کا مقصد  واقعے کے اصل ذمہ داران کو بچانےکے لیئے جونئیر افسران کو بلی کا بکرا بنانا ہے۔ انہوں نے ڈرامائی انداز میں لکھا کہ رپورٹ ریجکٹڈ یعنی رپورٹ مسترد ہے۔

یاد رہے کہ ڈان لیکس کی تحقیقاتی رپورٹ جس میں اس وقت کی نواز حکومت نے ذمہ داروں کا تعین کرتے ہوئے اس وقت کے وزیر اطلاعات و نشریات پرویز رشید کا استعفیٰ لے لیا تھا، اس کےبارے میں  اس وقت کے ڈی جی آئی ایس پی آر جنرل آصف غفور نے  عین اسی انداز میں رپورٹ ریجکٹڈ لکھ کر ٹویٹ کیا تھا جس نے ایک اور سول ملٹری تنازعہ کو جنم دیا تھا۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر سے جاری بیان میں بتایا گیا ہے کراچی واقعے میں ملوث سندھ رینجرز اور انٹر سروسز انٹیلیجنس (آئی ایس آئی) کے افسران کو معطل کردیا گیا ہے۔

آئی ایس پی آر کا بیان میں کہنا تھا کہ ’پاکستان رینجرز اور سیکٹر ہیڈ کوارٹرز آئی ایس آئی کراچی کے افسران پر مزارِ قائد کی بے حرمتی پر قانون کے مطابق بروقت کارروائی کے لیے عوام کا شدید دباؤ تھا‘۔

بیان میں کہا گیا کہ ’ان افسران نے شدید عوامی ردِ عمل اور تیزی سے بدلتی ہوئی کشیدہ صورتحال کو مدِ نظر رکھتے ہوئے سندھ پولیس کے طرزِ عمل کو اپنی دانست میں ناکافی اور سُست روی کا شکار پایا‘۔

آئی ایس پی آر کا مزید کہنا تھا کہ ’ذمہ دار اور تجربہ کار افسران کے طور پر انہیں ایسی ناپسندیدہ صورتحال سے گریز کرنا چاہیے تھا جس سے ریاست کے دو اداروں میں غلط فہمیاں پیدا ہوئیں‘۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ ’اس کشیدہ مگر اشتعال انگیز صورتحال پر قابو پانے کے لیے اِن افسران نے اپنی حیثیت میں کسی قدر جذباتی ردِ عمل کا مظاہرہ کیا‘۔

بیان میں بتایا گیا کہ ’کورٹ آف انکوائری کی سفارشات کی روشنی میں متعلقہ افسران کو ان کی موجودہ ذمہ داریوں سے ہٹا دیا گیا ہے‘۔

ساتھ ہی واضح کیا گیا کہ ضابطہ کی خلاف ورزی پر ان آفیسرز کے خلاف کارروائی جنرل ہیڈ کوارٹرز (جی ایچ کیو) میں عمل میں لائی جائے گی۔

واضح رہے کہ مزار قائد پر نعرے بازی کے سلسلے میں مسلم لیگ (ن) کے رہنما کیپٹن صفدر کو ایک نجی ہوٹل میں گرفتار کیا گیا تھا اور ان کی گرفتاری کے لیے آئی جی سندھ پر دباؤ ڈالے جانے  حتیٰ کہ انہیں آئی ایس آئی کی ایما پر رینجرز کی جانب سے آئی جی سندھ کو اغوا کرنے کی خبریں موصول ہوئی تھیں۔

واقعے کے بعد آئی جی سندھ سمیت صوبے کے تمام اعلیٰ افسران نے احتجاجاً چھٹیوں پر جانے کا فیصلہ کیا تھا جب کہ بلاول بھٹو زرداری نے بھی اس حوالے سے تحفظات کا اظہار کیا تھا اور آرمی چیف سے نوٹس لینے کی اپیل کی تھی۔

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کراچی واقعے پر بلاول بھٹو زرداری کو ٹیلی فون کیا تھا اور تحقیقات کی یقین دہانی کرائی تھی۔

%d bloggers like this: