سابق صدر پرویز مشرف کے حوالے سے سنگین غداری کیس بارے لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کیخلاف توفیق آصف ایڈووکیٹ کی درخواست کا متن


اسلام آباد :  لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے سابق صدرپرویزمشرف کوسنگین غداری کیس میں رہاکرنے کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا ہے۔

سابق صدر   پرویز  مشرف کیخلاف سنگین غداری کیس کافیصلہ سنانے والی خصوصی عدالت کی تشکیل کو غیرآئینی قراردینے کا لاہور ہائیکورٹ کا  13  جنوری کافیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کردیاگیا،ہائیکورٹ کافیصلہ سابق صدرہ ائیکورٹ بار  راولپنڈی توفیق آصف نے چیلنج کیا۔

سپریم کورٹ آف پاکستان
توفیق آصف سابق صدر لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن راولپنڈی
بنام
جنرل ریٹائر پرویز مشرف ولد مشرف الدین فارم ہائوس چک شہزاد اسلام آباد موجودہ رہائش نمبر 3902 ٹاور سکس ڈائون ٹائون سائوتھ ریج دبئی عرب امارات بذریعہ نذیر احمد ولد ملک سراج دین، ہائوس نمبر 22 بی، گلی نمبر6 سیکٹر ای فیز ون ڈی ایچ اے اسلام آباد۔
صدر پاکستان بذریعہ سیکرٹری وزارت داخلہ حکومت پاکستان
سیکرٹری وزارت قانون و انصاف ڈویژن حکومت پاکستان اسلام آباد
خصوصی عدالت بذریعہ رجسٹرار فیڈرل شریعت کورٹ اتا ترک ایونیو جی فائیو ٹو اسلام آباد
ایف آئی اے بذریعہ ڈائریکٹر جنرل اسلام آباد
درخواست آرٹیکل 185(3) آئین پاکستان فیصلہ لاہور ہائی کورٹ رٹ پٹیشن نمبر 71713/2019 بتاریخ 13 جنوری 2020ء
گزارشات درج ذیل ہیں۔

1۔ درخواست گزار نے لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے 13 جنوری 2020ء کو رٹ پٹیشن نمبر 71713/2019 کے تحت جاری کردہ فیصلہ درج ذیل آئینی سوالات کے تحت چیلنج کیا ہے۔
i۔ کیا ہائی کورٹ آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت ایسی درخواست کی سماعت کر سکتی ہے جس کے حوالے سے سپریم کورٹ نے یکم اپریل 2019ء کو حکم نامہ جاری کیا تھا؟
ii۔ سپریم کورٹ کے یکم اپریل 2019ء کے حکم نامے کے باوجود لاہور ہائی کورٹ نے کیسے سماعت کر لی؟

iii۔ جب سپریم کورٹ نے یکم اپریل 2019ء کو خصوصی عدالت کو جنرل (ر) پرویز مشرف کی غیر حاضری میں ٹرائل کرنے کا حکم دیا تھا اور کہا تھا کہ کریمنل لاء (سپیشل کورٹ) ایکٹ 1976ء کی سیکشن 9 کے تحت اجازت دی تھی، کیا لاہور ہائی کورٹ ایسی صورت میں اسی موضوع کے مطابق سماعت کرنے کا اختیار رکھتی تھی؟
iv۔ کیا اس طرح کی ہونے والی سماعت اور 13 جنوری 2020ء کو جاری ہونے والا حکم آئین اور قانون کی رُو سے غیر آئینی نہیں ہے؟

v۔ آیا کہ رٹ پٹیشن نمبر 71713/2019 سپریم کورٹ کے دائرہ کار کے تحت سماعت کر سکتی تھی اور خصوصی عدالت کے فیصلے کو غیر آئینی اور غیر قانونی قرار دے سکتی تھی؟
vi۔ جنرل (ر) پرویز مشرف اب تک اشتہاری ہیں، کیا پھر بھی انہیں 17 دسمبر 2019ء کے خصوصی عدالت کے فیصلے کے خلاف رٹ پٹیشن نمبر 71713/2019 کے متعلق آئینی درخواست دینے کا حق حاصل تھا؟

vii۔ کیا لاہور ہائی کورٹ کو خصوصی عدالت کی ہونے والی سماعت کا جائزہ لینے کا رٹ پٹیشن کے تحت اختیار تھا اور کیا متعلقہ پروویژن کے تحت خصوصی عدالت نے جو فیصلہ دیا تھا اس کو کالعدم قرار دینے کا اختیار تھا؟

viii۔ کیا لاہور ہائی کورٹ خصوصی عدالت کا فیصلہ کالعدم قرار دینے کے لئے اپیلٹ کورٹ کا اختیار استعمال کر سکتی تھی؟
ix۔ کیا لاہور ہائی کورٹ نے سپریم کورٹ کا خالد اقبال بنام مرزا خان 2015ء کا فیصلہ نظرانداز کر دیا، جس میں یہ قرار دیا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ ہائی کورٹ میں رٹ کے تحت چیلنج نہیں ہو سکتا اور اس سلسلے میں ہائی کورٹ پر آرٹیکل 199(5) کے تحت پابندی ہے اور وہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف سماعت کا اختیار نہیں رکھتی؟

x۔ 13 جنوری 2020ء کو لاہور ہائی کورٹ کے فل بنچ نے جو فیصلہ سنایا کیا وہ غیر قانونی اور غیر آئینی نہیں ہے اس کے ساتھ ساتھ وہ آئین پاکستان کے تحت جوڈیشل رویے اور کنڈکٹ کے اصولوں کے منافی نہیں ہے؟

xi۔ لاہور ہائی کورٹ کیا سپریم کورٹ کے مولوی اقبال حیدر بنام فیڈریشن 3 جولائی 2013ء کے فیصلے کے خلاف کوئی حکم جاری کر سکتی ہے اور اس کو کالعدم قرار دینے کا اختیار رکھتی ہے؟
xii۔ لاہور ہائی کورٹ یکم اپریل 2019ء کو لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن بنام جنرل پرویز مشرف 2019ء میں جو سپریم کورٹ نے خصوصی عدالت کے حوالے سے جو ہدایات جاری کی تھیں کیا ان کے خلاف وہ سماعت کر سکتی تھی؟

xiii۔ کیا 13 جنوری 2020ء کو خصوصی عدالت کا فیصلہ کالعدم قرار دینے کا حکم لاعلمی، نظرانداز کرنے اور سپریم کورٹ کے مقدمات مولوی اقبال حیدر اور لاہور ہائی کورٹ بنام فیڈریشن کے فیصلوں کی خلاف ورزی نہیں ہے اور ہائی کورٹ نے ملک میں انارکی پھیلانے کی کوشش نہیں کی ہے؟

xiv۔ کیا لاہور ہائی کورٹ نے اپنے دائرہ کار سے تجاوز نہیں کیا ہے؟
xv۔ کیا سپریم کورٹ کے چودہ ججوں کا فیصلہ لاہور ہائی کورٹ ختم کر سکتی ہے جو سندھ ہائی کورٹ بار بنام فیڈریشن 2009ء میں دیا گیا تھا، جس کے تحت آرڈر اینڈ ججز (اوتھ آف آفس) آرڈر 2007ء بتاریخ 3 نومبر 2007ء اور وہ تمام ہدایات جو تین نومبر 2007ء سے پندرہ دسمبر 2007ء کے درمیان جاری کی گئیں، جن کو کالعدم قرار دیا گیا تھا ان کے حق میں فیصلہ کیا جا سکتا ہے؟
xvi۔ کیا دیا گیا فیصلہ سندھ ہائی کورٹ بار کے فیصلے کی رُو سے پاکستان کی اعلیٰ عدلیہ کے تمام تر ڈھانچے کی خلاف ورزی نہیں جو 31 جولائی 2009ء کو تشکیل دیا گیا تھا؟

xvii۔ کیا لاہور ہائی کورٹ کے ججز نے 2009ء کی عدلیہ کا حصہ ہوتے ہوئے کیسے سارے اختیار حاصل کر لئے اور 14 ججز کا جو سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن 2009ء کا فیصلہ آیا تھا کی رائے کے خلاف کیسے جایا جا سکتا ہے؟

xviii ۔ کیا لاہور ہائی کورٹ میں جو سزا ختم کی گئی ہے اس میں پیش ہونے والے درخواست گزار کے وکلائ، عدالتی معاون اور پرویز مشرف یہ سب ایک ہی پیج پر تھے؟

xix۔ رٹ پٹیشن نمبر 71713/2019 جو لاہور ہائی کورٹ کے روبرو دائر کی گئی، کیا وہ تمام تر آئین و قانون کے تحت ہونے والی سماعتوں سے مختلف حیثیت کی حامل ہے؟

xx ۔ کیا اس طرح کی سماعت کرکے اور فیصلہ دے کر قانون کے چہرے پر دھوکہ دہی کی گئی ہے اور ملک کے صحت مندانہ عدالتی ستون کو صدمہ پہنچانے کے مترادف ہے؟

xxi۔ کیا دیا گیا فیصلہ آئین پاکستان اور متعلقہ قوانین کی پروویژن کو غلط پڑھنے کی بنیاد پر جاری کیا گیا ہے؟

xxii۔ کیا دیا گیا فیصلہ بدنیتی پر مبنی اور سازشی معاملات پر ہے کہ جس کے مطابق مارچ 2009ء میں بحال ہونے والی خاص طور پر پاکستانی عدلیہ کے دائرہ کار کو سبوتاژ کرنے کے مترادف ہے؟
xxiii۔ کیا چیف جسٹس پاکستان کی مشاورت سے وفاقی حکومت کی جانب سے قائم کی گئی سپیشل کورٹ ایکٹ 1976ء کے تحت اس کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے اور لاہور ہائی کورٹ اس پر فیصلہ دے سکتی ہے؟

xxiv۔ کیا مصطفیٰ ایمپیکس 2016ء سپریم کورٹ کا فیصلہ، موجودہ ہائی کورٹ کے فیصلے پر لاگو ہوتا ہے؟

xxv۔ ایک صحیح قانون کے تحت بنائی گئی خصوصی عدالت پر کیا مصطفیٰ ایمپیکس فیصلہ لاگو ہو سکتا ہے؟

xxvi۔ کیا لاہور ہائی کورٹ سپریم کورٹ کے یکم اپریل 2019ء کے حکم نامے کی روشنی میں غیر حاضری میں ٹرائل کے سوال پر فیصلہ دے سکتی ہے جبکہ یہ معاملہ سپریم کورٹ پہلے ہی طے کر چکی ہے؟

xxvii۔ کیا لاہور ہائی کورٹ ایکٹ آف 1976ء کی سیکشن 9 کو سپریم کورٹ کے یکم اپریل 2019ء کے فیصلے میں غیر آئینی قرار دے سکتی ہے جس کو سپریم کورٹ پہلے ہی پرویز مشرف کے خلاف مقدمے میں جائز قرار دے چکی ہے؟

xxviii۔ سپریم کورٹ نے یکم اپریل 2019ء کو موجودہ مقدمے کے حوالے سے جو ہدایات جاری کی تھیں تو کیا وہ غیر حاضری میں ٹرائل سے متعلقہ معاملے پر حالات و واقعات کے تحت اثر ڈال سکتی ہیں؟

xxix۔ کیا لاہور ہائی کورٹ نے آرٹیکل 6 کو غیر موثر قرار نہیں دے دیا جس سے پاکستان کی آئینی تاریخ میں اس کی اہمیت کے حوالے سے خصوصی اثرات مرتب ہوئے ہیں؟
xxx۔ اٹھارہویں ترمیم کے تحت آرٹیکل 6 میں جن الفاظوں کا اضافہ کیا گیا ہے تو کیا وہ کوئی ایسا فرق پیدا کرتے ہیں کہ کسی شخص کی سزا جو آئین کے تحت دی گئی ہو اس کو معطل کیا جا سکے؟
xxxi۔ کیا اٹھارہویں ترمیم کے تحت شامل ہونے والے الفاظ اپنے اظہار اور تشریح کو پورا کرتے ہیں؟

حقائق
1۔ یہ کہ سول ریویو پٹیشن نمبر 513/2014 جو کہ آئینی پٹیشن نمبر 14/2013 سپریم کورٹ میں زیرالتوا ہے یہ درخواست موجودہ درخواست گزار نے دائر کی تھی جس پر سپریم کورٹ نے یکم اپریل 2019ء کو ایک جامع حکم جاری کیا۔

2۔ درخواست گزار نے یکم اپریل 2019ء کے متعلقہ پیراگراف کو درخواست کا حصہ بنایا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ کیس کے موجودہ حالات میں ملزم نے خود کو خصوصی عدالت سے غیر حاضر کیا ہوا ہے اور اسے 12 جولائی 2016ء کو اشتہاری بھی قرار دیا جا چکا ہے، قانون کی رُو سے ملزم اپنا حق شہادت کھو چکا ہے اس سلسلے میں اکرام اللہ بنام سرکار 2015ء سپریم کورٹ، ڈاکٹر مبشر حسن بنام فیڈریشن 2010ء سپریم کورٹ، حیات بخش بنام سرکار 1981ء سپریم کورٹ کے تحت ملزم اپنے حق کے لئے وکیل دفاع مقرر کرنے کا حق بھی کھو چکا ہے جب تک ملزم خود کو عدالت کے روبرو سرنڈر نہیں کر دیتا۔ درخواست گزار نے فیصلے کے مختلف پیراگراف بھی اس میں شامل کئے ہیں اور کیس کی سماعت غیر معینہ مدت تک کے لئے ملتوی کر رکھی ہے۔

3۔ خصوصی عدالت نے سپریم کورٹ کی ہدایت کے مطابق کارروائی کی ہے اور 17 اگست 2019ء کو پرویز مشرف کو سزائے موت سنائی ہے۔

4۔ جنرل (ر) پرویز مشرف نے لاہور ہائی کورٹ کے روبرو رٹ پٹیشن نمبر 71713/2019 دائر کی اور ان سے درخواست کی کہ جو سپیشل کورٹ نے حکم جاری کیا ہے اس کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے ریلیف فراہم کیا جائے اور اس سلسلے میں ان کے خلاف غیر موجودگی میں جو ٹرائل کیا جا رہا ہے اس کو بھی روکا جائے۔

5۔ یہ بہت اہم بات ہے کہ خصوصی عدالت نے جنرل (ر) پرویز مشرف کو 2 مئی 2013ء کو عدالت کے روبرو پیش ہونے کی اجازت دی اور کہا کہ وہ سیکشن 342 کے تحت اپنا بیان ریکارڈ کرا سکتے ہیں اور یہ ان کے لئے آخری موقع ہو گا۔

6۔ جنرل (ر) پرویز مشرف نے طے کردہ تاریخ سماعت سپیشل کورٹ کے باوجود اور سپریم کورٹ کی ہدایات کے باوجود دو مئی 2013ء کو پیش نہیں ہوئے، خود ہی غیر حاضر رہے اور اشتہاری بھی۔ اس لئے انہیں اب ٹرائل میں حکم امتناعی کے لئے رجوع کرنے کا کوئی حق نہیں ہے کہ وہ خصوصی عدالت کے روبرو یا اس کے فیصلے کو کالعدم قراردلانے کے لئے کوئی اقدام کر سکیں۔

7۔ یکم اپریل 2019ء کو سپریم کورٹ کی جانب سے دائر کردہ واضح ہدایات کے باوجود اور لاہور ہائی کورٹ جو سپریم کورٹ کے مولوی اقبال حیدر 2013ء کے فیصلے سے اچھی طرح آگاہ تھی اور جو سپریم کورٹ نے لاہور ہائیکورٹ بار 2019ء میں ہدایات کی تھی ان سب سے باخبر ہونے کے باوجود 13 جنوری 2020ء کو فیصلہ دیا۔ درخواست گزار نے لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعض پیراگراف بھی درخواست کا حصہ بنایا ہے جس میں ہائی کورٹ نے خصوصی عدالت کے فیصلے کو کالعدم قرار دیا تھا۔

8۔ یہ کہ درخواست گزار لاہور ہائی کورٹ بار راولپنڈی کے صدر کے طور پر سپریم کورٹ کے تین جولائی 2013ء کے فیصلے کے وقت درخواست گزار تھے اس کے ساتھ ساتھ وہ سول ریویو پٹیشن نمبر 513/2014 جو آئینی پٹیشن نمبر 14/2013 میں دائرہ کی گئی تھی کے بھی درخواست گزار ہیں جس کے تحت سپریم کورٹ نے یکم اپریل 2019ء کو حکم نامہ جاری کیا تھا، اس طرح سے درخواست گزار ہمیشہ سے پرویز مشرف کیس اور اس کے ٹرائل جو سنگین غداری کیس میں سیکشن 6 کے تحت کیا جا رہا تھا سے منسلک رہے ہیں، اس لئے درخواست گزارکو آئین کے آرٹیکل 185 کے تحت لاہور ہائی کورٹ کا رٹ پٹیشن نمبر 71713/2019 کے تحت 13 جنوری 2020 کو دیا گیا فیصلہ چیلنج کرنے کا حق حاصل ہے۔

دلائل
اے۔ لاہور ہائی کورٹ آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت ایسے کسی معاملے کی سماعت نہیں کر سکتی جو پہلے ہی سپریم کورٹ میں پینڈنگ ہو یا خاص طور پر جس کے لئے سپریم کورٹ یکم اپریل 2019ء کو آرڈر بھی جاری کر چکی ہو۔

بی۔ یکم اپریل 2019ء کے سپریم کورٹ کے حکم نامے کی موجودگی میں لاہور ہائی کورٹ کو اس طرح کی سماعت کرنے کا اختیار نہیں۔

سی۔ لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے اس طرح کی سماعت کیا جانا آئینی عدالتوں کے دائرہ کار کی آئین کے تحت خلاف ورزی ہے۔

ڈی۔ رٹ پٹیشن نمبر 71713/2019 کے تحت کی جانے والی سماعت غیر قانونی، غیر آئینی اور نہ ہونے کے برابر ہے۔

ای۔ یہ ریکارڈ پر موجود ہے کہ جنرل (ر) پرویز مشرف ایک اشتہاری ہیں اور انہیں آئین و قانون کے مطابق خصوصی عدالت کے خلاف ٹرائل کے حوالے سے حکم امتناعی کے لئے رجوع کرنے کا حق نہیں اور نہ ہی وہ خصوصی عدالت کے فیصلے کے خلاف کوئی حکم امتناعی حاصل کر سکتے ہیں۔

ایف۔ لاہور ہائی کورٹ میں ہونے والی اس موضوع پر سماعت آئین اور قانون سے متصادم ہے۔

جی۔ ایکٹ آف 1976 کے تحت جو خصوصی عدالت بنائی گئی تھی وہ خود ہائی کورٹ ججز پر مشتمل ہے جنہیں سیکشن 12 کے تحت خصوصی تحفظ حاصل ہے۔ درخواست گزار نے خصوصی عدالت کے دائرہ کار اور دیگر حوالوں سے تفصیلات بھی درخواست کا حصہ بنائی ہیں۔

ایچ۔ یہ عدالتی تاریخ میں پہلی مرتبہ ہے کہ 1973ء کے آئین بننے کے بعد ایکٹ آف 1976ء پر عمل کرتے ہوئے خصوصی عدالت قائم کی گئی اس لئے ہائی کورٹ پر آرٹیکل 199(5) کے تحت پابندی عائد ہے کہ وہ سپریم کورٹ کے فیصلہ 2015ء کی رُو سے سماعت نہیں کر سکتی۔ اس لئے معزز عدالت آئین و قانون کی بالادستی اور مفاد کے تحت مداخلت نہیں کر سکتی۔

آئی۔ ایکٹ 1976ء کی یکشن 12(3) کے تحت پرویز مشرف کو اپیل کا حق دیا گیا ہے مگر انہوں نے اس آئینی دائرہ کار کو استعمال کرنے کی بجائے اعلیٰ عدلیہ کے خلاف عبوری ریلیف کے لئے لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کیا اور رٹ پٹیشنز دائر کیں اور ایسا طریقہ اختیار کیا کہ جس کی انہیں قانون میں اجازت نہیں تھی اور ایسا لگتا ہے کہ وہ فیصلے میں تاخیر کرانا چاہتے تھے۔

جے۔ سپریم کورٹ کا 2019ء کا فیصلہ پہلے ہی آئین کے آرٹیکل 10 اے کے تحت ایک محافظ کی حیثیت رکھتا ہے اس لئے ہائی کورٹ کے فیصلے کی قانون میں کوئی اہمیت نہیں۔

کے۔ جیسا کہ اوپر بتایا جا چکا ہے کہ شکایت کنندہ وزارت داخلہ پاکستان ہے جو کہ اب ایک ایسے شخص کی سربراہی میں ہے جو ملزم پرویز مشرف کے ساتھ قریبی تعلق رکھتے ہیں اور انہوں نے خصوصی عدالت کی جانب سے سنائی گئی سزا سے انہیں بچانے کے لئے مختلف حیلے بہانے اختیار کر رہے ہیں۔

ایل۔ لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے رٹ پٹیشن نمبر 71713/2019 میں دیا گیا فیصلہ غیر قانونی ہے اور بغیر کسی قانونی اختیار کے دیا گیا ہے اور نہ ہی اس کا کوئی دائرہ کار ہے یہ فیصلہ عدالتی رویے اور اس کے طریقہ کار اور کنڈکٹ کے بھی خلاف ہے۔ اس میں ہائی کورٹ ججز اس بات کا خیال رکھتے ہیں کہ وہ ایسے کسی معاملے کی سماعت نہ کریں جو سپریم کورٹ میں پہلے ہی زیرالتواء ہو۔

ایم۔ لاہور ہائی کورٹ ایسے فیصلے کے خلاف بیٹھی جس میں سپریم کورٹ پہلے ہی مولوی اقبال حیدر کیس میں تین جولائی 2013ء کو فیصلہ دے چکی ہے اس لئے لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ سپریم کورٹ کے فیصلے کی رُو سے غیر آئینی اور غیر قانونی ہے۔

این۔ لاہور ہائی کورٹ سپریم کورٹ کی جانب سے یکم اپریل 2019ء کو جو فیصلہ لاہور ہائی کورٹ بار بنام جنرل پرویز مشرف دیا گیا تھا کے خلاف سماعت کرنے کا اختیار نہیں رکھتی۔

او۔ لاہور ہائی کورٹ نے 13 جنوری 2020ء کو جو فیصلہ دیا وہ لاعلمی، نظرانداز کرتے ہوئے 3 جولائی 2013ء اور یکم اپریل 2019ء کے مقدمات میں دیے گئے فیصلوں کے خلاف دیا ہے۔ اس سے ملک میں آئین و قانون کے تحت مقدمہ نمٹانے کی صورتحال بہت زیادہ سنگین ہو سکتی ہے۔

پی۔ لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ عدالتی ڈھانچے اور آئین کے تحت عدلیہ کو حاصل اختیار کے خلاف ہے۔

کیو۔ لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ سپریم کورٹ کے چودہ ججز کے فیصلے کو اپنے تحت لانے کے مترادف ہے۔

آر۔ ہائی کورٹ میں فیصلہ دیتے ہوئے اس کے ججز یہ بھول گئے کہ وہ خود سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن مقدمے کے تحت عدالتی ڈھانچے کا حصہ ہیں اور وہ سب 31 جولائی 2009ء کے ہائی کورٹ میں تعینات کردہ ججز ہیں۔ انہوں نے نہ صرف اپنی تعیناتیوں کو خود ہی نظرانداز کیا اور سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن فیصلے سے روگردانی کی۔

ایس۔ ہائی کورٹ فیصلہ میں مشترکہ کارروائی کی گئی، ملزم کے وکلاء اور عدالتی معاون میں دلائل میں درخواست گزار کا بھرپور ساتھ دیا اور اس مقدمے میں لاہور ہائی کورٹ میں کوئی مخالف نکتہ نظر پیش نہیں کیا گیا اس لئے یہ فیصلہ بحیثیت مجموعی غیر شفاف اور ناانصافی پر مبنی ہے۔

ٹی۔ رٹ پٹیشن نمبر 71713/2019 جس انداز سے دائر کی گئی اور پھر جس انداز سے اس کی سماعت ہوئی اس پرآئین اور قانون کے تحت شدید قسم کے تحفظات ہیں۔

یو۔ بغیر کسی دائرہ کار کے درخواست کی سماعت کرنا اور پھر اس پر فیصلہ دینا آئین و قانون کے چہرے پر دھوکہ دہی ہے، یہ جمہوریت کے لئے مکمل طور پر چونکا دینے والے اور غیر صحت مندانہ معاملات ہیں جس سے آئین کے تحت ریاست کے جو ستون ہیں، اس میں سے جوڈیشل ستون کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

وی۔ فیصلہ آئین و قانون اور متعلقہ قوانین کی پروویژنز کو غلط سمجھنے کی بنیاد پر دیا گیا۔

ڈبلیو۔ فیصلہ اور تمام تر سماعت بدنیتی، سازشی ذہن کے ساتھ اور ایک طے شدہ آئین توڑنے کے مترادف کوشش ہے۔

ایکس۔ فیصلے کے نکات سے ظاہر ہوتا ہے کہ چیف جسٹس آف پاکستان کی مشاورت سے جو خصوصی عدالت کے ججز مقرر کئے گئے تھے ان کو بدنام کیا گیا ہے، یہ سپریم کورٹ کے کئی فیصلوں کے خلاف ہے، جس میں چیف جسٹس آف پاکستان سے مشاورت کے بعد اہم ترین جوڈیشل آفسز میں تقرریوں بارے سفارشات پیش کی جاتی ہیں۔

وائی۔ اس مقدمے پر مصطفیٰ ایمپیکس 2016ء سپریم کورٹ لاگو نہیں ہوتا۔

زیڈ۔ موجودہ فیصلہ مصطفیٰ ایمپیکس پر لاگو نہیں ہوتا کیونکہ خصوصی عدالت چیف جسٹس آف پاکستان کی مشاورت کے بعد ہی قائم کی گئی تھی اور ججز مقرر کئے گئے تھے۔

اے اے۔ لاہور ہائی کورٹ سپریم کورٹ کے یکم اپریل 2019ء کے فیصلے کی رُو سے غیر حاضری میں ٹرائل کے سوال کا جائزہ نہیں لے سکتی کیونکہ یہ سوال سپریم کورٹ نے پہلے ہی طے کر دیا تھا۔

بی بی۔ غیر حاضری میں ٹرائل کا سوال جو حقائق اور واقعات کی بنیاد پر مختلف ہے کیونکہ سپریم کورٹ نے یکم اپریل 2019ء کو جو فیصلہ جاری کیا تھا اس میں پہلے ہی ہدایات جاری کر دی گئی تھیں۔ پرویز مشرف سال 2016ء میں جان بوجھ کر اشتہاری ہوئے اور اب بھی ہیں۔ انہیں خصوصی عدالت میں پیش ہونے اور خود کا دفاع کرنے کے لئے کئی مواقع دیے گئے انہوں نے کبھی بھی ان مواقع یا چانسز سے کبھی فائدہ نہیں اٹھایا۔ انہیں 2 مئی 2019ء کو خصوصی عدالت کے روبرو پیش ہونے کا آخری موقع دیا گیا اور یہ بھی سپریم کورٹ کے یکم اپریل 2019ء کے حکم کے مطابق تھا، پرویز مشرف نے خصوصی عدالت کی جانب سے دیے گئے کئی مواقعوں کا فائدہ اٹھانے کی بجائے جان بوجھ کر خود ہی اشتہاری بنے اور اب تک ہیں۔ اس لئے ان کی عدم موجودگی میں ٹرائل کیا گیا اب اس کا جائزہ یا اس کا فیصلہ نہیں کیا جا سکتا۔

سی سی۔ ہائی کورٹ نے فیصلہ دے کر آئین کے آرٹیکل 6 کی خلاف ورزی کی ہے کیونکہ یہ عدالتی تاریخ میں ایک اہم ترین موڑ تھا جس کا فیصلہ کیا گیا۔

ڈی ڈی۔ لاہور ہائی کورٹ نے اٹھارہویں ترمیم جو 2010ء میں پاس کی گئی تھی کے الفاظوں کے حوالے سے غلط تشریح کی، لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے نکات مکمل طور پر غیر متعلقہ ہیں اور ان کا آئین کے تحت کوئی تعلق نہیں بنتا۔ اس لئے آرٹیکل 6 تین نومبر 2007ء سے موجود ہے۔

استدعا
عدالت سے مودبانہ استدعا کی جاتی ہے کہ لاہور ہائی کورٹ نے 13 جنوری 2020ء کو رٹ پٹیشن نمبر 71713/2019 میں جو فیصلہ دیا ہے اسے غیر آئینی و غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کالعدم قرار دیا جائے۔ عدالت سے یہ بھی استدعا ہے کہ 13 جنوری 2020ء کو جس دائرہ کار کے تحت سماعت کی گئی اس کو بھی غیر آئینی و غیر قانونی قرار دیا جائے، اس کے ساتھ ساتھ کوئی اور ریلیف عدالت دینا چاہے تو وہ بھی دیا جائے۔

شیخ احسن الدین ایڈووکیٹ سپریم کورٹ
احمد نواز چوہدری ایڈووکیٹ آن ریکارڈ


%d bloggers like this: