سرمد کھوسٹ کی فلم زندگی تماشہ جسے پابندیوں نے آسکر تک پہنچا دیا

سرمد کھوسٹ ایک زمانے میں پاکستانی میڈیا انڈسٹری کے سب سے پسندیدہ فرد تھے۔ انکی ہدایتکاری کو سراہا جاتا تو انکی بطور فنکار صلاحتیوں سے بہرہ مند ہونے کے لیئے ہر کوئی کوشش کرتا۔ لیکن کہتے ہیں نا کہ زندگی کیا ہے اک  تماشہ۔۔

یہ  سرمد کھوسٹ نے  بھی دیکھا۔ سرمد کھوسٹ نے 2019 میں فلم زندگی تماشہ بنا ڈالی۔ سرمد اپنی تخلیق پر خوش تھے پاکستان کے تین سنسربورڈز نے انکی فلم کو پاس کر دیا تھا سب ٹھیک جا رہا تھا کہ فلم میکے میں اپنی فلم زندگی تماشہ لانے کے لئے آئے کوریا کی ایک اندھیری گلی میں کھڑے سگریٹ کے کش لگاتے سرمد کھوسٹ کو ایک مسیج ملتا ہے کہ ملک میں انکے لیے ایک وبال کھڑا ہوچکا ہے۔

ابتدائی طور پر صورتحال کا ادراک نہ کرنے والے سرمد جب پاکستان لوٹے تو ان پر یہ پہاڑ ٹوٹا کہ انکی فلم زندگی تماشہ پر پابندی لگانے کے لئے تحریک لبیک نے تحریک شروع کر دی ہے جبکہ الزام ان پر یہ یے کہ انکی فلم علما کی توہین اور نازیبا مواد رکھنے کی مرتکب ہوئی ہے۔
اس سے اگلا سال سرمد کھوسٹ کے لئے قتل کی دھمکیوں، گالم گلوچ، اور کردار کشی کی مہمات، موبائل پیغامات اور سوشل میڈیا مہم سے نمٹنے ہوئے گزرا۔
تاہم اس سب کا اثر یہ رہا کہ زندگی تماشہ صرف ایک مقامی فلم نہ رہی بلکہ آسکر کے لیے نامزد ہوگئی۔ اب جبکہ سرمد کھوسٹ اس کے لیئے سکریننگ کی کلیرینس حاصل کر چکے ہیں انکی فلم آسکر جیت پائے گی اس کے امکانات بھی روشن ہیں۔

%d bloggers like this: