سیاسی ماحول ایک بار پھر گرم۔۔!! پشاور میں اپوزیشن کا جلسہ۔۔۔ صوبائی حکومت نے جوابی حکمت عملی تیار کرلی

پشاور(ویب ڈیسک) وزیر محنت و ثقافت خیبر پختونخوا شوکت یوسفزئی نے کہا ہے کہ پشاور میں پی ڈی ایم جلسے کی کسی صورت اجازت نہیں دیں گے، کرونا سے لوگوں کو نقصان پر اپوزیشن کے خلاف مقدمات درج ہوں گے۔نجی ٹی وی چینل کے مطابق شوکت یوسفزئی نے اپنے ایک بیان میں واضح کیا ہے کہ اپوزیشن



کو عوام کی نہیں بدعنوانی بچانے کی فکر ہے، کسی کو عوام کے جان و مال سے کھیلنے نہیں دیں گے، کرونا سے لوگوں کو نقصان پر اپوزیشن کے خلاف مقدمات درج ہوں گے۔شوکت یوسفزئی کا کہنا تھا کہ پی پی دہرا معیار چھوڑ دے، سندھ میں لاک ڈاؤن اور کے پی میں جلسوں کے اعلان کا کیا مطلب ہے؟ کرونا صورت حال کے پیش نظر اپوزیشن پشاور جلسہ منسوخ کرے، پی ٹی آئی حکومت کے مخالفین بھی اپوزیشن سے جلسہ منسوخ کرنے کا کہہ رہے ہیں۔انھوں نے سوال اٹھایا کیا اپوزیشن رہنماؤں کے اپنے بچے جلسے میں شریک ہو رہے ہیں، یہ صرف دوسروں کے بچوں کو استعمال کرنا چاہتے ہیں؟گزشتہ روز صوبائی وزیر نے اپنے ایک ویڈیو رد عمل میں کہا تھا کہ وزیر اعلیٰ محمود خان نے اپوزیشن کو کرونا کی صورت حال پر بریفنگ دینے کے لیے وزرا کی کمیٹی تشکیل دی ہم نے اپوزیشن کو دعوت دی مگر انھوں نے بریفنگ لینے سے انکار کر دیا جو انتہائی افسوس ناک اور غیر جمہوری عمل ہے۔دوسری طرف جمعیت علماء اسلام (ف) کے رہنما مولانا عبدالغفور حیدری نے رد عمل میں کہا ہے کہ حکومت اعلان کر رہی ہے کہ پشاور میں جلسہ نہیں کرنے دےگی، اور اس کی وجہ کرونا کے پھیلاؤ کا خدشہ بتایا جا رہا ہے، لیکن وزیر اعظم نے سوات میں جلسہ کیا اور اب پی ڈی ایم کے جلسے کھٹک رہے ہیں۔یاد رہے کہ آج وزیر اعظم عمران خان نے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ پی ڈی ایم کے اراکین پہلے سخت ترین بندشیں چاہتے تھے، اور مجھ پر طنز و تنقید کے نشتر چلایا کرتے تھے، وہی آج زندگیاں خطرے میں ڈال کر عاقبت نا اندیش سیاست کر رہے ہیں، اور عدالتی احکامات ہوا میں اڑا کر کیسز میں تیز اضافے کے باوجود جلسے پر مصر ہیں۔







%d bloggers like this: