شادی سے پہلے بیوفائی : اداکارہ نواز الدین صدیقی اور انکی اہلیہ عالیہ کے درمیان طلاق کی اصل وجہ سامنے آگئی

لاہور (ویب ڈیسک) بالی ووڈ کی مقبول ترین فلم ’منٹو‘ میں منٹو کا کردار بخوبی نبھانے والے بھارتی اداکار نواز الدین صدیقی نےپہلی مرتبہ اپنی اہلیہ عالیہ سے طلاق کی وجہ بتادی۔بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق بالی ووڈ اداکار نوازالدین صدیقی نے اپنے ایک انٹرویو میں بتایا کہ اُن کے اہلیہ کے



ساتھ تعلقات شادی سے پہلے ہی خراب چل رہے تھے، اُن کی اہلیہ عالیہ نے اُن پر بے وفائی کے الزامات لگائے تھے۔اس حوالے سےنواز الدین صدیقی کا کہنا ہے کہ عالیہ کے الزامات محض ڈرامے ہیں، وہ یہ سب کچھ صرف میرا نام خراب کرنے کے لیے کررہی ہیں۔نواز الدین صدیقی نےاپنے انٹرویو میں بچوں سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے بچوں کی ذمہ داری اُٹھانا بہت اچھی طرح سے جانتے ہیں، اُن کے دو بچے ایک بیٹا ’یانی‘ اور بیٹی ’شورا‘ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں اپنی بیٹی سے بہت زیادہ محبت کرتا ہوں اور باقی پرسنل لائف کے بارے میں کچھ نہیں کہنا چاہتا ۔میڈیا رپورٹس کے مطابق نواز الدین صدیقی کی اہلیہ نے رواں سال چھ مئی کو طلاق کیلئے فائل کیا تھا، نوازالدین کے وکیل نے بتایا کہ ان کے کلائنٹ نے 15 مئی کو اس پر جواب دیا تھا۔ وکیل نے کہا تھا کہ عالیہ نے میڈیا میں اداکار کے خلاف بدنامی کی مہم چلا رکھی ہے ۔دوسری جانب عالیہ نے ایک انٹرویو کے دوران انکشاف کیا تھا کہ نواز اُس دوران بھی کئی خواتین کو گھر بلاتے تھے جب وہ پہلے بچہ کے وقت حاملہ تھیں ۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ بے وفائی کے بارے میں زیادہ باتیں اُن کےاپنے بھائی سے ملتی تھیں۔انہوں نے بتایا کہ جب ہم ڈیٹ کررہے تھے اور ہماری شادی ہونے والی تھی تب بھی وہ کسی اور لڑکی کے ساتھ ریلیشن شپ میں تھے۔عالیہ نے اپنے انٹرویو میں کہا کہ ہم شادی کے بعد بہت لڑتے تھے۔ جب میں حاملہ تھی تو مجھے خود ہی ڈاکٹرز کے پاس چیک اپ کے لیے جانا پڑتا تھا۔ ڈاکٹر مجھے کہتے تھے کہ تم پاگل ہو، اکیلی کیوں آتی ہو۔انہوں نے یہ بھی بتایا کہ جس وقت میرا بچہ ہوا تب بھی میرا شوہر میرے ساتھ نہیں تھا۔یادرہے کہ نواز الدین صدیقی نے 2010 میں عالیہ سے شادی کی تھی، عالیہ کا تعلق ہندو مذہب سے تھا لیکن شادی کے بعد اُنہوں نے اپنا نام انجلی سے تبدیل کرکے عالیہ رکھ لیا تھا۔عالیہ اور نوازالدین صدیقی کی ایک 9 سالہ بیٹی اور ایک 5 سالہ بیٹا بھی ہے۔







%d bloggers like this: