شمالی بیت المقدس میں آباد کاری کے ایک بڑے منصوبے کا انکشاف،اسرائیل امریکہ سے فوری حمایت کا خواہشمند

مقبوضہ بیت المقدس ( آن لائن ) اسرائیل کے عبرانی ذرائع ابلاغ نے انکشاف کیا ہے کہ وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو نے شمالی بیت المقدس کے علاقوں قلندیہ البلد اور بیت حنینیا کی اراضی پر یہودیوں کو بسانے کے لیے ایک بڑے منصوبے کی تیاری شروع کی ہے۔مرکز اطلاعاتفلسطین کے مطابق وزیراعظم عطروت یہودی کالونی کو وسعت دینا چاہتے ہیں اور اس میں بیت حنینا اور قلندیہ کے علاقے بھی شامل کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔وزیراعظم نیتن یاھو کی کوشش ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت کے خاتمے سے قبل وہ عطروت یہودی کالونی کی توسیع کی

منظوری دے دیں اور اس کے لیے فلسطینی اراضی کا ایک بڑا حصہ حاصل کیا جاسکے۔ نیتن یاھو نے ایک بند کمرہ اجلاس میں کہا کہ وہ امریکا سے القدس میں عطروت یہودی کالونی کی توسیع کے لیے فوری حمایت حاصل کرنا چاہتے ہیں۔یہ کام موجودہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اقتدار کے دو ماہ میں ہوسکتا ہے۔اس حوالے سے انہوںنے امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو سے بھی بات چیت کی ہے۔ القدس میں ہونے والی اس ملاقات میں القدس اور غرب اردن میں یہودی آباد کاری کے منصوبوں اور ہزاروں نئے گھروں کی تعمیر پر بات چیت کی گئی۔ اسرائیلی حکومت کے عہدیداروں اور نیتن یاھو کے مقربین کا کہناتھا کہ اسرائیلی حکومت امریکا میں قیادت کی تبدیلی سے قبل فلسطینی علاقوں میں نیا آباد کاری اسیٹس کو نافذ کرنا چاہتی ہے۔ یہ کام صرف موجودہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی موجودگی میں ممکن ہے۔ ان کے اقتدار سے الگ ہونے کے بعد ایسا ممکن نہیں رہے گا۔

Leave a Reply

%d bloggers like this: