شوگر کمیشن کی رپورٹ کیوں افشا ء کی، ایف آئی اے افسر کو سزا سنا دی گئی

اسلام آباد (این این آئی)شوگر کمیشن کی تحقیقاتی رپورٹ شوگر ملز مالکان کے ساتھ شیئر کرنے والے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے عہدیدار کو نوکری سے برطرف کردیا گیا۔ذرائع نے بتایا کہ سیکرٹری داخلہ یوسف نسیم کھوکھر نے ایف آئی اے کے ڈپٹی ڈائریکٹرسجاد مصطفی باجوہ کو عہدے سے برطرف کردیا، انہیں شوگر انکوائری کمیشن سے علیحدہ کردیا گیا تھا اور وہ کچھ ماہ سے معطل تھے۔عہدیدار کے مطابق حتمی فیصلہ لینے سے قبل سیکریٹری کی جانب سے ملزم افسر کو بتا دیا گیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ ایف آئی اے نے سجاد مصطفی باجوہ کے خلاف

چارج شیٹ 30 اپریل کو پیش کی تھی، جسے ایک مجاز افسر نے پیش کیا تھا۔ایک ایڈیشنل سیکریٹری کو ضوابط کی خلاف ورزی کرنے والے افسر کے خلاف تفتیش کا حکم دیا گیا تھا مگر انہوں نے خود کو اس سے دور رکھا۔مزید یہ کہ برطرف کیے گئے افسر کو طلبی کے نوٹسز بھی بھیجے گئے اور وارننگ لیٹر بھی دیے گئے مگر وہ انکوائری افسر کے سامنے پیش نہیں ہوئے۔انکوائری افسر نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ سجاد مصطفی باجوہ نااہل ہیں اور حساس معلومات افشا کرنے کے مجرم ہیں۔مزید یہ کہ انہوں نے اپنا دفاع کرنے کے لیے میڈیا پر آکر گورنمنٹ سروینٹس (کنڈکٹ) 1964 کے قوانین کی خلاف ورزی کی ہے، جبکہ یہ حقائق پر مبنی نہیں تھے۔سیکرٹری داخلہ نے فائل پر لکھا کہ چارج شیٹ کی بنیاد پر انکوائری اور رپورٹ کے مطالعہ کے بعد ملنے والی معلومات پر میں اتھارٹی کی حیثیت سے سجاد مصطفیٰ باجوہ، جو کہ ڈپٹی ڈائریکٹر ایف آئی اے ہیں، کو سزا کے طور پر عہدے سے برطرف کرتا ہوں۔

Leave a Reply

%d bloggers like this: