شکی مزاج خاتون اور گنجی عورتوں کے ساتھی دوستیاں کرنے والا مرد : دن بھر کی مصروفیات کے بعد ایک موڈ فریش کردینے والی دلچسپ تحریر

لاہور (ویب ڈیسک) بچپن میں جب ایک بار ہم اسکول کی پکنک پر کوٹ پہن کر گئے تو تمام ٹیچرز نے حیرت سے دیکھا۔۔ کہاتو کچھ نہیں۔۔ اس دوران اچانک باتوں باتوں میں ایک ٹیچر نے سوال پوچھ لیا۔۔ اون کسے کہتے ہیں؟ ہم نے نفی میں گردن ہلاتے ہوئے کہا، نہیں معلوم۔۔



نامور صحافی علی عمران جونئیر اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔ ٹیچر نے اگلا سوال داغا، تمہارا کوٹ کس چیز سے بنا ہے؟ ہم نے بڑی معصومیت سے جواب دیا۔۔ابا کے پرانے کوٹ سے۔۔ایک خاتوں کو بلا وجہ شک کرنے کی عادت تھی جب بھی اُس کا شوہر دفتر سے یا پھر کسی اور جگہ سے واپس آتا تو اس کے کوٹ کو بڑی عرق ریزی سے چیک کرتی اگر ایک بال بھی نظر آجاتا تو بے چارے شوہر کی شامت ہی آجاتی۔ایک دن شوہر دفتر سے واپس گھر آیا تو بیوی نے اُس کے لباس کو پوری طرح چیک کیا لیکن کچھ نظر نہ آیا۔۔اچھا!۔۔ بیوی نے منہ بسورتے ہوئے کہا،اب تم نے گنجی عورتوں کے ساتھ بھی دوستی کرنی شروع کر دی ہے۔ایک بحری جنگی جہاز اپنے سمندری مشن پہ تھا کہ اچانک دشمن کے ایک جہاز سے سامنا ہوگیا، جہاز کے کپتان نے اپنے اسٹاف سے کہا۔۔میرا سرخ کوٹ لے آؤ۔۔ کوٹ پہن کر کپتان نے توپچی سے ٹھیک ٹھیک نشانوں پہ فائر کروائے اور یوں دشمن کا جہاز اپنے عملے سمیت غرق ہو گیا، جہاز کے تمام اسٹاف نے اپنے کپتان کی حکمتِ عملی کی جی بھر کے تعریف کی اور سب نے یہ سوال بھی پوچھا کہ جناب دشمن کے جہاز کی خبر ملتے ہی آپ نے سرخ کوٹ منگوا کر کیوں پہنا تھا؟ اس پہ کپتان نے بتایا۔۔اس لئے کہ میں نہیں چاہتا تھا کہ اگر میں زخمی ہوجاؤں تو میرے جسم پہ لہو کا رنگ نظر آئے اور اسے دیکھ کے میرے ساتھی ہمت ہار بیٹھیں یا پریشان ہو جائیں۔۔تمام عملہ اپنے کپتان کی اس اعلیٰ حکمت کی تعریف کر ہی رہا تھا کہ جہاز کے راڈار آپریٹر نے چیختے ہوئے اعلان کیا کہ دشمن کے دس جہازوں نے ہمیں چاروں طرف سے گھیر لیا ہے اور فرار کا راستہ مسدود دکھائی دیتا ہے۔ یہ اعلان سن کر کپتان نے ٹھنڈی آہ بھری اور مردہ سی آواز میں عملے کو حکم دیا۔۔ میرا پیلے رنگ کا پاجامہ لے آؤ۔۔







%d bloggers like this: