شہر اقتدار میں امن و امان کی مخدوش صورتحال: وزیرداخلہ سیاست کریں ہم اسلام آباد بند کرنے جارہے ہیں:صدر انجمن تاجران اجمل بلوچ

 وفاقی دارلحکومت اسلام آباد میں  دن دیہاڑے ہونے والی ڈکیتیوں کا سلسلہ رکنے کا نام نہیں لے رہا اور جمعرات کے روز ریڈ زون سے چند فرلانگ دور مصروف میلوڈی مارکیٹ میں دن دیہاڑے سونے کی ایک دکان پر ڈکیتی کی کوشش کی گئی۔ گارڈ کی مزاحمت پر واردات کو ناکام بنایا گیا لیکن ڈاکوؤں کی فائرنگ سے ایک شخص زخمی ہوا۔

نیا دور سے گفتگو کرتے ہوئے دکان کے مالک نے کہا کہ صبح جیسے ہی میں نے دکان کھولی تو دو نوجوان لڑکے بھکاریوں کی شکل میں دکان میں داخل ہوئے جس کے بعد انھوں نے پستول نکالا اور لوٹنے کی کوشش کی۔ مگر مزاحمت پر انھوں نے دکان پر کئی منٹ تک فائرنگ کی جس سے دکان میں موجود ایک شخص زخمی ہوا۔  ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ 15 پر کال کرنے کے بعد پولیس کا عملہ موقع پر پہنچا مگر تب تک وہ بھاگ چکے تھے۔ 

واضح رہے کہ یہ مارکیٹ لال مسجد روڈ سے کچھ میٹر کے فاصلے پر قائم ہے جہاں پولیس کی بھاری نفری ہر وقت موجود ہوتی ہے.

نیا دور میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے آل پاکستان انجمن تاجران کے صدر اجمل بلوچ نے نیا دور میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں بھی تاجر محفوظ نہیں۔ کوئی بتائے کہ  تاجر کہاں چلے جائیں؟ انھوں نے مزید کہا کہ دن دیہاڑے دکان پر ایسے فائرنگ ہورہی تھی جیسے یہ کوئی وزیرستان یا بلوچستان کا کوئی دور دراز کا علاقہ ہو۔ انھوں نے مزید کہا وزیر داخلہ سیاست دانوں کے پیچھے لگے رہیں ہم اگلے ہفتے سے اسلام آباد کے تمام تجارتی مراکز بند کرنے جارہے ہیں کیونکہ جب ہمارے تاجر محفوظ نہیں تو ہم کیوں خاموش رہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ پاکستان مسلم لیگ ن کے چودھری نثار جب وزیر داخلہ تھے تو پورے شہر میں گشت ہوتی تھی اور وارداتیں بہت کم ہوتی تھیں۔ مگر اب ایسا نہیں اور دن دیہاڑے ڈکیتی ہوجاتی ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ ہماری بات چیت چل رہی ہے اور اگر ہمارے تاجروں کو حفاظت نہیں فراہم کی جارہی تو پھر ہم اسلام آباد میں شٹرڈاؤن کرینگے۔

اسلام آباد میں گزشتہ پندرہ سال سے کرائم کی بیٹ کرنے والے سینئر صحافی راجہ کاشف  سے جب اسلام آباد میں بڑھنے والی جرائم کی شرح پر بات کی گئی تو انھوں نے کہا کہ اسلام آباد پولیس نے اعداد و شمار جاری کیئے ہیں کہ اسلام آباد میں جرائم کی شرح میں بیس فیصد کمی واقع ہوئی لیکن حقیقت اس کے مکمل برعکس ہے۔ جرائم کی شرح شہر میں بڑھ گئی ہے مگر پولیس کچھ واقعات میں ایف آئی اے آر درج نہیں کرتی اور اسی پر سالانہ رپورٹ بنا لیتی ہے. انھوں نے مزید کہا کہ شیخ رشید جب وزیر داخلہ بنے تو انھوں نے سیاسی پوائنٹ سکورنگ کے لئے شہر کے داخلی اور خارجی چیک پوسٹ ختم کیں جن کی وجہ سے بھی جرائم میں اضافہ ہوا اور یہ قدم پولیس سے مشاورت کئے بغیر اٹھایا گیا۔ شہر کے حالات اچھے نہیں ہیں اور ایک دم یہ قدم اٹھایا گیا.

جرائم کی وجوہات پر بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ کچھ سال پہلے جب شہر میں جرائم بڑھ جاتے تھے تو پولیس افسران کو سزا کے طور پر معطل کیا جاتا تھا مگر اب ایسا نہیں ہے اور جو لوگ حکومت میں آنے کے بعد اسلام آباد میں اعلی عہدوں پر تعینات تھے وہ آج بھی تعینات ہیں. انھوں بے مزید کہا کہ پولیس افسران کے پاس دو دو عہدے ہیں جیسے ڈی آئی جی آپریشنز ہے ان کے پاس ایس ایس پی آپریشن کا چارج بھی ہے جس کی وجہ سے وہ کام نہیں کرپارہے ہیں۔ مطلب ایس ایس پی آپریشن کا کام تھانوں کے اندر تعیناتی اور دیگر پولیس امور دیکھنا  ہوتے ہیں تو بیک وقت دو زمہ داریاں سنبھال رہے ہیں جس کی وجہ سے شہر میں پولیس کی تعیناتیاں بھی میرٹ پر نہیں ہورہیں اور شہر کا امن و امان خراب ہورہے ہیں اور روز ڈکیتیاں ہورہی ہے۔

%d bloggers like this: