شیعہ سنی فساد اور قائداعظم کی مسلم لیگ: ‘وہ معاملہ جس پر مسلم لیگ بے چارگی کا شکار رہی’

یہ مقالہ انگریز دور کے متحدہ صوبہ جات میں کانگریس پارٹی کی حکومت کے دور میں مسلم لیگ کی طرف سے مسلمان عوام کو متحرک کرنے کی حکمتِ عملی کا از سرِ نو جائزہ لیتا ہے اور یہ سمجھنے کی کوشش کرتا ہے کہ یہ مہم کس حد تک مسلم لیگ کو مسلمانوں کی معتبر نمائندہ جماعت بنانے میں کامیاب ہوئی۔ مقالے کے دوسرے حصے میں (جس کا ترجمہ یہاں پیش کیا جا رہا ہے)یہ ثابت کیا گیا ہے کہ اگرچہ اس زمانے میں مسلم لیگ ایک عوامی جماعت بن کر سامنے آئی لیکن اس کی نمائندگی کرنے کی صلاحیت معلق رہی۔ یہ شکوک و شبہات 1938ء اور 1939ء کے مدحِ صحابہ ہنگاموں میں ابھر کر سامنے آگئے کہ جنہوں نے لکھنؤ کے شیعوں اور سنیوں کے تعلقات میں شدید تناؤ پیدا کر دیا۔ اس کشمکش نے متحدہ صوبہ جات میں مسلم لیگ کی سیاسی بنیاد کو ہلا کر رکھ دیا اور یہاں سے یہ فسادات بڑھتے بڑھتے پورے برصغیر میں پھیل گئے۔ اس بحران کے دوران مسلم لیگ بیچارگی کے عالم میں ایک کونے سے لگ گئی اور واحد نمائندہ جماعت ہونے کی دعویدار تنظیم مسلمانوں کو سنبھالنے میں ناکام ہو گئی۔ متحدہ صوبہ جات(یو-پی) میں مسلمانوں، جنہیں مسلم لیگ اپنا مضبوط قلعہ سمجھتی تھی، کی صفوں میں یہ انتشار یہ ظاہر کرتا ہے کہ ابھی مسلمان قوم کو متحد کرنا دور کی منزل تھی۔

 مدحِ صحابہ ایجی ٹیشن اور مسلم لیگ کی سیاست کی محدودیت

لکھنؤ کے اہل تشیع اور اہلسنت میں محرم کے موقع پر کربلا میں امام حسینؑ کی شہادت کی یاد منانے کیلئے برپا کئے جانے والے تعزیہ کے جلوس کے سلسلے میں تلخیاں 1905ء میں شروع ہوئیں[68]۔ اس سال تک شیعہ اور سنی مل کر جلوس نکالتے تھے، سب تعزیے تال کٹورا پر واقع ایک مشترکہ ”کربلا“ میں لے جا کر دفنائے جاتے۔ اگلے چند سالوں میں تعزیہ داری کے تین بڑے دنوں یعنی دس محرم، چہلم اور اکیس رمضان کو کربلا (نامی امام بارگاہ)کو جانے والے راستے پر وقتی میلے لگنے لگے۔ جیسا کہ سرکاری گزیٹئر میں درج ہے:

”عارضی دکانیں اور ریڑھیاں لگائی جانے لگیں اور تفریح کیلئے پینگیں اور گھومنے والے جھولے نصب کئے جانے لگے۔ طوائفیں نہ صرف عزاداری میں شریک ہونے لگیں بلکہ بعض نے راستے کے قریب عارضی کوٹھے قائم کرنا شروع کر دئیے“[69]۔

ان چیزوں نے اہل تشیع کو مشتعل کر دیا جو ان کاموں کو عزاداری کی غم انگیز تقریبات کی توہین سمجھتے تھے۔ لہٰذا انہوں نے لکھنؤ کے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کو درخواست دی کہ ان پر توجہ دیں اور غیر مناسب افعال پر پابندی لگائیں۔ چنانچہ 1906ء کے عشرہٴ محرم میں لکھنؤ کی ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اہل تشیع کے جذبات کا احترام کرتے ہوئے سخت ضابطے لاگو کئے گئے۔ سنیوں نے اس پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ شیعوں کے برعکس وہ ان جلوسوں میں غم منانے کیلئے نہیں بلکہ ایک اسلامی قہرمان کی خوشی منانے کیلئے شریک ہوتے ہیں۔ ضلعی انتظامیہ نے اس جھگڑے کو سنیوں کیلئے تعزیے دفن کرنے کی الگ جگہ مختص کر کے نبٹایا۔

لیکن سنیوں نے اپنے جلوسوں کو شیعوں کے جلوسوں سے الگ رنگ دینے کی ٹھان لی۔ (محرم میں) ایسی نظمیں جنہیں اس وقت ”چار یاری“ کہا جاتا تھا، پڑھی جانے لگیں۔ ان نظموں میں چار خلفاء ؓکی مدح سرائی ہوتی اور انہیں پیغمبر ﷺ کا یار اور آپس میں دوست قرار دیا جاتا۔ ان میں سے کچھ نظمیں ’یقینی طور پر قابل اعتراض تھیں کیوں کہ ان میں اہل تشیع اور ان کے عقائد پر طعن کیا جاتا ‘ اور اس کو شیعہ ناپسند کرتے[70]۔ شیعوں نے جواب میں اپنے جلوسوں میں خلفائے ثلاثہؓ پر تبرا کرنا شروع کر دیا، کیوں کہ وہ انہیں خلیفہٴ بر حق علیؑ اور ان کی اولاد کے باغی سمجھتے تھے۔ ان تبدیلیوں نے متحدہ صوبہ جات میں اسلام کے دو فرقوں کے ماننے والوں کے سماجی تعلقات میں رخنہ پیدا کر دیا۔ 1907ء اور 1908ء میں سنی جلوسوں میں چاریاری اور شیعہ جلوسوں میں تبرا پڑھے جانے پر شدید فساد ہوا۔

ان واقعات کے نتیجے میں صوبائی حکومت نے 1908ء میں ایک افسر پیگوٹ کی زیر نگرانی ایک کمیٹی قائم کی جسے فریقین کے موقف کا جائزہ لے کر معاملے کی تحقیقات کرنے اور ایک رپورٹ مرتب کرنے کاکام دیا گیا۔ پیگوٹ کمیٹی اس نتیجے پر پہنچی کہ منظم انداز میں چاریاری نظمیں پڑھنا اور تعزیہ داری کے جلوس کو چاریاری جلوس میں بدل دینا ایک بدعت تھی جو 1906ء میں رائج ہوئی تھی۔ ایسی سماجی تبدیلیاں برصغیر کے آتشیں مذہبی ماحول میں فساد کی آگ بھڑکانے کی بنیاد قرار پائیں اور انگریزوں نے ،جو قانون اور نظم و ضبط کو سختی سے قائم رکھنا چاہتے تھے، فعال انداز میں ان کی حوصلہ شکنی کی۔ حسبِ توقع پیگوٹ کمیٹی نے’ عشرہٴ محرم، چہلم اور اکیس رمضان کو تعزیے، علم یا کسی اور محمڈن جلوس کے راستے یا اس کے قریب و جوار میں ‘ چاریاری نظمیں پڑھنے پر پابندی لگا دی۔

سال کے باقی ایام میں ان نظموں کے پڑھنے کے معاملے کو ’عام قوانین کے اطلاق‘ پر چھوڑ نے کا فیصلہ کیا گیا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ اگر کوئی شخص جان بوجھ کر شیعوں کی اہانت پر مبنی نظمیں پڑھے تو اس کے خلاف معمول کے قوانین کے مطابق کاروائی ہو گی۔ تاہم مطلق پابندی کا نفاذ نہ کرنے کی سفارش کی گئی کیوں کہ سنی ’اپنے عقیدے کے امتیازات‘ کا اظہار کرنے پر تلے ہوئے تھے۔ لہٰذا مخصوص ایام میں سنیوں کو حدود و قیود میں رہ کر پہلے سے مختص شدہ جگہوں پر ایسی نظمیں پڑھنے کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا گیا تاکہ شیعوں کے جذبات مجروح نہ ہوں اور کوئی فساد کھڑا نہ ہو سکے۔ شیعوں کا یہ مطالبہ کہ ایسی نظموں پر سال کے تمام ایام میں پابندی لگائی جائے مسترد کر دیا گیا۔ اس کے علاوہ کمیٹی نے چاریاری اور تبرا میں فرق کرتے ہوئے کہا کہ ان دونوں کو ایک جیسا نہیں سمجھا جا سکتا۔ یہ فیصلہ طے پایا کہ چاریاری اپنی اصل میں اصحابِ رسولؐ کی مدح ہے ، تبرا بنیادی طور پر سنیوں کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے کیلئے پہلے تین خلفاءؓ کو برا بھلا کہنا ہے۔ چنانچہ تبرا پر سال کے تمام ایام میں پابندی لگا دی گئی۔

پس پیگوٹ کمیٹی نے دونوں فریقوں کے مطالبات میں ایک توازن پیدا کرنے کی کوشش کی لیکن حسبِ توقع کسی بھی فریق کو راضی کرنے میں کامیاب نہ ہوئی۔ سب سے پہلے جس نے ان سفارشات پر عدم اطمینان کا اظہار کیا وہ سنی تھے۔ ان کے مطابق یہ سفارشات ان کے بنیادی مذہبی اعتقادات کے اظہار کی آزادی پر قدغن لگاتی تھیں۔ حکومت کی طرف سے ان سفارشات کو منظور کرنے کے بعد انہوں نے اس سے ٹکرانے کا اعلان کیا۔ لہٰذا 1909ء میں سنیوں نے جان بوجھ کر چاریاری پڑھنے پر حکومتی پابندی کی خلاف ورزی کی جس کے نتیجے میں متعدد افراد گرفتار ہوئے اور ان کے خلاف قانونی کاروائی کی گئی۔ اس تنبیہ کے نتیجے میں انہوں نے قانونی راستوں کو اپنایا۔ 1911ء میں انہوں نے لکھنؤ کے ڈپٹی کمشنر کو درخواست دے کر چاریاری جلوس نکالنے کی اجازت طلب کی جسے فساد کے خطرے کے پیشِ نظر مسترد کر دیا گیا۔ 1912ء میں دوبارہ لیفٹیننٹ گورنر سر جیمز میسٹن کو درخواست دی گئی اس بار بھی ناکامی ہوئی۔ اس کے بعد ہر سال معمول کے مطابق حکومت کی طرف سے (مخصوص ایام میں) منظم انداز میں سرِ عام چاریاری پڑھنے پر پابندی کے احکامات جاری کئے جاتے۔ پس سنی چاریاری جلوس برآمد کرنے سے دست بردار ہو گئے۔

1936ء میں مسئلے نے نئے ولولے سے سر اٹھایا جب دو سنی لڑکوں نے عاشورا کےدن احکامات کی خلاف ورزی کرتے ہوئے شہر کے مرکز میں چاریاری پڑھ دی۔ انہیں گرفتار کر کے ان کے خلاف قانونی کاروائی کی گئی۔ لیکن چہلم کے روز کچھ اور  سنیوں نے چاریاری پڑھی اور چودہ لوگ گرفتار ہوئے۔ یہ لکھنؤ میں (دیوبندی) سنیوں کی نئی ایجی ٹیشن کا نقطۂ آغاز ثابت ہوا، جس کا مقصد ان نظموں کو سرِ عام پڑھنا تھا اور جو بعد میں مدحِ صحابہ ہنگامے کے نام سے جانی گئی۔ اب کی بار سنیوں نے بارہ وفات کو، تین جون 1936ء یعنی پیغمبرِ اسلام ﷺ کے یوم ولادت کے دن،مدحِ صحابہ جلوس نکالنے کا اعلان کر دیا۔ لکھنؤ کے پولیس کمشنر نے فساد کے خطرے کو بھانپتے ہوئے اس پر پابندی لگا دی۔ پھر بھی  سنیوں نے 12 جون 1936ء کو یہ جلوس نکالا جس میں قرآن سے صرف وہ آیات پڑھی گئیں جن میں صحابہؓ کی تعریف بیان ہوئی تھی۔ لیکن شیعوں میں یہ افواہ پھیلی کہ مدحِ صحابہ پڑھی گئی تھی اور انہوں نے بھی جوابی طور پر تبرا کا جلوس نکال دیا۔ (دیوبندی) سنیوں نے خلیج کو مزید گہرا کرتے ہوئے حکومتی احکامات کی نافرمانی کر کے ہر جمعے کو مدحِ صحابہ کا جلوس نکالنا شروع کر دیا۔ یہاں سے گرفتاریوں اور قانونی کاروائی کے ایک سلسلے کا آغاز ہوا جو کئی ماہ تک جاری رہا۔

1936ء کے آخر تک دونوں فریقوں نے مسئلے کے حل کیلئے حکومت سے رجوع کیا اورتینوں فریقوں میں مذاکرات کا آغاز ہوا۔ تاہم یہ مذاکرات تعطل کو ختم کرنے میں ناکام ہو گئے اور حکومت نے صورتِ حال کا جائزہ لینے کیلئے جسٹس السوپ کی سربراہی میں ایک اور کمیٹی بنا دی۔ السوپ کمیٹی، جس نے اپریل 1937ء سے کام کا آغاز کیا، کے ذمے دو سوالات کا حل سونپا گیا تھا۔ اول : کیا 7 جنوری 1909ء کو پیگوٹ کمیٹی کی رپورٹ کی سفارشات کی روشنی میں لاگو کئے گئے سرکاری فیصلے کے اصول و ضوابط میں کسی تبدیلی کی ضرورت ہے؟، دوم: کیا امن و امان قائم رکھنے کیلئے لکھنؤ کی ضلعی انتظامیہ کی طرف سے سنیوں کے بارے میں اٹھائے گئے اقدامات کا طریقہ بدلنا چاہئیے؟ السوپ کمیٹی نے جون 1937ء میں صورتِ حال کو جوں کا توں رکھنے اور پیگوٹ کمیٹی کی سفارشات کی تائید پر مبنی رپورٹ جمع کرا دی۔ اس سے سنیوں کو رام کرنا مشکل تھا اور (کانگریس کی) حکومت نے مسلمانوں کی اکثریت کو ناراض کرنے کا خطرہ مول لینے کے بجائے السوپ کمیٹی کی رپورٹ کی اشاعت کو ملتوی کر دیا اور مولانا ابو الکلام آزاد کے ذریعے شیعوں اور سنیوں کے مابین تصفیہ کرانے کی کوشش کی [71]۔ لیکن ان مذاکرات سے کوئی نتیجہ نہ نکلنے اور  سنیوں کی طرف سے رپورٹ کو شائع نہ کرنے کے خلاف احتجاج کی دھمکی ملنے کے بعد حکومت نے مارچ 1938ء کو اس رپورٹ کے ساتھ اس کی سفارشات کو منظور کرنے کا سرکاری فیصلہ شائع کر دیا۔

توقع کےعین مطابق سنیوں کا ردِ عمل السوپ کمیٹی کی رپورٹ کو مکمل طور پر رد کرنا اور حکومت کے فیصلے کی مذمت تھا۔ تحریکِ مدحِ صحابہ کے دو مرکزی قائدین مولانا عبد الشکور لکھنوی (دیوبندی) اور مولانا ظفر الملک(دیوبندی) نے اپریل 1938ء میں ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے شرکاء کو بتایا کہ 26 جید علما کی ملاقات میں یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ مدحِ صحابہ پڑھنے پر کسی ایک دن کیلئے بھی پابندی نہیں لگائی جا سکتی کیوں کہ یہ سنیوں کا بنیادی مذہبی حق ہے۔ مولاناظفر الملک نے کہا کہ انہوں نے حکومت کو پیغام بھجوا دیا ہے کہ اگر اس نے اپنے فیصلے پر نظرِ ثانی نہ کی تو وہ سول نافرمانی کا آغاز کر دیں گے۔ اگلے دن چہلم تھا، پتا نالہ کے مقام پر ایک واقعہ ہوا، یہ ایک تنگ سی گلی تھی جس میں مولانا عبد الشکور لکھنوی نےمدرسہ دار المبلغین قائم کر لیاتھا۔ اس گلی سے گزارنے والے شیعوں کےایک تعزیہ بردار جلوس پر مدرسے سے اینٹیں پھینکی گئیں جس سے دس لوگ قتل جبکہ سینکڑوں زخمی ہوئے اور افراتفری مچ گئی۔

حکومت نے حالات کو قابو میں لانے کیلئے عبد الشکور اور ظفر الملک کو گرفتار کر لیا، لیکن اس کے نتیجے میں متحدہ صوبہ جات کے باقی علاقوں میں سنی (دیوبندی) مشتعل ہو گئے اور فتنہ لکھنؤ کی حدود سے باہر پھیلنے لگا۔ دو دن کیلئے لکھنؤ میں دکانیں بند رہیں۔ باڑہ بنکی، بریلی، بہرائچ، فیض آباد، بجنور، سہارنپور، غازی پور، آگرہ اور اعظم گڑھ میں بڑے بڑے جلسے منعقد ہوئے۔ ضلع سلطان پور میں عام ہڑتال کی گئی[72]۔ حکومت نے فریقین کو دوبارہ مذاکرات کی دعوت دیتے ہوئے دونوں مولانا حضرات کو رہا کر دیا۔ لیکن اگلے مہینوں میں فریقین کی طرف سے طاقت کے مظاہرے کی تیاریوں کی وجہ سے شیعوں اور سنیوں میں تناؤ بڑھتا ہوا نظر آیا۔ (دیوبندی) سنیوں نے انجمنِ تحفظِ ناموسِ صحابہ قائم کی تاکہ سول نافرمانی کو منظم کیا جا سکے۔ شیعوں میں انجمن تنظیم المومنین نمائندہ تنظیم کے طور پر سامنے آئی اور اس کے ساتھ ساتھ جلوسوں کی حفاظت کیلئے فوجِ عباسیہ کے نام سے رضاکاروں کا گروہ بنایا گیا۔

مسلم لیگ کا مخمصہ

مسلم لیگ نے شیعہ سنی  جھگڑے کو ایک سنجیدہ خطرے کے طور پر لیا کیوں کہ یہ مسلمانوں کے ایک ناقابلِ تقسیم مذہبی اور سیاسی اکائی ہونے کے تصور کو نقصان پہنچا رہا تھا۔ لیکن جو چیز مسلم لیگ کیلئے خاص طور پر شرمندگی کا سبب بن رہی تھی وہ یہ تھی کہ دونوں فریق اس کے قابو سے باہر تھے، اور یوں اس جماعت کا یہ دعویٰ کہ وہ مسلمانوں کی واحد اور فیصلہ کن نمائندہ جماعت تھی زیرِ سوال آ جاتا تھا۔ مزید یہ کہ مسلم لیگ کو فرقہ وارانہ خطوط پر ٹکڑے ٹکڑے ہونے کا خطرہ بھی لاحق ہو گیا تھا کیوں کہ متحدہ صوبہ جات میں مسلم لیگ کے ضلعی یونٹس میں شیعہ سنی تفریق نمایاں ہونے لگی تھی[73]۔

مسلم لیگ کی مصیبت میں اضافہ اس چیز نے کیا کہ متحدہ صوبہ جات کے مسلمان عوام کی اکثریت تو سنی تھی مگر مسلم لیگ کے اہم قائدین میں کئی ایک شیعہ نواب تھے، مثلاً راجا صاحب محمود آباد، راجا صاحب سلیم پور، راجا صاحب پیر پور اور خود محمد علی جناح بھی شیعہ تھے۔ ابتدا میں مسلم لیگ نے مدحِ صحابہ کے مسئلے پر سختی سے لاتعلقی پر کاربند رہنے کی کوشش کی، جیسا کہ کانگریس نے کمیونل ایوارڈ کے معاملے میں کیا تھا، لیکن اس سے دونوں فریق ناراض ہو گئے۔ چنانچہ اس نے حکمتِ عملی کو بدلا اور ہر فریق سے الگ طریقے سے رابطہ قائم کرنا شروع کیا تاکہ مسلمانوں کی وحدت میں پڑے ہوئے رخنے کو بھر سکے اور اپنی سیاسی بنیاد کو پہنچنے والے نقصان کی تلافی کر سکے۔

مسلم لیگ اور شیعہ

شیعوں نے مسلم لیگ کی غیر جانبداری کو سنی نوازی کی علامت سمجھا اور اس کے خلاف ہو گئے۔ شیعوں نے مسلم لیگ کو اقلیت کے حقوق کے معاملے میں منافقت کا شکار قرار دیا۔ جیسا کہ بہار کی مجلسِ قانون ساز کے شیعہ رکن نواب اسماعیل نے محمد علی جناح کے نام اپنے خط میں لکھا:

”مسلم لیگ، جو کہ مسلم اقلیت کی طرف سے آواز اٹھاتی ہے اور ہندو اکثریت کے جبر کی بات کرتی ہے، کو چاہئیے کہ مسلمانوں کے اکثریتی فرقے کی طرف سے اپنے ہم مذہب اقلیتی فرقے پر کئے جانے والے جبر پر بھی آنکھیں بند نہ رکھے“۔

اسماعیل نے جناح کو یاد دلایا کہ وہ خود بھی شیعہ تھے اور انہیں اپنے ہم مسلک افراد کے مذہبی حقوق کا تحفظ یقینی بنانا چاہئیے[74]۔ شیعہ مجتہدین کی قیادت میں تشکیل پانے والی انجمن تنظیم المومنین نے مسلم لیگ کو ایک سنی تنظیم قرار دیا[75] اور شیعوں کو کانگریس میں شمولیت کی دعوت دی[76]۔ انجمن کی مجلسِ عاملہ نے ایک قرارداد پاس کی جس میں کہا گیا کہ مسلم لیگ شیعوں کی نمائندگی کا حق نہیں رکھتی اور اعلان کیا کہ وہ مدحِ صحابہ کے مسئلے پر مسلم لیگ اور حکومت کے درمیان کسی سمجھوتے کو تسلیم کرنے کے پابند نہ ہوں گے[77]۔ انجمن نےگاؤ رکھشا کی حمایت کا اعلان کر کے ہندوؤں کی طرف بھی ہاتھ بڑھایا[78]۔ شیعہ مساجد میں ہندوؤں کی شمولیت عام ہونے لگی اور کان پور میں شیعوں نے”تبرا کیا ہے؟“ کے عنوان سے ایک کتابچہ ہندوؤں میں تقسیم کیا[79]۔ مسلم لیگ کیلئے سب سے زیادہ رسوا کن دھچکا یہ تھا کہ کچھ شیعہ قائدین اس مسئلے پر گاندھی جی سے مداخلت کی استدعا کرنے وردھا چلے گئے۔ نہ صرف یہ کہ مسلم لیگ کی فیصلہ کن مسلم نمائندہ جماعت کی حیثیت مشکوک ہو رہی تھی بلکہ تنازع کا ایک فریق درخواست لے کر کانگریس کے پاس چلا گیا۔

مسلم لیگ نے ناراض شیعوں کو راضی کرنے کیلئے متعدد منصوبے ترتیب دئیے۔ سب سے پہلے شیعوں سے رابطہ قائم کرنے کیلئے مسئلہٴ فلسطین کو اٹھایا تا کہ باہر کی دنیا کے مظلوم مسلمانوں کے ساتھ ہمدردی کے جذبات کے خزانے کو کام میں لایا جائے، جیسا کہ اس ہمدردی کو استعمال کر کے تحریکِ خلافت کے قائدین نے بہت کمائی کی تھی۔ چنانچہ مسلم لیگ نے انجمن تنظیم المومنین کو 26 اگست 1938ء کو یومِ فلسطین کے مظاہرے میں شرکت کی دعوت دی۔ اس موقعے پر مسلم لیگ کے مظاہرے میں چار سو لاٹھی بردار شیعہ رضاکاروں نے حفاظت کے فرائض انجام دئیے اور فوجِ عباسیہ کے پچاس رضاکاروں نے الگ سےنمائشی بندوقیں اٹھا کر شمولیت کی۔

مسلم لیگ کی ریلی میں انجمن کی شمولیت پر جلد ہی شیعوں کے اندر سے اعتراض ہونے لگا۔ ناقدین نے کہا کہ جب تک مسلم لیگ سنیوں کے ساتھ ان کے تنازع میں ان کی مدد کرتے ہوئے ساتھ کھڑے ہونے کا وعدہ نہیں کرتی، شیعہ بھی اس قسم کے مظاہروں یا جلسوں میں شامل نہیں ہو سکتے۔ ناقدین کو چپ کرانے کیلئے انجمن نے جواب میں یہ وعدہ کیا کہ آئندہ وہ مسلم لیگ کے ساتھ اس وقت تک تعاون نہیں کرے گی جب تک وہ اپنی موجودہ حکمتِ عملی کو تبدیل نہیں کرتی جو شیعوں کے مفادات کیلئے مضر ہے۔ واضح ہے کہ شیعہ مسلم لیگ کی حمایت کے بدلے کچھ حاصل کرنا چاہتے تھے اور وہ مسلم لیگ کے نزدیک اپنی قیمت بڑھانا چاہتے تھے۔

مسلم لیگ نے جواب میں جنوری 1939ء میں متحدہ صوبہ جات کی مقننہ میں الٰہ آباد و جون پور کی مسلم سیٹ کے دوبارہ انتخاب کے موقع پر آزاد شیعہ امیدوار سید علی ظہیر کے مقابلے میں اپنا امیدوار نہ لانے کا اعلان کر دیا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ شیعہ تھے اور مسلم لیگ اس عمل سے شیعہ برادری کو خوش کرنا چاہتی تھی۔ سید علی ظہیر کا کانگریس کی طرف جھکاؤ سب کو معلوم تھا۔ کانگریس کے اہم رکن سر وزیر حسن کے بیٹے علی ظہیر نے اکتوبر 1937ء میں مسلم لیگ کے لکھنؤ اجلاس میں اس جماعت کو متحدہ قومیت کا مخالف کہتے ہوئے جناح کو منفی حکمتِ عملی اپنانے کا الزام دے کر علیحدگی اختیار کر لی تھی۔

سید علی ظہیر نے ان انتخابات میں بلا مقابلہ فتح حاصل کی اور آنے والے دنوں میں جوں جوں ہنگامے بڑھے، وہ مسلم لیگ کی روایتی حکمتِ عملی کے برعکس شیعہ حقوق کے پر زور حمایتی کے طور پر سامنے آ ئے۔ مسلم لیگ کی حمایت کی اہمیت کا اندازا اس بات سے ہوتا ہے کہ متحدہ صوبہ جات میں کانگریس کے اقتدار سنبھالنے کے بعد یہ پہلا موقعہ تھا کہ مسلم لیگ نے کسی مسلم سیٹ پر انتخاب نہ لڑا ہو۔ مسلم لیگ کیلئے انتخابات اپنے مسلمانوں کی واحد نمائندہ جماعت ہونے کے اظہار کا موقع ہوتے تھے۔ وہ متحدہ صوبہ جات کی مسلم سیاست میں بھونچال سے بچنے کیلئے اس قسم کی بڑی قیمت بھی ادا کرنے کو تیار تھی۔

مسلم لیگ اور سنی

مسلم لیگ کیلئے اس سے بڑا خطرہ وہ تھا جو اس کے سنی بازو کو لاحق تھا جسے تحریکِ مدحِ صحابہ نےشدید نقصان پہنچایا تھا۔ سب سے پہلے یہ کہ اس تحریک کے مرکزی (دیوبندی) قائدین کسی کی نہ سنتے تھے اور ان پر مسلم لیگ کا بس نہیں چلتا تھا۔ مولانا ظفر الملک اور مولانا عبد الشکور لکھنوی مسلم لیگ کی نیت پر شک کرتے تھے، کیوں کہ متحدہ صوبہ جات میں راجا صاحب محمود آباد، سلیم پور اور پیر پور مسلم لیگ کی مرکزی قیادت میں شامل تھے۔ چنانچہ ایک  اجتماع میں، جسے مولانا عبدالشکور اور مولانا ظفر الملک نے منعقد کیا تھا، مسلم لیگ کے نمائندے نے اٹھ کر حکومت کی طرف سے مدحِ صحابہ کے جلوس پر پابندی کے خلاف سول نافرمانی کی حمایت کرنا چاہی تو اس پر لعن طعن کی گئی اور اسے بٹھا دیا گیا کیوں کہ ’اس معاملے میں کوئی مسلم لیگ پر اعتماد نہیں کرتا تھا‘[80]۔

دوسرے یہ کہ1938ء اور 1939ء میں مسلم لیگ کی مخالفت کرنے والی مذہبی (دیوبندی )سیاسی جماعتیں جو کہ کانگریس کی اتحادی تھیں، مثلاً مجلسِ احرار، سنیوں میں حمایت پیدا کرنے کیلئے بہت متحرک ہو گئیں۔ احرار متحدہ صوبہ جات میں، بالخصوص آگرہ کے علاقے میں، اپنے کارکنان کی تعداد بڑھانے میں بہت کامیاب رہی تھی۔ گدلے پانی میں مچھلیاں پکڑنے کیلئے انہوں نے خوارج کو میدان میں اتارا جنہوں نے متعدد مقامات پر حضرت علیؑ پر تبرا کیا۔ رائے بریلی میں اس معاملے پرشیعوں اور  سنیوں میں لڑائی ہو گئی[81]۔

تیسری طرف با اثر سنی (دیوبندی) علماء تھے جو مدحِ صحابہ کی قیادت کر نے کے ساتھ ساتھ کانگریس کے پکے حمایتی تھے۔ چنانچہ دارالعلوم دیوبند کے سربراہ اور کانگریس کے نمایاں حمایتی شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنی نے فتویٰ دیا کہ مدحِ صحابہ ایک بنیادی مذہبی حق ہے اور سنیوں کو اپنے مطالبات کے پورے ہونے تک پر امن جدوجہد جاری رکھنی چاہئیے[82]۔ مسلم لیگ کی حمایت کرنے والے دار العلوم فرنگی محل اور مدرسہ فرقانیہ لکھنؤ کے علماء نے ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کیا جس میں کہا گیا کہ خلفاءؓ کی توہین کسی صورت قابلِ قبول نہیں ہو سکتی اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ ہر قسم کے تبرا پر پابندی لگائی جائے[83]۔ جو چیز مسلم لیگ کیلئے زیادہ پریشانی کا سبب بنی وہ 1938ء میں مولانا ظفر الملک کا ہری پورہ میں کانگریس کے سالانہ جلسے میں شامل ہونا تھا۔ ظفر الملک نے وردھا آشرم جا کر گاندھی جی کے ساتھ بھی کافی وقت گزارا۔

مسلم لیگ کیلئے مسائل میں مزید اضافہ اس چیز سے ہوا کہ لکھنؤ کے سنیوں نےبھی وہاں کے شیعوں کی طرح ہندوؤں کو اپنے ساتھ ملانے کی کوششوں میں تیزی دکھائی۔ چنانچہ جب لکھنؤ کی نادان محل مسجد میں کسی نے سوٴر کا کٹا ہوا سر پھینکا تو (دیوبندی) سنیوں نے الزام لگایا کہ یہ شیعوں کی طرف سے ہندو سنی جھگڑا کھڑا کرنے کی سازش تھی تاکہ تحریکِ مدحِ صحابہ کو نقصان پہنچے[84]۔ لکھنؤ میں سنیوں کو جذب کرنے کی مسلم لیگ کی کوششیں ناکام ہو گئیں۔ چنانچہ جب لیگ نے لکھنؤ میں خلیفہ عمرؓ کے یوم وفات کی مناسبت سے ایک جلسے کا اہتمام کیا تو شرکا میں موجود فسادیوں نے اس کوشیعوں کی چال قرار دے کر درہم برہم کر دیا، اور یہ واقعہ سنیوں میں مسلم لیگ کی سبکی کا سبب بنا[85]۔

مسلم لیگ نے سنی عوام میں اپنی حمایت کو برقرار رکھنے کیلئے اتحاد بین المسلمین کی ضرورت پر زور دیا۔ اس سلسلے میں اس نے نہایت مہارت سے مقامی، صوبائی اور ملکی سطح پر مسلمانوں کو درپیش مسائل کا کسی حد تک کامیابی سے استعمال کیا۔ کان پور اور باڑہ بنکی میں مسلم لیگ کے اجلاس میں الزام لگایا گیا کہ کانگریس مکاری سے مسلمان قوم میں تفریق پیدا کرنے کیلئے شیعہ سنی فساد کی آگ بھڑکا رہی تھی کیوں کہ کانگریس کی مسلم رابطہ مہم ناکام رہی تھی۔ (یہ مسلم لیگ کی مستقل سوچ بن چکی تھی اور اس میں کسی حد تک حقیقت بھی تھی کیوں کہ جمعیۃ العلمائے ہند اور مجلسِ احرار جیسی کانگریس کی اتحادی جماعتیں اس جھگڑے کو اپنے مقاصد کیلئے استعمال کر رہی تھیں۔ تاہم یہاں جس چیز کی طرف توجہ دینا ضروری ہے وہ یہ ہے کہ متحدہ صوبہ جات میں مسلم لیگ کے ایک اہم رہنما چوہدری خلیق الزمان کے بارے میں بھی یہ مشہور تھا کہ وہ 1936ء اور 1937ء میں شیعہ سنی منافرت کو ہوا دے کر الیکشن جیتے تھے۔ 18 مئی 1939ء کو جناح کے نام اپنے خط میں شفاعت احمد خان نے لکھا: ’مسئلے کا بنیادی سبب تو کانگریس کا بنا ہوا سازش کا جال ہی ہے لیکن یہ بھی ماننا چاہئیے کہ 1936ء میں خلیق الزمان صاحب کی انتخابی مہم کے دوران خلیق نے شیعہ امیدوار کے خلاف سنیوں کو بھڑکا کر دنگے کرائے جس کے نتیجے میں مئی یا جون میں شیعہ سنی فساد ہوا‘) [86]۔

مسلم لیگ کی طرف سے مظفر نگر میں مقامی گرام سدھار کمیٹی میں مسلمانوں کی کم نمائندگی اور ایک مسلمان سب انسپکٹر کو ایک احتجاج میں شریک ہونے پر نوکری سے برخاست کرنے کو کانگریس حکومت کی مسلم دشمنی کا شاخسانہ قرار دیا گیا[87]۔ کان پور میں یہ موقف اپنایا گیا کہ ہندو رام راج قائم کر کے مسلمانوں کے ساتھ اچھوتوں سے بد تر سلوک کرنے کا ارادہ کئے ہوئے ہیں[88]۔ بدایوں میں مسلم لیگ نےکہا کہ وزیرِ تعلیم سمپرنا آنند نے سنسکرت کو ہندوستان کی قومی زبان قرار دیا ہے[89]۔ فتح پور میں مسلم لیگ کے مقامی کارکنان نے ڈسٹرکٹ بورڈ پر مسلمان تعلیمی اداروں کا پیسہ کاٹ کر ہندو سکولوں کو دینے کا الزام لگایا۔ یہ بھی کہا گیا کہ سرکاری سکول میں مسلمان لڑکوں کو نماز ادا کرنے سے روکا جا رہا ہے [90]۔ بنارس میں کہا گیا کہ گاندھی کی کھڈی اور چرخے نے ’ساڑھے چار کروڑ مسلمانوں کو بے روزگار کر دیا ہے‘[91]۔ تانڈا میں ایک مظاہرے پر پولیس کی فائرنگ اور اس کے نتیجے میں کئی ایک مسلمانوں کے قتل ہو جانے کے واقعے کی پہلی برسی کے موقعے پر مسلم لیگ نے صوبہ بھر میں جلسے معنقد کئے [92]۔ مسلم لیگ نے مجلس قانون ساز میں کانگریس کی جانب سے پیش کئے جانے والے ٹیننسی بِل کی مخالفت یہ کہہ کر کی کہ مجوزہ تبدیلیاں مسلم قانونِ وراثت پر اثر انداز ہوں گی اور یہ کہ مسلمان اس بِل کو، جو ہندو قوانین کی بنیاد پر بنایا گیا ہے، کبھی قبول نہیں کریں گے۔ فلسطین کے سوال پر مسلم لیگ نے کہا کہ برطانوی حکومت اور کانگریس نے اپس میں سودا کیا ہے کہ اگر کانگریس نے فلسطینی عربوں پر ہونے والے ظلم پر خاموشی اختیار کی تو برطانوی حکومت کانگریس کو ہندوستانی مسلمانوں پر ظلم کرنے کی کھلی چھوٹ دے گی[93]۔ بعض جگہوں پر مسلم لیگی مقررین نے پاکستان کے منصوبے پر بھی تنقید کی[94]۔ اورآخری بات یہ کہ مسلم لیگ نے ہندو مسلم اختلاف کے جانے پہچانے معاملات ، مثلاً ہندو مسلم فسادات، وندے ماترم کا گیت، مسلمانوں کی جان و مال کو درپیش خطرات، وردھا تعلیمی منصوبہ اور اردو کے خلاف امتیازی رویّے کو لے کر کانگریس پر اپنے پے در پے حملے جاری رکھے۔

اس پر زور مہم کے باوجود متحدہ صوبہ جات کے مسلمانوں میں ایک ایسا موقع آیا کہ مسلم لیگ کی مقبولیت نہایت کم ہو گئی۔ دسمبر 1938ء میں پٹنہ میں اس جماعت کا سالانہ جلسہ صوبے میں کوئی گہرا اثر چھوڑنے میں ناکام رہا۔ جیسا کہ متحدہ صوبہ جات کے گورنر سر ہیری ہیگ نے وائسرائے کو لکھا:

”شاید پٹنہ میں مسلم لیگ کے جلسے میں ہونے والی تقریروں اور قراردادوں کی اہمیت کا اندازا لگانے میں مجھ سے مبالغہ سرزد ہو گیا ہے۔ مشرقی ضلعوں کے دورے کے دوران میں نے ضلعی افسروں اور پولیس کے سپرنٹنڈنٹ صاحبان سے پوچھا کہ کیا اس جلسے نے ہندو مسلم تناؤ پر کوئی اثر ڈالا ہے؟ تو انہوں نے مجھے بتایا کہ نہیں، اور صوبے کے اس حصے میں وہ بقر عید کے موقعے پر کسی گڑ بڑ کا خطرہ محسوس نہیں کرتے“ [95]۔

تحریکِ مدحِ صحابہ کا نقطۂ عروج

1939ء کے موسمِ بہار میں شیعہ سنی تناؤ اپنے عروج پر پہنچ گیا۔  سنیوں نے محرم میں مدحِ صحابہ پڑھنے کا سرکاری اجازت نامہ حاصل کرنے کیلئے حکومت پر دباؤ بڑھانا شروع کر دیا۔ انہیں اس بات پر غصہ تھا کہ اگرچہ حکومت کی طرف سے جاری کردہ دو سرکاری اعلامیوں میں سرِ عام مدحِ صحابہ پڑھنے کا حق مان لیا گیا تھا لیکن امن و امان کی خراب ہوتی صورتِ حال کی وجہ سے اجازت نامہ جاری نہیں کیا گیا تھا۔ مولانا ظفر الملک اور مولانا عبد الشکور لکھنوی نے اپنے مریدوں کے ہمراہ مدحِ صحابہ کا جلوس نکال کر سنی (دیوبندی) سول نافرمانی کا آغاز کر دیا جس کے نتیجے میں وہ لکھنؤ میں گرفتار کر لئے گئے۔ مولانا ظفر الملک نے ملک بھر کے سنیوں کے نام ایک پیغام شائع کرایا جس میں انہیں تحریک کی حمایت کرنے کو کہا گیا تھا۔ جواب میں متحدہ صوبہ جات کے باقی علاقوں کے ساتھ ساتھ برطانوی ہندوستان کے دوسرے صوبوں اور نیم خودمختار ریاستوں سے بھی سنی (دیوبندی) جتھے لکھنؤ پہنچنے لگے۔ اپریل 1939ء کے آغاز میں سرکاری رپورٹ کے مطابق متحدہ صوبہ جات کے 48 میں سے 22 اضلاع (تقریباً نصف)میں ایسے لوگ موجود تھے جو مدحِ صحابہ میں دلچسبی رکھتے تھے[96]۔

حکومت نے بارہ وفات کے موقع پر سنیوں کیلئے مدحِ صحابہ پڑھنے کا اجازت نامہ جاری کر دیا۔ اسے سنیوں کی ایک بڑی فتح کے طور پر دیکھا گیا کیوں کہ یہ (مخصوص ایام میں) مدحِ صحابہ جلوس نکالنے پر تیس سالہ پابندی کی پالیسی میں تبدیلی تھی۔ بھاری پولیس بندوبست میں یہ جلوس پر امن طریقے سے اختتام کو پہنچا لیکن اہلِ تشیع کی رنجش میں اضافہ ہوا اور تناؤ بڑھ گیا۔ شیعہ رسالے ’دی مون لائٹ‘ میں مہاتما گاندھی کے نام کھلے خط میں حکومت کے ہتھیار ڈالنے پر غم و غصے کا یوں اظہار کیا گیا:

”مہاتما جی آپ کو اس سوال کا جواب ڈھونڈنا چاہئیے کہ کیا کانگریس متحدہ صوبہ جات کی حکومت کے طرزِ عمل پر مہرِ تصدیق ثبت کرنے کو تیار ہے جس نے کسی عملی تقاضے سے نبٹنے کیلئے عدل، انصاف اور شفافیت پر مصلحت کو ترجیح دی ہے؟کیا ہمیں یہ مان لینا چاہئیے کہ متحدہ صوبہ جات کی حکومت اخلاقی طور پر اتنی پست اور بزدل ہو چکی ہے کہ اسے سچائی اور امانت داری کا کوئی لحاظ نہیں رہا؟کیا ہمیں یہ سمجھ لینا چاہئیے کہ اگرچہ جب راج کوٹ کے حکمران نے اپنے کئے ہوئے وعدے سے منہ پھیرا تو آپ احتجاج میں بھوک ہڑتال کرنے پر تُل گئے تھے لیکن اب آپ اتنی زحمت بھی گوارا نہیں کر رہے کہ متحدہ صوبہ جات کی حکومت سے کہیں کہ مدحِ صحابہ ہنگاموں کے بارے میں ان کا طرزِ عمل کتنا نا جوانمردانہ، غیر عادلانہ، جانبدارانہ اور غیر اخلاقی ہے؟ کیا آپ متحدہ صوبہ جات کی حکومت کو اس کی اجازت دیں گے کہ وہ بے فکری سے ایک عدالتی کمیٹی کے فیصلے کو رد کر کے شیعہ برادری کے شہری اور مذہبی حقوق کو کچل دے؟ میں آپ کو اگاہ کرتا ہوں کہ اگر آپ تذبذب کا شکار ہو کر فیصلہ کن جواب تک نہ پہنچ سکے تو آپ کو(برطانوی) انتظامیہ کو منافق کہنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ آپ کی اپنی کانگریس سرکار شیطنت میں کم نہیں ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ وہ معلوم وجوہات کی بنا پر دباؤ اور اثر و رسوخ کا سامنا کرنے میں اپنی پیشرو انتظامی حکومت سے بد تر ہے۔ اُس کی اپنی ایک مقررہ حکمتِ عملی ہوا کرتی تھی،  اپنا ایک اخلاقی ضابطہ تھا جس سے اس نے کبھی سرپیچی نہیں کی۔ یاد رکھئے مہاتما جی، آپ اور کانگریس شیعہ رائے عامہ میں اپنی ساکھ داؤ پر لگا رہے ہیں“ [97]۔

حکومت کی طرف سے اس کے متعادل تبرا کے جلوس کی اجازت نہ ملنے کو عدل و مساوات سے کھلا انحراف قرار دیا گیا۔ ’دی مون لائٹ‘ کے اداریئے میں سنی  تبلیغیوں کی طرف سے پھیلائے گئے اس خیال کو رد کرنے کی کوشش کی گئی کہ مدحِ صحابہ تو ایک بے ضرر فعل تھا جبکہ تبرا گالم گلوچ تھی۔ اس کے مطابق تبرا کا لفظ براٴت سے نکلا ہے جس کا معنیٰ دوری ہے، اور خلفائے ثلاثہ سے تبرا کا مطلب یہ ہے کہ شیعہ ان کو اپنے روحانی پیشوا نہیں سمجھتے۔ تبرا شیعہ عقیدے کا حصہ ہے، اور اس کے فرض ہونے پر متعدد احادیث پیش کی جا سکتی ہیں۔ اس کے برعکس مدحِ صحابہ نہ تو سنیوں کے عقیدے کا حصہ ہے نہ ہی کسی حدیث کی رو سے اس پر عمل کرنا ثابت ہے۔ حقیقت میں یہ ایک بدعت ہے۔ تبرا لعنت کرنا ہے اور کوئی مسلمان لعنت کا معنیٰ گالم گلوچ نہیں کرتا۔ آگے چل کے اداریہ کہتا ہے:

”کسی مسلمان نے کبھی نہیں کہا کہ قرآن میں بری باتیں لکھی گئی ہیں، جبکہ ہم دیکھتے ہیں کہ اس میں جھوٹوں، ظالموں، قاتلوں اور کافروں پر لعنت کی گئی ہے۔ روایات میں ملتا ہے کہ پیغمبرِ اکرمﷺ نے مروان اور دوسرے منافقین کے نام لے کر ان پر لعنت کی ہے۔ سبھی شیعہ یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ نہ صرف کچھ افراد کے حق میں خدا کی رحمت سے دوری کی بد دعا کرنا جائز ہے بلکہ باعثِ ثواب بھی ہے۔ یہی ظالموں، قاتلوں اور منافقوں پر لعنت کا حقیقی معنیٰ بھی ہے“[98]۔

لہٰذا تبرا کو گالم گلوچ قرار دینا ’اسلام، قرآن اور شریعتِ محمدی کی توہین ‘ہے[99]۔ (تبرا اور سَب یا گالم گلوچ، جس سے قرآن میں منع کیا گیا ہے، میں فرق کو مزید نمایاں کیا گیا۔ یہ کہا گیا کہ قرآن نے مومنین کو دوسروں کے خداؤں کو برا کہنے سے روکا ہے تاکہ وہ نادانی میں آپ کے خدا کو برا نہ کہیں)۔ آگے چل کے تبرا کو شیعوں کے ہاں عقل کو استعمال کرنے کی روایت کا ایک مصداق قرار دیا گیا۔ یہ نکتہ اٹھایا گیا کہ اس کے برعکس سنیوں کوکفِ لسان،یعنی زبان بندی، کے اصول کے مطابق خلفاءؓ کے بارے میں عقل کے استعمال اور تنقیدی سوچ سے روکا جاتا ہے۔ مضمون کے مطابق شیعوں سے ’صحابہؓ کے سلسلے میں آنکھیں اور زبان بند رکھنے کی توقع نہیں رکھنی چاہئیے‘۔ آخر میں یوں خلفاءؓ پر تنقید کے شیعہ حق کا دفاع کیا گیا کہ ’فوجداری قوانین میں فوت شدگان کی برائی بیان کرنا جرم نہیں ہے‘۔ اس پر یہ دلیل بھی دی گئی کہ اگر ایسا ہوتا تو کبھی تاریخ نہ لکھی جا سکتی۔ کانگریس کی حکومت پر ملکی قانون کے بجائے حنفی فقہ پر عمل کرنے کا الزام لگاتے ہوئے ادارئیے نے اس بات پر اختتام کیا: ’اگر ایک فرقے کو غیر عادل افراد کو انسانیت کے خیرخواہ قرار دینے کا حق حاصل ہے تو دوسرے فرقے کو بھی برے کو برا کہنے کا حق ہے تاکہ نا واقف عوام مدحِ صحابہ کے نام سے کی جانے والی تبلیغات سے دھوکہ نہ کھائیں‘[100]۔

جوں جوں شیعوں کا احتجاج زور پکڑتا گیا متحدہ صوبہ جات کی نمایاں شیعہ شخصیات تبرا میں شریک ہو کر گرفتاری دینے لگیں۔ ان میں الٰہ آباد و جون پور سے چناؤ جیت کر آنے والے مجلس قانون ساز کے رکن سید علی ظہیر، اودھ کے نواب خاندان کے افراد، آیت الله ناصر حسین موسوی کے بیٹے اور راجا صاحب سلیم پور اور راجا صاحب پیر پور کے بھائی شامل تھے۔ اس بات کی امید بھی کی جانے لگی کہ آیت الله ناصر حسین موسوی خود اورپھر ان کے ساتھ مسلم لیگ کے سرکردہ رہنما راجا صاحب محمود آباد اور راجا صاحب پیر پور بھی گرفتاری دے سکتے ہیں، ایک ایسا قدم جو ’مسلم لیگ پر بہت برا اثر ڈال سکتا تھا‘[101]۔ مزید یہ کہ پردہ نشین بیبیوں نے بھی حکومت کی شرمندگی میں اضافے کیلئے گرفتاری دینے کی دھمکی دے ڈالی۔

تبرا کے بحران میں اہم ترین بات یہ تھی کہ ملک کے دوسرے حصوں سے اہل تشیع نے اپنے متحدہ صوبہ جات کے بھائیوں، جن کی تعداد سنیوں کے مقابلے میں کم تھی، کے ساتھ یکجہتی کا مظاہرہ کرنے کے طریقوں پر غور شروع کر دیا۔ بہار سے دربھنگہ، مونگیر، سارن، پٹنہ اور چپڑا کے اضلاع؛ بمبئی سے بمبئی شہر، پونا اور بھوساول کے اضلاع؛ پنجاب سے پانی پت، کرنال امبالہ، جالندھر، راولپنڈی، لاہور، سیالکوٹ، ملتان، فیروزپور، امرتسر، گورداسپور، اور لدھیانہ کے اضلاع؛ شمال مغربی سرحدی صوبے (موجودہ خیبر پختون خواہ) سے کوہاٹ اور کرم ایجنسی؛ اس کے علاوہ آسام اور بنگال ؛ اور سر انجام دار الحکومت دہلی سے شیعہ قافلے لکھنؤ پہنچنے لگے۔ وہ نیم خود مختار ریاستوں، جیسے کشمیر، گوالیار، بھارت پور، جے پور، بہاولپور، رام پور اور ملیر کوٹلہ سے بھی آئے۔ اپریل اور مئی 1939ء میں ہر ہفتے سینکڑوں شیعہ گرفتاری پیش کرتے[102]۔

جوں جوں تبرا ایجی ٹیشن پھیلتی گئی اور اس میں ہندوستان کے مختلف حصوں سے رضاکار شامل ہونے لگے، اس کی قیادت پنجاب کے شیعوں کے پاس چلی گئی جو، جیسا کہ ہیگ نے کہا ہے، ’لکھنؤ کے شیعوں کے مؤدبانہ انداز‘ میں اس کو چلانے میں دلچسبی نہیں رکھتے تھے[103]۔ حکومتی وزیروں، جیسے جی بی پانٹ اور وجے لکشمی پنڈت، کے جلسوں میں ہنگامہ آرائی کی گئی، اور پنجابی شیعوں نے انہیں گندی گالیاں دیں۔ ایک پارلیمانی سیکرٹری جناب گوپی ناتھ سر واستاوا جب آگرہ جیل میں قیدیوں کا حال پوچھنے گئے تو شیعہ قیدیوں نے انہیں کھری کھری سنائیں[104]۔ متحدہ صوبہ جات کی جیلیں دونوں طرف سے لاکھوں لوگوں کے گرفتاری پیش کرنے کی وجہ سے پوری طرح بھر چکی تھیں۔ حکومت نےقیدیوں کی مسلسل بڑھتی ہوئی تعداد کے پیش نظر عارضی جیلیں قائم کرنے پر غور شروع کر دیا۔ متحدہ صوبہ جات کی حکومت نے پنجاب اور سرحد کی حکومتوں سے درخواست کی کہ وہ شیعہ قافلوں کو وہاں سے نکلنے سے روکیں اور اس درخواست پر آسانی سے عمل درآمد کر لیا گیا۔ مارچ 1939ء کے آخر میں لکھنؤ کے آصف الدولہ امام باڑے کے نزدیک چار ہزار شیعہ اور پندرہ ہزار سنی پتھر لے کر ایک دوسرے پر ٹوٹ پڑے اور پولیس نے ہوائی فائرنگ کر کے ایک بڑی خونریزی سے بچا لیا۔ اگلے مہینے (دیوبندی) سنی مظاہرین نے لکھنؤ کی مجلس قانون ساز کے باہر پولیس کے حفاظتی حصار کو توڑ کر عمارت پر ہلہ بول دیا جس کے نتیجے میں مقننہ کی کاروائی معطل کرنا پڑی۔ یہ حکومت کیلئے بہت بڑی خجالت تھی۔

جہاں متحدہ صوبہ جات کی حکومت امن و امان کے سلسلے میں بہت پریشان ہو گئی تھی، وہیں جوں جوں یہ مسئلہ ملک گیر ہوتا گیا، مسلم لیگ کے اضطراب اور درماندگی میں اضافہ ہوتا گیا۔ اب متحدہ صوبہ جات میں مسلم لیگ کی قیادت نے جناح سے التماس کی کہ اس معاملے میں فیصلہ کن مداخلت کریں۔ الٰہ آباد کے کچھ مسلم لیگی کارکنان نے جناح سے درخواست کی کہ وہ شیعوں اور سنیوں کو کسی معاہدے پر مجبور کرنے کیلئے مہاتما گاندھی کی طرح تا دمِ مرگ بھوک ہڑتال کا اعلان کریں[105]۔ راجا صاحب محمود آباد، راجا صاحب پیر پور اور نواب اسماعیل خان نے جناح کے نام ایک جذباتی ٹیلی گرام میں کہا:”خدا کیلئے آئیے، مسلمانوں کیلئے نازک لمحات“[106]۔

ملک کے دوسرے حصوں سے بھی جناح کے نام فوری پیغامات بھیجے گئے[107]۔ لیکن جناح نے اس مسئلے پر کوئی موقف اپنانے یا لکھنؤ آنے سے انکار کر دیا۔ جیسا کہ سر رضا علی نے لکھا، اس کی وجہ یہ تھی کہ،’اگر لیگ اس معاملے کو اپنے سر لے لیتی اور اس کا فیصلہ لکھنؤ کے شیعوں اور سنیوں کی طرف سے مسترد کر دیا جاتا تو یہ چیزمسلم لیگ کیلئے کاری ضرب ثابت ہوتی‘ [108]۔ تاہم رضا علی کو اس بات کا بھی خدشہ تھا کہ اگر مسلم لیگ کی صوبائی قیادت نے کم از کم اپنے ذاتی اثر و رسوخ کو استعمال نہ کیا تو ’مسلم برادری مسلکی بنیادوں پر دو حصوں میں بٹ جائے گی اور یہ تقسیم ہماری سیاسی سرگرمیوں کو کئی سالوں تک مفلوج کر دے گی‘[109]۔ لیکن جناح نے مسلم لیگ کے ایسے کارکنان کی رکنیت ختم کرنے کی دھمکی دی جو اس مسئلے میں مداخلت کر کے مسلم لیگ کو فریق بنائیں[110]۔ متحدہ صوبہ جات کی مقننہ میں مسلم لیگ کے نمائندے خلیق الزمان نے جناح کے خیالات کی نمائندگی کرتے ہوئے کہا کہ ’ لیگ نے کنارہ کر لیا ہے اور مسئلے کے حل کیلئے کسی اقدام سے گریز کیا ہے اور ہمیشہ یہی رویہ اپنائے رکھے گی‘ [111]۔ ایک ایسی جماعت کی طرف سے یہ موقف اپنایا جانا جو خود کو ہندوستان کے مسلمانوں کی واحد نمائندہ جماعت قرار دیتی تھی، استہزاء کا باعث بنا۔ جیسا کہ ہیگ نے دہلی میں موجود وائسرائے کے نام لکھا:

”اپنے حامیوں کے دو فرقوں میں کوئی تصفیہ کروانے کے سلسلے میں مسلم لیگ کی بے چارگی کو ملاحظہ کرنا دلچسبی سے خالی نہیں ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ ماضی کی کانگریس کی طرح مسلم لیگ صرف حزبِ اختلاف کی حیثیت میں تگڑی ہے۔ جب مثبت کام کرنے اور حکمتِ عملی کی ضرورت کا سامنا ہوتا ہے تو وہ معاہدہ کروانے میں ناکام دکھائی دیتی ہے اور کوئی با صلاحیت قیادت فراہم نہیں کر سکتی“[112]۔

راجا صاحب محمود آباد نے ذاتی حیثیت میں جھگڑا نبٹانے کی کوشش کی لیکن زیادہ پیشرفت نہ ہو سکی۔ نظام حیدرآباد، سب سے بڑی نیم خود مختار ریاست کے والی، حالات کے جوں کا توں رہنے پر اتنے پریشان تھے کہ وائسرائے کو ٹیلی گرام بھیجنا ضروری سمجھا۔ نظام نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مسئلہ ’اگر جلدی نہ سنبھالا گیا تو کئی پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ کسی ایک مقام تک محدود نہ رہے بلکہ آگے چل کے پورے ملک کو اپنی لپیٹ میں لے لے‘[113]۔ نظام نے وائسرائے سے التماس کی کہ اپنا اثر و رسوخ استعمال کر کے معاملے کو حل کریں جو ان کے مطابق کان پور مسجد والے جھگڑے جیسا مسئلہ بننے کی استعداد رکھتا تھا[114]۔

(کان پور مسجد کا معاملہ 1930ء میں پیش آیا تھا۔ کان پور میں متحدہ صوبہ جات کی اس وقت کی حکومت نے شہر کی تعمیر کے ایک منصوبے کے مطابق مسجد کے ایک حصے کو گرا کر سڑک گزارنے کا فیصلہ کیا۔ اس پر مسلمان رہنماؤں نے اعتراض کیا اور اس مسئلے نے بڑھتے بڑھتے پورے ہندوستان کو اپنی گرفت میں لے لیا)۔

جناح کی طرف سے صاف انکار کے بعدتمام سیاسی جماعتوں کے بائیس نمایاں مسلم رہنما، جن میں مسلم لیگ کے برجستہ قائدین سکندر حیات خان اور فضل الحق بھی تھے، شملہ کے مقام پر ملے اور شیعوں اور سنیوں سے درخواست کی کہ مدحِ صحابہ اور تبرا، دونوں کو ترک کر دیں اور ایک باوقار معاہدے کیلئے راستہ بنائیں[115]۔ مولانا ابو الکلام آزاد نے بھی اس سے ملتا جلتا بیان جاری کیا، لیکن یہ گزارشات مولانا ظفر الملک (دیوبندی) نے ہنسی میں اڑا دیں اور جوابی بیان میں کہا کہ:

”لکھنؤ کے  سنی ایک لمحے کیلئے بھی یہ برداشت نہیں کر سکتے کہ مدحِ صحابہ اور تبرا کو ایک جیسا سمجھا جائے۔ ۔ ۔ ۔ مدحِ صحابہ کے جلوس پر شیعوں کا اہم ترین اعتراض یہ ہے کہ وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ اگر یہ سلسلہ چل نکلا تو سنی عوام تعزیہ داری کی کشش کے خلاف مزاحمت پیدا کر لیں گے اور شیعیت کی تبلیغ کا دروازہ بن ہو جائے گا۔ ۔ ۔ ۔ شیعوں کا بہتر طور پر منظم ہونا اور ان کی دولت اور تبلیغ سنیوں کو مجبور نہیں کر سکتی کہ وہ اپنے مذہبی اور شہری حق پر سمجھوتا کر لیں نہ ہی ان کو اس پر مائل کیا جا سکتا ہے کہ وہ السوپ یا کسی اور کم علم صاحب بہادر کے کہنےپر مدح کے حق اور گالم گلوچ کو کسی سطح پر مشابہ اور متبادل مان لیں“[116]۔

لیکن جیسا کہ متحدہ صوبہ جات کے گورنر ہیگ نے وائسرائے کے نام لکھا، موسم گرما کے وسط تک سبھی فریق تھک چکے تھے اورکسی توافق تک پہنچنے کی امید پیدا ہونے لگی تھی۔ تاہم، ہیگ نے اضافہ کیا کہ:

”البتہ جب تحریک قدرتی عوامل کے تحت کمزور پڑنے لگتی ہے، ہم اپنے پڑوسیوں سے امید کر سکتے ہیں کہ وہ اسے دوبارہ بھڑکا کر متحرک کر دیں گے۔ تازہ خطرہ خاکساروں سے ہے جو کچھ عرصے سے الٹی میٹم دئیے جا رہے ہیں کہ وہ لکھنؤ آ کر اس جھگڑے کو طاقت سے نمٹائیں گے“[117]۔

خاکسار تحریک کی مداخلت اور کھیل کا آخری حصہ

شیعہ سنی جھگڑے اور مسلم لیگ کے اس کو حل نہ کر سکنے نے مسلمان سیاسی قیادت کے ایک خلا کو جنم دیا جسے پر کرنا اس کے مہم جو رقیبوں کیلئے خاصا پر کشش تھا۔ اس نے علامہ مشرقی کی متلون مزاج قیادت میں خاکسار تحریک کی فعال مداخلت کا دروازہ کھول دیا۔ مشرقی اس جھگڑے کو موقع کے طور پر دیکھ رہے تھے جو ایک اہم مسلمان رہنما بننے میں ان کی مدد کر سکتا تھا کہ جس نے مسلمانوں میں بردار کشی کو روک لیا۔ پنجاب میں خاکساروں کی اچھی خاصی تعداد تھی اور اب متحدہ صوبہ جات کے کچھ اضلاع میں یہ تنظیم جڑیں پکڑ چکی تھی اور اس کا صوبائی دفتر بہرائچ میں قائم ہو چکا تھا۔ وہ اپنے نظریات کو الاصلاح نامی ایک رسالے کے ذریعے نشر کرتے تھے۔ شہروں میں اپنے مخصوص لباس میں بیلچے اٹھا کر فوجی مارچ کر کے خاکسار عوام کی نظروں میں آ ئے تھے۔

شروع میں مشرقی نے خود کو ایک ایسے شخص کے طور پر پیش کیا جس کے ساتھ حکومت معاملہ کر سکتی ہے۔ متحدہ صوبہ جات کی حکومت کے نام مسئلہ حل کرنے میں مدد کی پیشکش کے ٹیلی گرام بھیجے گئے۔ انہوں نے وعدہ کیا کہ اگر حکومت ناکام ہو گئی تو ان کے خاکسار بزورِ قوت اس فتنے کا خاتمہ کر دیں گے[118]۔ مشرقی نے شیعہ اور سنی، دونوں کے رہنماؤں کو ایک خاص تاریخ تک معاہدہ نہ کرنے کی صورت میں قتل کی دھمکی دی اور قرآن کی آیات سے اس ارادے کی توجیہ بھی گھڑ لی۔ خاکساروں نے گاندھی کے عدمِ تشدد سے اختلاف کا واضح اعلان کرتے ہوئے کہا کہ وہ خون ریزی کو اپنے اہداف کے حصول کے لئے ایک سیاسی ہتھیار کے طور پر جائز سمجھتے ہیں۔

شیعہ سنی جھگڑے کو نمٹانے کی پیشکش کے جواب میں حکومت کے سرد رویّے سے خاکسار کے رہبر نالاں ہو گئے۔ اب مشرقی نے اعلان کیا کہ متحدہ صوبہ جات کی حکومت مسلمانوں کی دشمن ہے اور شیعہ سنی جھگڑے کو جاری رکھنا چاہتی ہے۔ چنانچہ انہوں نے اپنے خاکساروں کو حکومت سے ٹکرا جانے کی ترغیب دینا شروع کر دی۔ اگلے مرحلے میں علامہ مشرقی نے پنجاب اور سندھ سے جانباز فورس کے نام سے خاکساروں کے ایک بڑے جتھے کو حکم دیا کہ وہ لکھنؤ پہنچ جائیں۔ پھر لکھنؤ کے عوام کو یہ منظر دیکھنے کو ملا کہ علامہ مشرقی کے حکم پر لکھنؤ کے خاکساروں کے رہنما وحید الدین حیدر کی پیٹھ پر سر عام کوڑے برسائے گئے۔ ان کا جرم یہ تھا کہ انہوں نے پٹاخے پھوڑ کر جانبازوں کا استقبال کرنے سے منع کرنے کے علاوہ لکھنؤ کے ڈپٹی کمشنر کے بیلچے نہ اٹھانے کے احکامات کو بھی مانا تھا۔ ان کا یہ کام خاکساروں کے اس عہد کے خلاف جاتا تھا جس کے مطابق سرکاری افسر اور خاکسار افسر کے احکامات میں تضاد کی صورت میں خاکسار افسر کے احکامات کی پیروی کی جائے گی۔ اگست کے آخر میں خاکسار آمر خود لکھنؤ آ گئے اور جلسے منعقد کر کے شعلہ بیانی سے کام لینے لگے۔ ایسے جلسوں میں مجلسِ احرار والوں نے مخالفت میں آوازیں بلند کیں تو ان کی پٹائی کی گئی۔ ایک احراری اخبار کے مدیر نے خاکساروں پر تنقید کی تو اسے دھمکیاں ملیں اور ایک مخبر کو مار پیٹ سے گزرنا پڑا۔

متحدہ صوبہ جات کے مختلف علاقوں میں خاکساروں کے اودھم مچانے نے حکومت کو مجبور کیا کہ وہ علامہ مشرقی کو گرفتار کر لے۔ اس نے خاکساروں کے رہبر کو حیران کر دیا کیوں کہ وہ حکومت کی طرف سے ایسے سخت اقدام کی توقع نہیں کر رہے تھے، خاص طور پر ایسے حالات میں جب وہ کسی سنی یا شیعہ شدت پسند سے معاملہ کرتے ہوئے نہایت احتیاط سے کام لیتی تھی اور بظاہر کمزور اور تھکن سے چور تھی۔ مشرقی کی ہوا نکل گئی تو انہوں نے حکومت سے بات چیت کر کے کہا کہ وہ پنجاب واپس جانے کو تیار ہیں اگر حکومت انہیں اور ان کے خاکساروں کو ایک معیاری ریل گاڑی مہیا کر دے۔ صوبائی حکومت نے ان کی قدر میں اضافہ کرنے والا کوئی خاص قدم اٹھانے سے انکار کر دیا۔ آخر میں طے یہ ہوا کہ حکومت انہیں متحدہ صوبہ جات سے نکلنے کیلئے ریلوے کے عام ٹکٹ خرید کے دے گی۔ تاہم رخصتی کے دن ریل گاڑی پر سوار ہو چکنے کے بعد خاکساروں نے پہلے سے طے شدہ منصوبے کے مطابق گاڑی کے چلنے سے پہلے ایک بگل بجایا اور سب باہر نکل آئے۔ ریلوے سٹیشن پر ہلڑ مچ گیا جس سے حکومت کافی تنگ ہوئی۔ تاہم اگلے دن علامہ مشرقی سدھر گئے اور پنجاب واپس جانے اور ایک سال تک لکھنؤ نہ آنے کا معاہدہ قبول کر لیا۔ مشرقی کو رہا کر دیا گیا اور پنجاب جانے والی ٹرین پر بٹھا دیا گیا۔ لیکن کچھ دن پہلے جو غلغلہ پیروکاروں نے اٹھایا تھا اب اسے اٹھانے کی باری رہبر کی تھی۔ لکھنؤ سے تھوڑا باہر نکل کر ملیح آباد میں انہوں نے ٹرین کی مواصلاتی تار کھینچ کر اسے رکنے پر مجبور کر دیا۔ مشرقی اپنی ریل گاڑی سے نکل کر لکھنؤ جانے والی ریل گاڑی پر سوار ہو گئے۔ جب انہیں بتایا گیا کہ پولیس انھیں دوبارہ گرفتار کر لے گی تو وہ اس ٹرین سے اتر کر سندیلہ نامی قصبے کی طرف نکل کھڑے ہوئے۔ وہاں لکھنؤ کے خاکساروں کا ایک دستہ ان سے آ ملا اور وہ لوگ بغیر ٹکٹ خریدے دہلی چلے گئے۔

دہلی سے مشرقی نے متحدہ صوبہ جات کی حکومت کے خلاف بدگوئی اور بہتان تراشی کی ایک مہم شروع کر دی اور کہا کہ انہوں نے کوئی معاہدہ نہیں کیا تھا اور یہ کہ حکومت نے جعلی کاغذات بنا ئے۔ ستمبر کے وسط تک مشرقی نے دوبارہ لکھنؤ کا رخ کیا تا کہ اپنی کھوئی ہوئی ساکھ کو بحال کر سکیں جس پر پچھلی بے دخلی کی وجہ سے رسوائی کے دھبے لگ چکے تھے۔ ملیح آباد میں ٹرین پھر سے روکی گئی، اس مرتبہ حکومت کی طرف سے، اور مشرقی کو تنبیہ کی گئی کہ انہیں گرفتاری کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ انہیں پنجاب جانے کی پیشکش کی گئی جسے خاکساروں کے رہبر نے، جو شہید ہونے کو تیار تھا، ٹھکرا دیا۔ انہیں بروقت گرفتار کر کے امنِ عامہ میں خلل ڈالنے کی پاداش میں ایک ماہ کیلئے جیل بھیج دیا گیا۔ اس کے نتیجے میں پنجاب سے خاکساروں کی بڑی تعداد متحدہ صوبہ جات آ گئی[119]۔ متعدد مقامات پر گرفتاری کے خلاف مزاحمت کرتے ہوئے خاکساروں نے تشدد کی راہ اپنائی اور بلند شہر کے علاقے میں ایک خاکسار پولیس کی فائرنگ سے ہلاک بھی ہوا۔ ان واقعات نے متحدہ صوبہ جات کے مسلمانوں کے دلوں میں خاکساروں کیلئے حمایت اور ہمدردی کے خاطر خواہ جذبات پیدا کئے[120]۔

خاکساروں کی عجیب و غریب اور تضاد سے بھرپور حرکات اور متحدہ صوبہ جات کی حکومت کی طرف سے خاکساروں کے خلاف طاقت کے استعمال اور مشرقی کے جیل جانے نے مسلم لیگ کو متحدہ صوبہ جات کی مسلم سیاست میں دوبارہ قدم جمانے کا موقع دیا۔ مسلم لیگ نے حکومت کے رویے کے خلاف مسلمان عوام میں پائے جانے والے جذبات سے فائدہ اٹھانے کا ارادہ کر لیا۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے وائس چانسلر اور متحدہ صوبہ جات کی مسلم لیگ کے سرکردہ رہنما سر ضیاء الدین احمد نے علامہ مشرقی کی ایما پر وساطت کرتے ہوئے صوبائی حکومت سے بات کی۔ مجلسِ قانون ساز میں مسلم لیگ کی پارلیمانی جماعت نے مشرقی کی رہائی کا مطالبہ کیا اور خاکساروں سے ہمدردی کا اظہار کیا۔ جناح نے لیاقت علی خان کو ساتھ لے کر دہلی میں خاکسار کیمپ کا دورہ کیا اور ان کی تحریک کیلئے مسلم لیگ کی حمایت کا یقین دلایا اور ان کے حق میں روا رکھے گئے جبر اور سرکوبی کی مذمت کی۔

اس موڑ پر یورپ میں جنگِ عظیم دوم چھڑجانے سے ہندوستان کا سیاسی منظر نامہ یکسر بدل گیا۔ کچھ دیر کے بعد، اکتوبر کے اواخر میں، ہندوستان بھر میں کانگریسی وزیروں نے برطانیہ کی طرف سے ہندوستانیوں کی مرضی معلوم کئے بنا انہیں جنگ میں دھکیلنے کے خلاف وزارتوں سے استعفے دے دئیے۔ یہ بحران مسلم لیگ کیلئے بروقت خوشخبری بن کر آیا۔ اب کانگریس کی مرکزی قیادت ہندوستان کے مختلف سیاسی گروہوں کو اکٹھا کرنا چاہتی تھی تاکہ برطانوی حکومت کے سامنے ایک مشترکہ ردِعمل پیش کیا جا سکے۔ مسلمانوں کو ساتھ ملانے کیلئے اب کانگریس کو جناح یاد آ ئے۔

نہرو جناح مذاکرات میں علامہ مشرقی کی رہائی ایک اہم موضوع تھا۔ صوبائی وزیرِ داخلہ رفیع قدوائی نے جناح کو ان کی خواہش پر خاکساروں کے بارے میں سرکاری دستاویزات مہیا کیں۔ نومبر کے اواخر میں جناح کے ساتھ کئی گھنٹوں پر محیط نتیجہ خیز ملاقات کے بعد نہرو کو کانگریس اور مسلم لیگ کا مشترکہ محاذ بننے کی قوی امید تھی۔ البتہ مسلم لیگ کے قائد نےبائیس دسمبر 1939ء کو یومِ نجات کے طور پر منانے کا اعلان کر کے کانگریس کو حیران کر دیا۔ کہا جا سکتا ہے کہ اس اعلان سے جناح کا مقصد مسلم لیگ کے ہراول مورچے(متحدہ صوبہ جات) میں قوم کو یکجا کرنا تھا جو پچھلے کئی ماہ کے شیعہ سنی تصادم کی وجہ سے ٹوٹ پھوٹ چکی تھی۔ تاہم متحدہ صوبہ جات میں یومِ نجات خاموشی سے گذر گیا۔ نہرو نے گاندھی کو بتایا کہ:۔

”متحدہ صوبہ جات میں یومِ نجات ناکام رہا۔ بہت سے جلسوں کا آغاز شرکا کی نہایت کم تعداد کے ساتھ ہوا، لیکن بعد میں متجسس تماش بین جمع ہوتے گئے، جن میں زیادہ تر ہندو تھے جو یہ جاننا چاہتے تھے کہ کیا ہو رہا ہے؟ دوسری طرف کچھ مسجدوں میں مسلم لیگ کے خلاف جلسے ہوئے جن میں اس کی تجویز کی مذمت کی گئی“[121]۔

متحدہ صوبہ جات کے نئے گورنر سر مورس ہالٹ نے بھی اس مشاہدے سے اتفاق کیا۔ جیسا کہ انہوں نے وائسرائے کے نام لکھا:۔

”میرے خیال میں اخباروں میں چھپنے والی خبروں کے برعکس یومِ نجات، کہ جسے کئی معقول مسلمانوں نے مسترد کر دیا تھا، کوئی بڑی کامیابی نہیں تھا۔ کچھ مخبروں نے جوش و خروش کی کمی کی اطلاع دی ہے اور اکثر اضلاع میں جلسے توقع سے چھوٹے تھے“[122]۔

نتیجہ بحث

اگرچہ متحدہ صوبہ جات میں کانگریس کی حکومت کے دوران ایک جماعت کے طور پر مسلم لیگ کی مقبولیت میں متاثر کن اضافہ ہوا  جو  کانگریس کی صوبائی حکومت کے خلاف مسلمانوں کے بڑھتے ہوئے غم و غصے کو اپنی طاقت بنانے میں کامیاب رہی، لیکن یہ جماعت داخلی فرقہ وارانہ تناؤ کے روبرو مسلم سیاست کو سنبھالنے میں بے بس نظر آئی۔ لہٰذا کانگریس حکومت کے استعفیٰ کے وقت بھی مسلم لیگ کیلئے کافی کام کرنا باقی تھا۔ یہ داخلی کھینچا تانی اس بات کا سبب بنی کہ 1940ء کے بعدپاکستان کا تصور مسلم لیگ کی سیاست میں مرکزی حیثیت اختیار کر گیا۔ مسلم لیگ نے موٴثر انداز میں قوم میں تفرقے کے خوف کو استعمال کرتے ہوئے ہندوستان بھر میں اپنی مہم کے دوران پاکستان کو اتحاد بین المسلمین کی علامت کے طور پر پیش کیا تاکہ مسلم معاشرے کی تہوں میں چھپی داخلی کشمکش کی شدت کو کم کیا جا سکے[123]۔ (اس استدلال کی تفصیل جاننے کیلئے گلمارٹن صاحب کی کتاب ”پارٹیشن، پاکستان اینڈ ساؤتھ ایشین ہسٹری“ پر نظر ڈالیں۔ البتہ میں گلمارٹن صاحب سے اس نکتے پر اختلاف کرتا ہوں کہ میں پاکستان کومحض ’اتحاد بین المسلمین کاایک علامتی تصور‘ نہیں سمجھتا کہ جو عوام کے اذہان میں ’بہت حد تک ابہام میں لپٹا ہوا‘ تھا نہ ہی میں اسے ’قومیت کا ایک غیر علاقائی تصور‘ سمجھتا ہوں۔ اس نکتے کی وضاحت میں نے اپنے ڈاکٹریٹ کے تھیسس میں کی ہے جو کتاب کی شکل میں شائع ہو چکا ہے)۔ متحدہ صوبہ جات میں یہ حربہ یقیناً موٴثر ثابت ہوا۔ اگرچہ 1940ء کے عشرے میں شیعہ سنی تصادم جاری رہا لیکن اب یہ لکھنؤ شہر تک محدود ہو چکا تھا۔ یہ مسئلہ 1939ء کے کچھ مہینوں کی طرح  پھر کبھی ایک ملک گیر مصیبت بن کر نہیں ابھرا۔

ڈاکٹر حمزہ ابراہیم مذہب، سماج، تاریخ اور سیاست پر قلم کشائی کرتے ہیں۔

%d bloggers like this: