ضمنی انتخابات: پی ٹی آئی کو شکست دیکر نوشہرہ نے پرویز خٹک کا غرور خاک میں ملادیا

نوشہرہ میں گزشتہ روز ہونے والے ضمنی الیکشن میں پاکستان مسلم لیگ نواز کے کارکن اختیار ولی نے حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف کے  میاں عمر کو چار ہزار سے زیادہ ووٹوں سے شکست دی  جو وزیر اعلیٰ  پرویز خٹک کا گڑھ تصور کیا جاتا ہے۔ اس شکست کے بعد وزیر اعظم پاکستان آج پشاور کا دورہ کررہے ہے جہاں وہ پارٹی میں اندرونی اختلافات اور نوشہرہ میں شکست کا جائزہ لینگے۔ مسلم لیگ نواز کے اُمیدوار اختیار ولی نے اپنی جیت کو میاں نواز شریف کے بیانیئے کی جیت قرار دیا جبکہ دوسری طرف پارٹی اُمید وار کو سپورٹ نہ کرنے پر وزیر دفاع پرویز خٹک کے بھائی لیاقت خٹک کو وزارت سے ہٹا دیا گیا۔ حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف کے صوبائی وزیر شوکت یوسفزئی نے اس شکست پر بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ نوشہرہ میں پی ٹی آئی نے پی ٹی آئی کو شکست سے دوچار کیا جبکہ دوسری جانب اتوار کے روز وزیر دفاع پرویز خٹک نے اپنے آبائی گاؤں مانکی شریف میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مسلم لیگ نواز نے نوشہرہ کے الیکشن میں بدترین دھاندلی کی اور وہ ان تنائج کو الیکشن کمیشن میں چیلنج کرینگے۔

نوشہرہ کے الیکشن پر تجزیہ لینے کے لئے جب ہم نے نوشہرہ میں گزشتہ بیس سال سے صحافت سے وابستہ سہیل کاکاخیل سے پوچھا تو انھوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کی نوشہرہ میں شکست کے کئی وجوہات ہے مگر ان میں بنیادی وجہ وزیر دفاع پرویز خٹک کا ٖ تکبرانہ رویہ ہے جہاں وہ غرور سے دعویٰ کرتے تھے کہ اگر میں ایک تنکے کو بھی ٹکٹ دو تو اس کو بھی کوئی نہیں ہراسکتا اور یہی وہ متکبرانہ رویہ ہے جس کو نوشہرہ کے لوگوں نے غرور میں ملایا اور آج ہر طرف نوشہرہ میں حکمران جماعت کی شکست پر جشن کا سماء ہے۔

سہیل کاکا خیل نے  مزید کہا کہ نوشہرہ کے عوام کے ساتھ پرویز خٹک کا رویہ بہت متکبرانہ تھا اور یہاں کے لوگوں کا بیانیہ یہی ہے کہ پرویز خٹک اسمان پر پہنچ گیا تھا اج ہم زمین پر واپس لے آئے۔

سہیل کاکا خیل سمجھتے ہے کہ موجودہ حکومت کی معاشی پالیسیاں اور روز بڑھتے مہنگائی نے عوام کو پریشان کیا ہے اور لوگوں نے اس فیصلے سے صوبے اور وزیر اعظم عمران خان  کو ایک پیغام دیا گیا کہ اگر یہی پالیسیاں جاری رہی تو کچھ بھی ہوسکتا ہے۔

پاکستان تحریک انصاف نوشہرہ کے ایک سینئر کارکن نے نیا دور میڈیا کو نام نہ بتانے کی شرط پر بتایا کہ نوجوان سمجھتے تھے کہ پاکستان تحریک انصاف میرٹ پر یقین رکھتی ہے اور یہاں اُمیدواروں کو میرٹ پر ٹکٹس ملینگے مگر پرویز خٹک، ان کے بھائی لیاقت خٹک اور خاندان نے ضمنی الیکشن میں ثابت کیا کہ پاکستان تحریک انصاف پرویز خٹک اور ان کی خاندان کی میراث ہے اور اگر ٹکٹ اس خاندان سے باہر کسی اُمیدوار کو دیا جائے گا تو اس کو نشان عبرت بنایا جائے گا جس  طرح موجودہ اُمیدوار کو بنا دیا گیا۔ انھوں نے نوشہرہ کے الیکشن میں پرویز  خٹک کی جانب سے مبینہ دھاندلی کے الزام پر بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک سیاسی بیان ہے کیونکہ اس سازش میں پورا خاندان شریک تھا اور اب جب پرویز خٹک صاحب کو معلوم ہوا کہ وزیر اعظم عمران خان پشاور ارہے ہیں تو وہ آبائی حلقے پہنچ گئے اور انھوں نے یہ سیاسی بیان جاری کیا کیونکہ وزیر اعظم کے سامنے بھی کچھ عزر تو پیش کرنا ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ میں اس شکست پر جشن منا رہا ہو کیونکہ شائد یہ شکست وزیر اعظم عمران خان اور پرویز خٹک کو اس بات پر مجبور کردیں کہ زمین پر عوام بھی رہتے ہیں جو اپ کو ووٹ دیتے ہیں۔

سہیل کاکا خیل نے پی ٹی آئی کی شکست پر مزید بات کرتے ہوئے کہا کہ  لیاقت خٹک کے بیٹے نے نوشہرہ میں ناظم، نائب ناظمین اور کونسلرز کی ایک میٹینگ بلائی تھی جس میں انھوں نے موجودہ اُمیدوار کو سپورٹ نہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا جو حکمران جماعت کی شکست کا سبب بنی۔ انھوں نے مزید کہا کہ پاکستان مسلم لیگ نواز کے اختیار ولی ایک مضبوط اُمیدوار تھے جنھوں نے ماضی میں چار الیکشن لڑے اور کچھ ووٹوں سے ہار جاتے تھے جبکہ دوسری جانب پی ڈیم ایم اتحاد نے موجودہ امیدوار کو شکست سے دو چار کیا۔ سہیل کاکا خیل کہتے ہے پشتون اور خیبرپختونخوا متکبرانہ رویوں کو پسند نہیں کرتا اور اج ایک واضح پیغام پرویز خٹک اور تحریک انصاف کو پہنچا دیا گیا کہ آج بھی عوام کے پاس ووٹ کی طاقت قائم ہے

عبداللہ مومند اسلام آباد میں رہائش پذیر ایک تحقیقاتی صحافی ہیں۔

%d bloggers like this: