عربی زبان کی لازمی تعلیم سے دین و دنیا میں بہتری آئے گی: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی میں عربی کی لازمی تعلیم کا بل منظور

 ایوان بالاء کی قائمہ کمیٹی برائے وفاقی تعلیم، پیشہ ورانہ تربیت، قومی تاریخ و ادبی ورثہ کا اجلاس قائم مقام چیئر پرسن سینیٹر انجینئر رخسانہ زبیری کی زیر صدارت پارلیمنٹ لاجز میں منعقد ہوا۔ قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں سینیٹر محمد جاوید عباسی کی جانب سے 17اگست 2020 کو سینیٹ اجلاس میں متعارف کرائے گئے تعلیمی اداروں میں طالبعلموں کو حراساں کرنے کے تحفظ کے بل 2020، سینیٹر محمد جاوید عباسی کی جانب سے 17اگست 2020کو سینیٹ اجلاس میں متعارف کرائے گئے عربی زبان کی لازمی تعلیم کے بل 2020، سینیٹر محمد علی سیف کے 13اگست 2020وکوسینیٹ اجلاس میں اٹھائے گئے عوامی اہمیت کے معاملہ برائے اے لیول کرنے والے طالبعلموں کے نتائج کے حوالے سے الجھاؤ، سینیٹر محمد علی سیف کے 13اگست 2020وکوسینیٹ اجلاس میں اٹھائے گئے عوامی اہمیت کے معاملہ برائے میرٹ کے خلاف احساس پروگرام کے وظائف دینے کے معاملے، سینیٹر مرزا محمد آفریدی کی پاکستان انسیٹیوٹ آف فیشن اینڈ ڈیزائن میں بطور ممبر نامزدگی کے علاوہ ڈیلی ویجز اساتذہ کی تنخواہوں کی عدم فراہمی اور مستقل کرنے کے معاملات کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔


قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں سینیٹر محمد جاوید عباسی کی جانب سے 17اگست 2020کو سینیٹ اجلاس میں متعارف کرائے گئے تعلیمی اداروں میں طالبعلموں کو حراساں کرنے کے تحفظ کے بل 2020کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔ سینیٹر محمد جاوید عباسی نے کہا کہ بے شمار طلباء و طالبات کی طرف سے حراساں کئے جانے کے حوالے سے شکایات آ رہی تھیں، سکولوں، کالجوں، مدرسوں، ٹیوشن سنٹرز اور اعلیٰ تعلیمی اداروں سے بھی شکایات سامنے آئی ہیں۔ اس حوالے سے سینیٹ اجلاس میں معاملہ اٹھایا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ایچ ای سی کی طرف سے جو جواب آیا ہے اُسے پڑھ کر مایوسی ہوئی ہے۔ اگر ایچ ای سی میرے بل کو پڑھ لیتا تو ایسا جواب نہیں دیتا۔

میرے بل میں بچوں حراساں کرنے سے تحفظ کے ساتھ ساتھ سزائیں اور طریقہ کار بھی موجود ہے۔ سیکرٹری وفاقی تعلیم نے کہا کہ یہ انتہائی اہم اور سنجیدہ مسئلہ ہے لیکن اسلام آباد کی حد تک یہ پالیسی بنائی ہے۔ ایچ ای سی نے بھی 2011میں اس حوالے سے گائیڈ لائن بنائی ہوئی ہیں۔ سینیٹر جاوید عباسی کے ساتھ مل کر بل کو مزید موثر بنایا جا سکتا ہے۔وزارت وفاقی تعلیم نے بھی اس حوالے سے تجاویز تیار کی ہیں جن کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

 سینیٹرڈاکٹر سکندر مندرو نے کہا کہ یہ انتہائی اہم ایشو ہے۔ وزارت وفاقی تعلیم کو چاہئے تھا کہ پہلے ہی سفارشات بھیج دیتا یا سینیٹر جاوید عباسی سے میٹنگ کر کے جائزہ لیا جا سکتا تھا۔ کمیٹی کا کام بل کو منظور یا نا منظور کرنا ہے۔ ہمیں قانون کے مطابق کام کرنا چاہئے۔ قائمہ کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ قائمہ کمیٹی کے اس ایجنڈے کو فی الحال موخر کر کے اگلے ہفتے میٹنگ بلا کر فیصلہ کیا جائے گا۔
قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں سینیٹر محمد جاوید عباسی کی جانب سے 17اگست 2020کو سینیٹ اجلاس میں متعارف کرائے گئے عربی زبان کی لازمی تعلیم کے بل 2020کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔ سینیٹر جاوید عباسی نے کہا کہ ہم سب مسلمانوں کو عربی زبان آنی چاہئے ہم قرآن اور نماز پڑھتے ہیں مگر ہمیں معلوم نہیں ہوتا کہ اس کا مطلب کیا ہے۔ عربی زبان آنے سے ہمارے دین و دنیا کے معاملات میں بہتری آ سکتی ہے۔ عربی زبان دنیا کی پانچویں بڑی زبان ہے 315ملین لوگ عربی زبان بولتے ہیں اور یہ 25ممالک کی سرکاری زبان بھی ہے۔

ملک میں عربی زبان کی تعلیم سے مشرق وسطیٰ میں کام کرنے والے پاکستانیوں کو بھی فائدہ ہو گا اور ملک میں زر مبادلہ بھی زیادہ آئے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہم آئین کی مسلسل خلاف ورزی کر رہے ہیں جس میں کہاگیا ہے کہ اُردوکو 15سال کے اندر دفاتر میں سرکاری زبان کے طور پر لایا جائے گا مگر ابھی بھی انگلش زبان میں کام ہوتا ہے۔سینیٹر مولوی فیض محمد نے کہا کہ عربی زبان پاک پیغمبر ﷺ کی زبان بھی ہے اور اللہ تعالیٰ کا حکم بھی ہے کہ عربی زبان سیکھو۔ قائمہ کمیٹی نے اراکین کی رائے سے بل کو متفقہ طور پر منظورکر لیا۔


قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں سینیٹر محمد علی سیف کے 13اگست 2020وکوسینیٹ اجلاس میں اٹھائے گئے عوامی اہمیت کے معاملہ برائے اے لیول کرنے والے طالبعلموں  کے نتائج کے حوالے سے الجھاؤ کے حوالے سے چیئر پرسن کمیٹی سینیٹر انجینئر رخسانہ زبیری  نے کہا کہ اس بل کا پہلے ہی تفصیل سے جائزہ لیا گیا ہے اور معزز سینیٹر کے تحفظات دور کر دیئے گئے ہیں چنانچہ کمیٹی معاملے کو ختم کر تی ہے۔ قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں سینیٹر محمد علی سیف کے 13اگست 2020وکوسینیٹ اجلاس میں اٹھائے گئے عوامی اہمیت کے معاملہ برائے میرٹ کے خلاف احساس پروگرام کے وظائف دینے کے معاملہ کے حوالے سے سینیٹر انجینئر رخسانہ زبیری  نے کہا کہ اس بل کا پہلے ہی تفصیل سے جائزہ لیا گیا ہے اور معلومات فراہم کر دی گئی ہیں اور کمیٹی معاملے کو ختم کر تی ہے۔
قائمہ کمیٹی نے سینیٹر مرزا محمد آفریدی کی پاکستان انسیٹیوٹ آف فیشن اینڈ ڈیزائن میں بطور ممبر نامزدگی کی منظور ی دے دی۔
سینیٹر انجینئر رخسانہ زبیری نے کہا کہ ڈیلی ویجز اساتذہ کی تنخواہوں کی عدم فراہمی اور مستقل کرنے کے معاملات کاپورے ملک میں مسئلہ بنا ہو ا ہے بہتر یہی ہے کہ اس حوالے سے قانون سازی کی جائے۔ اساتذہ آئے دن ہڑتال پر ہوتے ہیں ان کے مسئلے کو مستقل طور پر حل کرنا چاہئے۔ ڈیلی ویجز اساتذہ کی نمائندہ وفد نے قائمہ کمیٹی کو بتایا کہ فیڈرل ڈائریکٹریٹ ایجوکیشن وزارت وفاقی تعلیم کے ماتحت کام کر رہا ہے اور یہاں تین ہزار کے قریب اساتذہ گزشتہ دس سالوں سے تدریسی عمل میں مصروف ہیں۔ اُن کو نہ ہی وقت پر تنخواہیں دی جاتی ہیں اور نہ ہی مستقل کیا جا رہا ہے۔ ان اساتذہ میں پی ایچ ڈی، ایم فل  اور ماسٹرز ڈگری کے حامل اساتذہ بھی شامل ہیں۔ عدالت نے بھی ہمیں مستقل کرنے کی سفارش کی ہے مگر اس پر عملدرآمد نہیں کیا جا رہا۔ بد قسمتی کی بات ہے کہ جولائی 2020سے اب تک ہمیں ایک روپیہ تنخواہ نہیں دی گئی۔

سکولوں میں اساتذہ کی تعداد کم ہونے کی وجہ سے ڈیلی ویجز کو ہائر کیا جاتا ہے مگر اُن کے مسائل حل نہیں کئے جاتے۔ سیکرٹری وفاقی تعلیم اور ڈائریکٹر ایجوکیشن نے کمیٹی کو بتایا کہ ضرورت کے تحت ان اساتذہ کو ڈیلی ویجز پر ہائر کیا گیا تھا۔طالبعلموں  سے فنڈ حاصل کر کے ان اساتذہ کو تنخواہ دی جاتی تھی جس کو بند کر دیا گیا ہے۔ تنخواہوں کے لئے سپلیمنٹری گرانٹ حاصل کرنا پڑتی ہے جس میں وقت لگتا ہے۔2011میں خورشید شاہ کی کمیٹی نے کچھ اساتذہ کو ریگولر کروایا تھا اُس کے بعد کوئی ریگولیشن نہیں کی گئی۔ اساتذہ کی آسامیاں بھی خالی پڑی ہیں اور کچھ اساتذہ اپ گریڈیشن کے حوالے سے عدالت میں گئے جس کی وجہ سے پرموشن نہیں ہو سکی اور سینارٹی لسٹ بھی نہیں بن سکی۔ حکم امتناعی حاصل کیا گیا ہے۔ان کو ریگولر کرنے کی پالیسی کیلئے اسٹبلشمنٹ ڈویژن، وزارت قانون و انصاف اور وزارت خزانہ بھی شامل ہوتے ہیں۔ اس حوالے سے ایک سمری بھیجی گئی ہے مگر اب تک کچھ عملدرآمد نہیں ہوا۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ گریڈ 1سے 15کیلئے وزارت قانون و انصاف میں ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی بنائی گئی ہے اور گریڈ 16اور اوپر کے گریڈ کے اساتذہ کیلئے معاملہ ایف پی ایس سی کو بھیجا کیا گیا ہے۔ ایف پی ایس سی کو 551کیسز جبکہ گریڈ 1سے 15کے اساتذہ کے 1136کیسز اعلیٰ سطحی کمیٹی کو بھیجے گئے ہیں کل 1724آسامیوں پر بھرتی کی جائے گی۔ جس پر سینیٹر منظور احمد کاکڑ نے کہا کہ اساتذہ کے مسائل حل کرنا ہم سب کا فرض ہے۔ملک میں پرائیویٹ تعلیمی اداروں نے تباہی مچا رکھی ہے۔ عدالت کے احکامات کے برخلاف ادارے اپنی مرضی کی فیسیں وصول کر رہے ہیں اورکوئی پوچھنے والا نہیں رہا۔ جس پر قائمہ کمیٹی نے وزارت وفاقی تعلیم و پیشہ وارانہ تربیت کو ہدایت کی کہ فوری طور پر ڈیلی ویجز اساتذہ کو تنخواہ ادا کی جائے اور وزارت قانون، اسٹبلشمنٹ ڈویژن اور وزارت خزانہ کے ساتھ مل کر ان اساتذہ کو مستقل کرنے کیلئے اقدامات اٹھائے جائیں۔

 

عبداللہ مومند اسلام آباد میں رہائش پذیر ایک تحقیقاتی صحافی ہیں۔

%d bloggers like this: