عمران خان ایک ہی جلسے سے دماغی توازن کھو بیٹھے ہیں اب بس ایک ہی چیز چاہیے جو کہ ۔۔۔ مریم نواز کا نے خطاب میں کیا کچھ کہا؟ جانیے

کراچی(ویب ڈیسک)پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے تحت کراچی کے باغ جناح میں جلسہ شروع ہوگیا جس سے قائدین کے خطاب کا سلسلہ جاری ہے۔باغ جناح میں سجائے گئے پنڈال کے اسٹیج پر سربراہ پی ڈی ایم مولانا فضل الرحمان، شاہد خاقان عباسی، مریم نواز اور بلاول زرداری سمیت دیگر اعلیٰ



قیادت موجود ہے۔جلسے میں اسٹیج سیکرٹری کے فرائض پی پی کے رہنما عاجز دھامرا اور سعید غنی نے سرانجام دیے۔ اپوزیشن کے جلسے میں ہزاروں افراد شریک ہیں جب کہ خواتین بھی بڑی تعداد میں موجود ہیں۔کراچی جلسہ گاہ کے مناظر — فوٹو: مسلم لیگ (ن)جلسے میں سیاسی جماعتوں کے کارکنان نے بینرز اور پلے کارڈ اٹھارکھے ہیں جن پر مہنگائی اور دیگر مطالبات درج ہیں۔اس کے علاوہ صوبے کے مختلف علاقوں سے پیپلز پارٹی، مسلم لیگ ن اور دیگر اپوزیشن جماعتوں کے قافلے مقامی رہنماؤں کی قیادت میں کراچی پہنچے ہیں۔کراچی میں جلسہ عام سے خطاب میں مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے کہنا تھا کہ کراچی والوں نے جتنی محبتیں مجھ پر نچھاور کیں، پوری زندگی اس محبت کا قرض ادا نہیں کرسکوں، انشاءاللہ کراچی سے رفاقت پوری زندگی نبھاؤں گی۔مریم نواز کا کہنا تھاکہ گزشتہ روز ایک شخص چیخ چیخ کر اپنی ناکامی اور شکست کا ماتم کررہا تھا، ابھی ایک جلسہ ہوا اور تم گھبرانا شروع ہوگئے، ایک ہی جلسے میں دماغی توازن کھو بیٹھے ہو، وزیراعظم کی کرسی کی ہی لاج رکھ لی ہوتی، تقریر کے ایک ایک لفظ اور آپ کی حرکات سکنات سے خوف جھلک رہا تھا اور یہی خوف آپ کے چہرے پر قوم دیکھنا چاہتی ہےرہنما ن لیگ کاکہنا تھاکہ نواز شریف نے آپ کے دھرنے میں پریشر نہیں لیا، آپ کو حسرت رہے گی نواز شریف نے کیوں تقریر میں تمہارا نام نہیں لیا کیونکہ بڑوں کی لڑائی میں بچوں کا کوئی کام نہیں ہے، آپ پہلے تابعدار ملازم تھے، اب وزیراعظم کی کرسی پر بیٹھ کر تنخواہ دار ملازم ہو۔مریم نواز کا کہنا تھا کہ وہ عمران خان کا نام لینا پسند نہیں کرتیں اور نہ ہی اسے وزیراعظم تسلیم کیا ہے، مجھے کہا کہ بچی ہے اور نانی ہے، میں دو بچوں کی نانی ہوں اور فخر کرتی ہوں، یہ بہت خوبصورت رشتہ ہے، آپ نے یہ بات کرکے مقدس رشتے کی توہین کی ہے۔ مزید تفصیلات پیپلز پارٹی کراچی ڈویژن کے صدر سعید غنی کے مطابق جلسے کے لیے 180 فٹ لمبا، 60 فٹ چوڑا اور 20 فٹ اونچا اسٹیج بنایا گیا۔سعید غنی کا کہنا ہے کہ شرکاء کے لیے پانی کی وافر مقدار میں فراہمی کے لیے گراؤنڈ میں مختلف مقامات پر سبیلیں لگائی گئی ہیں جب کہ پیپلز ڈاکٹرز فورم کی جانب سے میڈیکل کیمپ بھی لگایا گیا۔سیکیورٹی انتظاماتجلسہ گاہ اور اطراف میں سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں اور پولیس اہلکاروں کے ساتھ ساتھ بم ڈسپوزل اسکواڈ بھی تعینات کیا گیا ہے۔ وی آئی پیز کے لیے مخصوص راستے کے علاوہ اسٹیج کی سیکیورٹی پر پولیس کے اسپیشل سیکورٹی یونٹ کے کمانڈوز تعینات کیے گئے جب کہ جلسہ گاہ اور اسٹیج کے اطراف کی نگرانی سی سی ٹی وی کیمروں کے ذریعے کی گئی۔







%d bloggers like this: